انٹرویوز

انٹرویو: شاعرمملکتِ خیال کا اکلوتا شہری ہوتا ہے: حامد یزدانی (حصہ اول)

کینیڈا میں مقیم شاعر،ادیب اور براڈ کا سٹرکا طارق کامران سے مکالمہ
شاعر، ادیب اور براڈ کاسٹر حامدیزدانی کا تعلق ایک معروف ادبی وصحافتی گھرانے سے ہے، آپ کے والدیزدانی جالندھری کا شمار صاحب اسلوب سینئر شعرا میں ہوتا ہے، حامد یزدانی کے چار شعری مجموعے ”ابھی اک خواب رہتا ہے“، ”رات دی نیلی چپ“، ”گہری شام کی بیلیں ِِ“ اور ”اطاعت“ منظر عام پر آچکے ہیں۔ آپ اردو، پنجابی اور انگریزی میں لکھتے ہیں، اور 1999ء سے کینیڈا میں مقیم ہیں۔ وہاں کے سماجی خدمات کے ادارے سے وابستہ ہیں، کینڈا جانے سے قبل وہ لاہور کے ادبی حلقوں کی ایک جانی پہچانی اور متحرک ادبی شخصیت تھے۔

دو بار حلقہ ارباب ذوق کے جوائنٹ سیکرٹری رہے، تین سال ریڈیو ڈویچے ویلے (وائس آف جرمنی) کی اردو سروس سے منسلک رہے انہوں نے بعدازاں اسی ادارے کے لاہور میں بیورو چیف کے طورپر خدمات انجام دیں، قبل ازیں کئی سال تک ریڈیوپاکستان لاہور سے ایک گھنٹے کا طویل پروگرام پیش کیا۔ معروف ادبی جریدے بیاض کے لئے جناب خالد احمد کی معاونت کرتے رہے، جبکہ ”فانوس“ کے مدیر معاون کے طور پر کام کیا۔ انہوں نے اہم ادبی اور سیاسی شخصیات کے دلچسپ انٹرویوز کئے ہیں۔ ذیل میں ان سے ہونیوالی ایک گفتگو ”ریڈنگ وے“کے قارئین کی نذر کی جا رہی ہے۔
طارق کامران: حامد، آپ کا تعلق ادب و صحافت کے بہت معتبرومحترم ”یزدانی گھرانے“ سے ہے اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے گھر کا ماحول ادب پرور تھا؛ خالد، ساجد اور ماجد یزدانی سب معروف شاعر ہیں بلکہ یزدانی صاحب کے تو پوتے بھی اب صاحبِ دیوان ہیں۔۔۔ لیکن آپ مجھے یہ بتائیے کہ خود آپ نے شعر کہنا کس عُمر میں شروع کیا؟
حامد یزدانی: یہ تو ٹھیک طرح سے یاد نہیں۔ لاہور کے ایک پُرانے، تاریخی اور میراؔ جی کے مسکن علاقے مزنگ کے کوٹ عبداللہ شاہ پرائمری سکول کی ہفتہ وار ”بزمِ ادب“ میں علامہ اقبال، حالی، اسماعیل میرٹھی، والد صاحب جناب یزدانی جالندھری اور ”بچوں کی دُنیا“ میں شائع ہونے والی بڑے بھائی خالد یزدانی اور دوسرے شعرا کی موضوعاتی نظمیں سناتے سناتے جب میں گورنمنٹ کمیونٹی ہائی سکول پہنچا تو وہاں راز کاشمیری صاحب اور انور ملک صاحب جیسے شعراکی استادانہ شفقتیں اور حوصلہ افزائی حاصل ہو گئی۔ اور پھر والد صاحب کے ساتھ ہی ماڈل ٹاؤن میں ڈاکٹر عبدالرشید تبسم کے ادارہ ادب کے پندرہ روزہ، ڈاکٹر تبسم رضوانی صاحب کی مجلسِ شمعِ ادب، خالد شفیق کی مجلسِ اردو اور اردو بازار میں مجلسِ سیرت کے ماہانہ مشاعروں میں جانے کے مواقع میسر آنے لگے۔ گھر میں اردو اور پنجابی ادب کے تمام ہی جرائد باقاعدگی سے آتے تھے۔ اُ س پر والد صاحب کا قیمتی ذخیرہ کتب اور ان کے شاعر دوستوں کی آمد و رفت۔۔۔ امّی جان کا شعری ذوق بھی کمال کا تھا، کلاسیکی شعرا کے کیا کیا شعر انہیں ازبر تھے۔ یہ سب دیکھے دیکھتے، سُنتے سُنتے جانے کب بے ساختہ کوئی شعر سرزد ہو گیا ہو، کون کہہ سکتا ہے۔۔۔ ٹھیک طرح سے یاد نہیں۔ ہاں اتنا کہہ سکتا ہوں بہت پُرانی بات ہے۔
طارق: تو گویا یہ گورنمنٹ کالج لاہور کے دور سے بھی پہلے کی بات ہے!
حامد: جی ہاں، کالج کی زندگی شروع ہونے سے پہلے ہی ادبی زندگی کا آغاز ہو گیا تھا۔ مگر اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ گورنمنٹ کالج نے مجھے بہت کچھ دیا۔ رسمی تعلیم، غیر رسمی تربیت اور ان گنت اور اَن مِٹ یادوں کے خزانے کی صورت میں۔ علامہ اقبال، مولانا محمد حسین آزاد، پطرس بخاری، صوفی تبسم، فیض احمد فیض، حفیظ ہوشیارپوری، ن، م، راشد،اشفاق احمد، بانو قدسیہ، قدرت اللہ شہاب، واصف علی واصف، سرمد صہبائی، مستنصر حسین تارڑ، انیس ناگی اور کتنے ہی ناموروں کے ادبی کارناموں کی گونج اس کالج کی عمومی فضا ہی میں گُھلی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ یہ سن1977ء کی بات ہے۔ یہاں مجھے جن اساتذہ سے کسی نہ کسی انداز میں، کسی نہ کسی شعبے میں استفادے کا موقع ملا وہ اپنی اپنی جگہ معتبر اور لائقِ احترام تھے۔ پروفیسر مرزا محمد منور، ڈاکٹر سلیم اختر، پروفیسر شاہد ملک، پروفیسرخالد مسعود (کے۔ ایم) صدیقی، ڈاکٹرخواجہ عبدالحمید یزدانی، ڈاکٹر آغا یمین، پروفیسر محمد احمد، پروفیسر محمد سلیم، پروفیسر شریف اصلاحی، پروفیسر جعفر بلوچ، پروفیسر غلام الثقلین نقوی، ڈاکٹر طاہر تونسوی، پروفیسر مظفر بخاری، پروفیسر عاصم صحرائی، پروفیسر عباس نجمی، پروفیسر منیر لاہوری، پروفیسر صابر لودھی، پروفیسر مشرف انصاری اور پروفیسر افضل علوی کے نام ذہن میں آرہے ہیں۔ یہاں میں مجلّہ ”راوی“ کی مجلسِ ادارت کا رُکن رہا، مجلسِ اقبال، پنجابی مجلس، انجمنِ فارسی، سوندھی ٹرانسلیشن سوسائٹی اور دیگر ادبی تنظیموں کا رُکن اور عہدیدار بھی رہا۔ بطور ”راوین“ کالج میں میری حوصلہ افزائی کا سلسلہ گویا پہلے دن سے ہی آغاز ہو گیا تھا۔ سالِ اوّل میں ہی کالج کے طلبہ و طالبات کا جو پہلا کُل کالج انعامی مشاعرہ بخاری آڈیٹوریم میں منعقد ہوا جس میں سالِ اوّل سے لے کر سالِ ششم تک کے طلبہ و طالبات نے غالبؔ کے مصرع طرح: ”جو تِری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا“ پر اپنی غزلیں پیش کیں, میری غزل کو پہلا انعام مل گیا۔ حالانکہ مجھے تو اِس مشاعرے میں فرخندہ حیات اور احمد ندیم رفیع کی غزلیں زیادہ اچھی لگی تھیں۔ سلمان باسط صاحب سے تب تک یا تو تعارف نہ تھا یا وہ ابھی گورنمنٹ کالج آئے نہیں تھے۔۔۔ خیر، پھر مجھے متعدد شہروں میں منعقدہ بین الکلیاتی اور بین الجامعاتی مشاعروں میں کالج کی نمائندگی کا اعزاز بھی تو حاصل ہو گیا تھا۔ اسی دوران میں پاک ٹی ہاؤس اور حلقہ اربابِ ذوق کے چند ایک اجلاسوں میں، نوجوانوں کی ادبی تنظیمیوں حلقہ تصنیفِ ادب، اہلِ صریرِ خامہ، ینگ رائٹرز ایکویٹی، بزمِ شعرو سخن، انجمنِ فکرِ ادب، گلستانِ ادب اور دبستانِ اہلِ قلم کی تقریبات میں اکثر شرکت کے مواقع ملے جہاں غضنفر علی ندیم، ناہید شاہد، منفعت عباس رضوی، زاہد گیلانی، اقبال نواز، ہاشم بن احمد، طاہر اسلم گورا، امجد طفیل، ضیا الحسن،آفتاب حسین، زاہد حسن، زاہد حسین، اظہر غوری، ندیم بلال (سلیم الرحمٰن)، (ڈاکٹر) طارق عزیزاور آپ یعنی طارق کامران جیسے نوجوان لکھاریوں سے تعارف و ملاقات کی صورت بن گئی۔
طارق: پاک ٹی ہاؤس تو اُن دنوں اپنے شباب پر تھا۔مجھے یاد ہے۔ میں اوکاڑہ سے جب بھی لاہور آتا ادھر کا چکر ضرور لگاتا تھا۔آپ تو خیر بعد ازاں دو بار حلقے کے جائنٹ سیکرٹری بھی رہے اورتقریباً مستقل ٹی ہاؤسیوں میں شمار ہونے لگے تھے۔۔۔ کیا شان دار ماحول تھا ان دنوں۔۔۔ صفِ اوّل کے تمام ہی تخلیق کار باقاعدگی سے بلکہ ہر شام یہاں آتے تھے۔
حامد: جی۔۔۔ بہت رونق ہوتی تھی۔ یہ چائے خانہ دیکھ کر اگر کسی کو ملکہ الزبتھ کے زمانے میں لندن کا تاریخی میخانہ جل پری (میرمیڈ ٹیورن) یاد آجائے تو شائد حیرت کی بات نہ ہوجہاں جان ڈن، بین جانسن، جان فلیچر، فرانسس بیومنٹ، ٹامس کوریئٹ،جان سیلڈن،رابرٹ برُوس کاٹن،رچرڈ مارٹن، رچرڈ کرُو،ولیم سٹریچی اور بعض کے بقول ولیم شیکسپئر بھی گویا اُس دور کے کتنے ہی نام ور تخلیق کار اور دانش ور مِل بیٹھ کر تخلیق اور تخلیقی عمل کی گتھیاں سلجھایا یا الجھایا کرتے تھے ”شرفا کی برادری“ کے روپ میں اپنا ”حلقہ اربابِ ذوق“ بپا کیا کرتے تھے۔اب سوچوں تویہاں ٹی ہاؤس میں بھی کیا کیا ہستیاں تھیں کہ جمع ہوتی تھیں۔ شام ڈھلتے ہی ادیبوں شاعروں کی گویا ایک رنگا رنگ کہکشاں سی اس دھواں دھار آسماں پر جگمگانے لگتی تھی۔ میں پہلی بار ٹی ہاؤس اپنے دوستوں افضل اقبال (حنیف) اور بابر شوکت کے ساتھ گیا تھا شہرت بخاری اور انجم رومانی کو ایک مشاعرے میں مدعو کرنے اور پھر میرے دوست اور محلے دار نوجوان ادیب وسیم گوہر ایک شام مجھے اصرار کر کے باقاعدہ ٹی ہاؤس لے گئے جہاں علی اصغر عباس سمیت بہت سے نوجوان ادیبوں شاعروں سے ملاقات ہو گئی اور پھر ہوتی رہی۔ سینئر ادیبوں میں انتظار حسین، انور سجاد، مبارک احمد، اسرار زیدی، اکبر کاظمی، مسعود اشعر، انیس ناگی، شہرت بخاری، انجم رومانی، اسرار زیدی، اکبر کاظمی، سیف زلفی، زاہد ڈار، اقبال ساجد، محمد خالد، جیلانی کامران، سعادت سعید،اور کئی دوسرے وہاں موجود تھے۔
طارق: بہت اہم لوگوں کا ذکر کر رہے ہیں آپ اور بہت اہم دنوں کا لیکن پہلے آپ ذرا یہ بتا دیجیے کہ جب یزدانی صاحب کو آپ کی شعر گوئی کے آغاز کا پتہ چلا تو اُن کا ردِ عمل کیا تھا؟
حامد: ظاہر ہے ہائی سکول کی بزمِ ادب میں سُنانے کے لیے وہ موضوعاتی اصلاحی، اخلاقی سی نظمیں ہوتی تھیں؛ موسموں کے بارے میں، رشتوں کے بارے میں، احترام اور محبت کے موضوع پر، دین و وطن سے وفا داری کے حوالے سے۔۔۔ تو والد صاحب بخوشی اصلاح فرما دیتے۔
طارق: چلیے یہ بات تو طے ہوگئی کہ شاعری کی ابتدا آپ نے نظم سے کی اب یہ بھی بتا دیجئے کہ غزل گوئی کا آغاز کب اور کیسے ہُوا؟
حامد: ابھی میں نے ذکر کیا ناں ماڈل ٹاؤن کے طرحی مشاعرے کا بس اُسی میں مصرعِ طرح موصول ہوا تھا:”موسم یہ کہہ رہا ہے ابھی انتظار کر“۔ میں ہائی سکول میں تھا اُن دنوں۔ غزل کہی،چوک جنازہ گاہ سے ماڈل ٹاؤن کی بس پر سوار ہوا اور مشاعرہ گاہ جا پہنچا۔ مشاعرہ ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔ والد صاحب وہاں پہلے سے موجود تھے۔ تبسم صاحب بھی ان کے قریب ہی بیٹھے تھے۔ میں نے اپنی غزل والد صاحب کے سامنے کر دی۔ انہوں نے دیکھا، مُسکرائے اور بولے:”اچھی غزل ہے، مگر فی الحال اپنی تعلیم پر ہی توجہ دیجئے۔“ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا تبسم صاحب نے غزل والد صاحب کے ہاتھ سے لے لی:”ہمیں بھی دکھائیے کیا کہتے ہیں برخوردار“۔ غزل پڑھی تو والد صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے مُسکرائے: ”مبارک ہو یزدانی صاحب! خالد اور ساجد کے بعد ماشا اللہ آپ کے گھرانے میں ایک اور شاعر کا اضافہ ہو گیا ہے“۔ پھر میری طرف دیکھتے ہوئے بولے: ”آپ یہ غزل مشاعرے میں سُنائیں آج“۔ میں نے والد صاحب کی طرف دیکھا تو وہ قدرے توقف کے بعد بولے: ”چلیے ٹھیک ہے، سُنا دیجیے“۔ میں نے وہ سیدھی سادہ سی غزل پیش کر دی۔
اتنا نہ بیقرار دلِ بیقرار کر
آئیں گے وہ ضرور مِرا اعتبار کر
حامدؔ یہ بے وفا کی محبت کی دین ہے
راتوں کو جاگ جاگ کے تارے شمار کر
اس مشاعرے میں والد صاحب اور میزبان اور مستقل صدرِ مشاعرہ تبسم صاحب کے علاوہ منظور احسن عباسی، ذوقی مظفر نگری، سیّد سلیم واسطی، بشیر رزمی اور چند اور بھی قابلِ ذکر شعراموجود تھے۔
طارق: تو یہ راتوں کو جاگنے اور تارے وغیرہ شمار کرنے کی لَت تب سے لگی ہوئی ہے! محبت اور وفا اور بے وفائی کے مراحل اور وہ عُمر!؟ ڈاکٹر ضیا الحسن نے ”گہری شام کی بیلیں“ کے فلیپ میں جو آپ کی طبیعت میں رومانویت کے عنصر کی نشان دہی کی ہے وہ ٹھیک ہی ہے۔
حامد: ایسا کچھ نہیں تھا۔ دراصل اُس زمانے میں ایسے ہی اشعار سنتے اور پڑھتے تھے سو کہہ دیئے یا ہو گئے بس۔۔۔کیا محبت تھی! فقط قافیہ پیمائی تھی۔
طارق: تو محبت کب ہوئی؟
حامد: کون سی محبت؟
طارق: کتنی محبتیں ہوتی ہیں، جناب؟
حامد: میرا مطلب ہے وہ جو سامنے والے انسان سے ہوجاتی ہے یا۔۔۔
طارق: سامنے تو فی الحال میں بیٹھا ہوں آپ کے۔۔۔ زہے نصیب!(قہقہہ)
حامد: ہاں، ہاں وہی تو کہہ رہا ہوں آپ سے بھی محبت ہے کہ دوستی ہے اور پھر کتنے ہی پیارے رشتے انسان بناتا ہے زندگی کے سفر میں، سب میں کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی روپ میں محبت مہکتی رہتی ہے۔ یہ تو ہوئی اِس دنیا کی محبت جو اپنے طور پر بہت اہم اور قابلِ قدر ہے مگر تخلیق کار ایک اور دنیا کا باشندہ بھی تو ہوتا ہے ناں۔ آپ اسے تخیّل کی دنیا کہہ سکتے ہیں، تخلیقی دنیا کہہ سکتے ہیں جس کا نام نہاد خالق و فرماں روا بھی وہ خود ہوتا ہے اور باشندہ بھی خود ہی ہوتا ہے۔ میرے خیال میں مکمل شہریت اُس نے اِس مملکت کی حاصل کی ہوتی ہے۔
طارق: تو دوہری شہریت رکھتا ہے شاعر ادیب!
حامد: دوہری نہیں بلکہ ”ڈیوڑھی“ کہنا چاہیے۔ سامنے کی دنیا کا تو بس وہ آدھ ادھورا سا باسی ہوتا ہے۔ پورا شہری تو وہ اپنی ہی دنیا کا ہوتا ہے۔ تو اس طرح دو نہیں بس ڈیڑھ دنیا کا باشندہ ہوتا ہے وہ۔اور اصل میں محبت بھی وہ اسی سے کرتا ہے۔ خود غرض کہِیں کا! بظاہر سانسیں یہاں سے کشید کرتا ہے مگر ان سے آکسیجن اپنی اصل دنیا کو فراہم کررہا ہوتا ہے۔ منیر نیازی جب کہتے ہیں کہ ”عُمر میری تھی مگر اُس کو بسر اُس نے کِیا“ تو یہ ”وہ“ میرے نزدیک وہی ”دوسرا“ ہے جو وہ خود ہی ہے، مگر دوسری شناخت کے ساتھ،اس کے اندر کا تخلیقی فرد۔۔۔جو تجربات اِدھر کرتا ہے اوران کے نتائج اُدھر جا کر اخذ کرتا ہے۔
طارق: تو ساحر لدھیانوی جو یہ کہتے ہیں کہ ”دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں۔جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں“۔۔۔ تو اس میں تو یہ ”لین دین“ یہاں سے یہاں تک ہی کا نہیں لگتا؟
حامد: ہاں، لگتا تو ہے لیکن آپ غور کریں تو دیکھیں گے کہ اِس ”لین دین“ کے طویل مختصر دورانئیے میں وہ بات، وہ تجربہ، وہ واقعہ، وہ حادثہ ایک تخلیقی سفر سے لوٹ بھی چکا ہوتا ہے۔ ایک اور دنیا کی سیر کر کے۔ تخلیق کار کی فنی کائنات کی پُر اسرار وادیوں سے ہوکر، پُر پیچ راستوں کو عبور کر کے، ایک وجدانی سی خوشبو اپنی روح میں سمیٹے ہوئے، ابد گیر ہونے کو تیار۔۔۔!
طارق: جیسے جادوگر پھول کو کبوتر بنا کر فضا میں اُڑا دیتا ہے!
حامد: شائد کچھ ایسے ہی۔ لیکن وہ کس کو کیا بنا کر پیش کرتا ہے اور اس کے بنائے ہوئے کا اثر ہم پر کیا ہوتا ہے اور یہ اثر کب تک رہتا ہے اس بات کا تعیّن فن کار کی صلاحیّت اور تخلیقی قوت کرتی ہے۔ جادوگر کا کرتب دیکھنے والے کی بصارت یا دوسری ظاہری حسیّات کو چکمہ دے کر، وقتی حیرت کی لہریں سی بنا دیتا ہے جبکہ اصل تخلیق کار اپنے فن کے ذریعے قاری کے باطن کو چھونے کا اور اس کے اندر، بہت دور تہہ میں دبی موجوں کو مستقل تحریک دینے کا متمنی ہوتا ہے۔ اچھا فن کار پھول کو پھول کی صورت ہی میں پیش کردے، اس کی ظاہری ہیت و حالت میں بظاہر کوئی تبدیلی نہ بھی متعارف کروائے پھر بھی جب وہ اپنے مَس کے بعد آپ کو آپ ہی کا دیا ہوا تحفہ لوٹائے گا تو آپ کو مختلف محسوس ہو گا۔ اس کی کیفیت بدل گئی ہوگی۔
طارق: وہ کیسے بھلا؟
حامد: دیکھیں، پھول ہر روز ہماری نگاہ سے گزرتے ہیں، ہمیں پیش بھی کیے جاتے ہیں، مگر یہی پھول وینؔ گوخ کی نگاہوں سے دوچار ہوتے ہیں تو ”سن فلاورز“ کی یادگار پینٹنگ کا روپ دھار لیتے ہیں، رِلکےؔ کو میدان میں کِھلے پھولوں میں زمین یا وطن سے وفا شعاری اورقربانی کے شاہکاروں کی صورتیں دکھائی دیتی ہیں۔ یہاں ہمیں غالبؔ یاد آجاتے ہیں: سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہوں گئیں۔ خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوں گئیں۔اب دیکھئے، پھولوں کا گل دستہ جان کِیٹس کو ملتا ہے تو وہ مہکتے گلابوں کی پُر لذّت لطافت سے اس قدر مسحور ہوتے ہیں کہ انہیں پھولوں کی نرم صدائیں سُنائی دینے لگتی ہیں جنھیں وہ ایک دل کش نظم ”گلاب بھیجنے والے ایک دوست کے نام“ میں محفوظ کر لیتے ہیں۔علامہ اقبال کو یہی پھول سر فضل حسین تحفے میں بھیجتے ہیں توان کے اندر کے کنول کی ناشگفتگی ایک تخلیقی حسرت بن کر نظم ہو جاتی ہے۔فیضؔ کو ان کی زندانی کے ایّام میں کوئی اجنبی خاتون عطر کا تحفہ بھیجتی ہے تو وہ ”اے حبیبِ عنبر دست!“ کہہ کر اسے مخاطب کرنے لگتے ہیں کیونکہ جیل کی مکدّر فضا میں گھُلتی خوشبو انہیں کسی گُل بدن تک، گل بدن کسی پھول تک، پھول آزادیئ چمن تک اور آزادیِ چمن کا خیال اس شاخ ِ مھر و وفا تک لے جاتا ہے کہ ”جس کے ساتھ بندھی ہے دلوں کی فتح و شکست“۔ شکیبؔ کو تو پھول ملنے سے پہلے ہی امکانات اور امید کی تتلیاں دکھائی دینے لگتی ہیں:
آج بھی شاید کوئی پھولوں کا تحفہ بھیج دے
تتلیاں منڈلا رہی ہیں کانچ کے گلدان پر
تو ہم دیکھتے ہیں کہ چند پھول، ایک سامنے کا منظر، ایک سادہ سی بات اور دیکھی بھالی صورتِ حال فن کار کی آنکھ سے کہاں کہاں کا سفر کر آتی ہے؛ گہرا اور وسیع سفر۔۔۔ اور کیسے کیسے نت نئے امکانی رنگ اور تخلیقی گوشوں کی خوشبوئیں اپنے دامن میں سمیٹ لاتی ہے۔
طارق: جی واقعی۔ یہ بات تو ہے لیکن ابھی تو ہم بات آپ کی پہلی اور بقول آپ کے سیدھی سادہ سی غزل کی کر رہے تھے جو کافی گہری سی ہوگئی۔ ظاہر ہے تخلیقی عمل پر بات ہوگی تو گہری ہی ہو گی لیکن تخلیقی سمندر کی گہرائیاں ماپنے کا سفر کوئی آساں تو نہیں ہوتا۔آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کو یزدانی صاحب جیسے راہبر دست یاب تھے جو بجاطور پر گہرے پانیوں کے غواص تھے۔ ویسے تو ان سے بہت سوں نے استفادہ کیا اور یقیناً ان کی عمیق نظر سے آپ کو بھی حصہ ملا ہے اور بقول جعفر بلوچ کے ”ضیغمانہ حصہ“ ملا ہے۔ یہ بتائیے یزدانی صاحب کااصلاحِ سخن کا عمومی انداز کیا ہوتا تھا؟
حامد: طارق آپ اور سبھی دوست جانتے ہیں کہ شفقت اور نرمی ان کے کردار کا خاصہ تھیں۔ بہت سے نو واردانِ سخن والد صاحب سے ملنے اور مشورہ سخن کے لیے آتے تھے۔ میں نے دیکھا کہ وہ شعر پردیانت داری سے اپنی رائے دیتے تھے مگر اس پر اصرار نہیں کرتے تھے۔اپنی رائے ٹھونستے نہیں تھے۔ وہ کبھی یہ نہیں کہتے تھے ”یہ غلط ہے“۔ کہتے: ”آپ کا شعر بہت اچھا ہے۔ میرے خیال میں اس میں بہتری کی گنجائش ہے“۔ اور اگر تبدیلی نا گزیر ہوتی تو مصرع کی اصل صورت کو کم سے کم تبدیل کرنے کی کوشش کرتے اور متبادل مصرع تجویز کرتے ہوئے فرماتے:”ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے، آپ دیکھ لیجئے اگر مناسب لگے تو۔۔۔“ سو میری شعری تربیت بھی اسی غیر رسمی اور مشفقانہ انداز میں ہوئی۔ والد صاحب حوصلہ افزائی بہت فراخ دلی سے کرتے تھے۔ کسی کا بھی شعر انہیں اچھا لگتا تو داد دیتے، خوش ہوتے، شاعر کی تعریف کرتے۔ اچھا شعر ان کے باطن پر کیا اثرات مرتب کرتا تھا اس کی جھلک ان کے ہونٹوں کی مُسکان، آنکھوں کی چمک اور چہرے کی بشاشت میں بھی دیکھی جا سکتی تھی۔ ایک طویل ”وااااااہ“ کہتے، سگریٹ کا تقریباً اتنا ہی طویل کش لیتے ہوئے، چائے کی ایک چسکی لیتے،آنکھیں موند کر نشست پر نیم دراز سے ہو جاتے اور شعر کے لطف میں کھو جاتے۔ شعر کی ایسی لطیف پذیرائی کو اب جی ترستا ہے۔ ایک بات اور۔۔۔ والد صاحب شاعری میں اپنے استاد سلسلہِ مصحفی کے قابلِ احترام شاعر مولانا افسر امروہوی صاحب کا انتہائی احترام کرتے تھے اور میں نے انہیں مولانا تاجور نجیب آبادی کا ذکر بھی بہت محبت اور ادب سے کرتے دیکھا اور سُنا۔ وہ اپنے ہمدمِ دیرینہ میرزا ادیب صاحب کو ہمیشہ محبت سے یاد کرتے۔ برسبیلِ تذکرہ یہ بات بھی ہو جائے کہ میری شاعری کے آغاز پر امّی جان کا ردّ ِ عمل ابتدا میں حوصلہ شکن رہا کیونکہ وہ بھی میری تعلیم کی تکمیل کو بہت اہمیت دیتی تھیں اور پھر وہ شاعروں کے بے ترتیب معمولات اور طور طریقوں کی شاکی بھی تھیں۔ انہیں منانے میں بہت دن لگے مجھے۔ تعلیمی امتحانی نتائج میں درجہ اوّل کا تسلسل ان کی پہلی شرط تھا۔ الحمد للہ میں نے انہیں مایوس نہیں کیا۔ یوں ان کی طرف سے بھی منظوری مل ہی گئی۔ جہاں تک والد صاحب کا تعلق ہے وہ امّی جان کی تشویش کا ذکر ضرور کرتے تاہم اصلاح سے ہاتھ نہیں روکتے تھے۔
طارق: سبحان اللہ، واقعی بہت شفیق اور اعلیٰ انسان تھے یزدانی صاحب۔ کیا کہنے! آپ خوش قسمت ہیں کہ ان کی قربتوں اور مشوروں سے زندگی بھر استفادہ کرتے رہے۔۔۔تو شاعری میں آپ کے پہلے اور اصلی اُستاد تو، ظاہر ہے، وہی ہوئے یہ بتائیے اُن کے علاوہ کیا کسی اور سے بھی مشورہئ سخن کا موقع مِلا؟
حامد: جی ہاں، والد صاحب کے حلقہئ تلمذ میں یونس حسرت امرتسری صاحب تھے جو پہلے ساغر صدیقی کے شاگرد تھے ابتدا میں کبھی کبھی انہیں بھی شاعری دکھا لیتا تھا۔ بعد میں بہت عمدہ شاعروں سے دوستی کی صورت بن گئی جن سے روزانہ ملاقاتیں رہتیں اور تازہ ترین شاعری پر تبادلہ تحسین و تنقیص بھی ہوتا۔ محترم علیم ناصری کے صاحب زادے، آپ جانتے ہی ہیں، خالد علیم صاحب کو۔ اُن سے مجلسِ سیرت کے ماہانہ نعتیہ مشاعرے میں تعارف ہوا تھا جو چند سرسری ملاقاتوں کے بعد ایک مستقل دوستی میں بدل گیا۔ خالد علیم وسیع المطالعہ بھی ہیں اور مرصع گو بھی۔ شعر کے فکری اور فنی اسرار و رموز سے ایسی گہری آشنائی تب مجھے تو نہ تھی، سو میں ان سے خوب استفادہ کرتا۔ پھر جدید تر لب و لہجے کے کتنے ہی اہم شاعرادیب میرے حلقہ احباب میں آئے۔ عباس تابش، علی اصغر عباس، جاوید انور، اعجاز رضوی، ضیا الحسن، امجد طفیل، ناہید شاہد، مختار حسین کھرل،اصغر عابد، ارشاد حسین،آفتاب حُسین، راحت سرحدی، قمر رضا شہزاد، سعود عثمانی،جمشید چشتی،عمران نقوی اور کتنے ہی مہربان اور صاحب نظر احباب سے قربت رہی۔ ان سے شعر و ادب پر بات بھی ہوتی اور مشورے بھی۔ ارشاد حسین جنہیں ہم سب ارشاد بھائی کہتے تھے ریڈیو پاکستان لاہور سے وابستہ تھے اور بہت حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ میرے شعری ذوق کو آگے بڑھانے میں سراج بھائی یعنی سراج منیر صاحب اور جناب خالد احمد کی محبت بھری نگاہ اور توجہ کا بہت ہاتھ ہے۔ سراج بھائی فی الواقع ایک غیر معمولی انسان اور بہت نفیس اور صاحبِ طرز تخلیق کار تھے۔ ان دنوں کے ہم سب نوجوان شاعروں کی حسبِ ذوق رہنمائی بھی کرتے تھے اور حوصلہ افزائی بھی۔ اور پھر سب سے اہم خالد احمد۔ میرے شعری سفر کو وسعتِ امکان سے آشنا کرنے میں اگر سراج بھائی پیش پیش تھے تو اس سفر کے نشیب و فراز اور گہرائیوں سے متعارف کروانے میں خالد صاحب سرِ فہرست تھے۔ میرے دل میں ان عظیم ہستیوں کے لیے ہمیشہ خاص جگہ رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ان شا اللہ۔
طارق: جناب، یہ تو ہوا محبت اور عقیدت بھرا تذکرہ آپ کے ادبی محسنوں کا جو واقعی دل نشیں ہے یہ بتائیے کہ متاثر آپ کن کن شعرا کی شاعری سے ہوئے؟
حامد: اردو شاعری کی بات کررہے ہیں آپ؟
طارق: ہاں، میرا خیال ہے ابھی گفتگو اردو تک ہی محدود رکھتے ہیں آگے چل کر بات چیت کا رُخ اگر دوسری زبانوں اور خطّوں کی جانب مُڑ گیا تو پھر ان کا ذکر بھی ہو جائے گا۔ کیا خیال ہے؟
حامد: جی بالکل، جیسا آپ چاہیں۔تو عرض یہ ہے کہ کلاسیکی اور استاد شعرا سے لے کر نئی شاعری تک حسبِ توفیق جو اور جتنا دستیاب ہوا پڑھا۔ میر، سودا، درد، انیس، آتش، مصحفی، غالب،ذوق،حالی،ظفر، آشفتہ، ناسخ، داغ، امیر، جگر،حسرت، اقبال، احسان دانش،فراق اور بہت سے دوسرے اساتذہ کا کلام نظر سے گزرا۔ اور پھر جوش، فیض، ساحر، ن۔ م۔ راشد، میرا جی، مجید امجد،مصطفےٰ زیدی، سردار جعفری، اختر الایمان وزیر آغا،اختر حسین جعفری ہیں نظم میں۔ غزل کی طرف آئیں توناصر کاظمی، احمد مشتاق،احمد ندیم قاسمی،منیر نیازی، فراز، شہزاد احمد،آلِ احمد سرور،خورشید رضوی، عارف عبدالمتین، اقبال ساجدکے نام آتے ہیں۔نئی نعت میں حافظ مظہر الدین، حفیظ تائب،عبدالعزیز خالد، اعظم چشتی، یزدانی جالندھری،مظفر وارثی، حافظ امرتسری، حافظ لدھیانوی، کلیم عثمانی،راسخ عرفانی،علیم ناصری،راز کاشمیری، جعفر بلوچ،خالد علیم اورصبیح رحمانی کے نام ذہن میں آرہے ہیں۔
طارق: یہ تو ہوئی فہرست ان شعرا کی جنہیں آپ نے پڑھا میرا سوال تو یہ تھا کہ کن کی شاعری نے آپ کو زیادہ متاثر کیا تو اس کے جواب میں اتنے سارے نام تو نہیں لے سکتے ناں!
حامد: کیوں نہیں لے سکتے جناب؟ ان میں سے ہر ایک نے کبھی نہ کبھی، اپنے کسی شعر یا مصرع سے ضرور ذہن کو متاثر کیا ہو گا۔کبھی کبھی انسان غیر محسوس انداز میں بھی تو متاثر ہو جاتا ہے۔ ہے کہ نہیں؟
طارق: ضرور ہوتا ہے مگر میرا سوال یہ تھا۔۔۔ چلیں میں اپنے سوال کی زبان کچھ یوں کرلیتا ہوں:کس شاعر کو پڑھنا آپ کو بہت بھاتا ہے؟
حامد: دیکھیں پھر۔۔۔یہ بھی کیفیت پر منحصر ہے۔ اگر کوئی شعر میری موجودہ کیفیت سے مَس کر جاتا ہے تو وہ اس وقت بھلا لگتا ہے۔
طارق: ہم تو یہ سُنتے آئے ہیں کہ شعر پڑھنے سُننے والے کی کیفیت بدل دیتا ہے اپنی تاثیر سے۔۔۔!
حامد: یہ بات بھی اپنی جگہ بالکل درست ہے طارق۔ ایک استعداد شعر کی ہوتی ہے اورایک استعداد اس کے قاری کی۔ دونوں مِل جائیں تو کیا ہی بات ہے۔ تاہم ایسا ہمیشہ ہوتا نہیں۔ وہ جو میں کیفیت کی بات کر رہا تھا وہ یہی ہے کہ کبھی کوئی ایسا شعر آپ پڑھتے ہیں جو آپ کی طبیعت سے لگّا کھاتا ہے اور آپ جھوم جھوم جاتے ہیں مگر کچھ عرصہ بعد وہ دل سے اُتر جاتا ہے۔ ہوتا ہے ناں ایسا؟
طارق: ہاں ہوتا ہے ایسا بھی۔۔۔مگر کچھ شعر، کچھ مصرعے، کچھ نظمیں آپ کو ہمیشہ بھی تو اچھی لگتی رہتی ہیں جیسے آپ مجھ سے پوچھیں تو غزل میں میں آپ کو ظفر اقبال کے اشعار اور نظم میں فیض، منیر اور جالب کی نظمیں، نظمیں مکمل نہ سہی ان کے کچھ ٹکڑے یا مصرعے ضرور سنا سکتا ہوں اور یہ وہ پسندیدہ تخلیقات ہیں جو شائد ہمیشہ سے میرے ساتھ ہیں۔
حامد:میں جانتا ہوں آپ ضرور سُنا سکتے ہیں اور مجھے اندازہ ہے کہ وہ اشعار اور نظمیں ہوں گی کون سی۔۔۔ (مشترکہ قہقہہ)۔ تو یہاں میں بات کروں گا ایک چیز کی جسے کہتے ہیں ”ذوق“۔ یہ قطعی تو نہیں ہاں قدرے مستقل ہوتا ہے۔آپ کے وہ پسندیدہ اشعار گویا آپ کے ذوق کے آئنہ دار ہیں، کم از کم میرے خیال میں۔ اور اب ”کیفیت“ اور”ذوق“ میں جو نفیس سا فرق ہے وہ آپ جیسے منجھے ہوئے تخلیق کار پر خوب عیاں ہے۔
طارق: میرے حوالے سے آپ کے یہ الفاظ بھی مجھے بہت نفیس لگے! (قہقہہ)۔ شکریہ، مگر میرا سوال ابھی تک وہیں ہے آپ کے۔۔۔
حامد: ہاں، ہاں اُسی طرف آرہا ہوں میں جنابِ من! نظموں میں ن۔م۔راشد، میرا جی، مجید امجد اور اختر حسین جعفری، احمد شمیم، انیس ناگی، ساقی فاروقی، سعادت سعید، ثروت حسین، منصورہ احمد،ابرار احمد، افتخار بخاری، جاوید انور اور ایوب خاور جبکہ غزل میں ناصر کاظمی،احمد مشتاق، فیض، ندیم، شکیب، خورشید رضوی،توصیف تبسم، سلیم کوثر،جمال احسانی،نجیب احمداور خالد احمد۔۔۔خالد احمد کی نظمیں بھی کمال کی ہیں۔میں نے خالد صاحب سے بھی بہت کچھ سیکھا ہے اور ان کی شاعری سے بھی۔ جیسے وہ خود زندگی میں ہر کسی کو اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دیتے تھے ویسے ہی ان کی شاعری ہر کسی کے قرب کی روادار نہیں۔علم کی اقسام پر غالباً مکتوباتِ ربانی میں آتا ہے کہ ایک علم عوام کے لیے ہوتا ہے، ایک خواص کے لیے اور ایک اخص الخواص کے لیے۔ تو خالد احمد کی شاعری سے خاص استفادے کے لیے نگاہ بھی خاص ہی درکار ہو گی۔
بڑی شاعری کے لوازمات کے حوالے سے ٹی ایس ایلیٹ جو فکر اور احساس کے امتزاج کی بات کرتے ہیں اس کی بہترین صورت پذیری ہوتی ہے۔ خالد احمد کے کلام میں؛ ان کے ہاں جذبے کی وارفتگی بھی ایک کمال حُسنِ ضبط کے ساتھ اظہار پاتی ہے اور انفرادی اور شخصی تجربہ بھی تخلیقی عمل سے گزر کر ایک ہمہ گیر احساس کا مرتبہ حاصل کرلیتا ہے اور قارئین اپنے اپنے ظرف اوراپنی نظرکے مطابق اس سے معانی بھی اخذ کر لیتے ہیں اور لطف بھی کشید کرلیتے ہیں۔
طارق: اس میں کچھ شک نہیں کہ خالد احمد ہمارے بہت اہم شعرا میں سے ہیں اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ انہوں نے نظم اور غزل دونوں اصناف میں بہت موثر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور آپ بھی دونوں اصناف میں شاعری کرتے ہیں۔ یہاں اگر میں آپ سے یہ پوچھوں کہ آپ کو ذاتی طور پر غزل پسند ہے یا نظم تو کیا کہیں گے آپ؟
حامد: صنفی ترجیح یا امتیاز والی بات مجھے کبھی شاعری میں بھی نہیں بھائی۔اور پھر ہم یہ بھی تو سُنتے پڑھتے آرہے ہیں کہ خیال اپنی ہیئت خود لے کر آتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اور پھر وہی کیفیت اور ذوق والی بات بھی ہے۔ مجھے تو یہ بات بھی بہت دل کش لگتی ہے کہ شعر گوئی ایک پُراسرار عمل ہے۔ بہرحال حقیقت یہ ہے کہ اردو میں نظم ایک مستقل مقام بنا چکی ہے۔ برس ہا برس سے اس میں ہیئت اور موضوعات کے تجربے ہو چکے ہیں اور اب اسے قاری بھی بہت مل چکے ہیں اور اس کی مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے اور جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے سچی بات یہ ہے کہ نظم مجھے پسند بھی ہے مگر یہاں اس بات کا ذکر یا اعتراف کرنا بھی ضروری ہے کہ غزل اپنی لطافت اور جاذبیت کے سبب اردو کی رُوح میں کچھ ایسی سما گئی ہے کہ اس کے بغیر اردو ادب کا حُسن ادھورا ادھورا سا لگتا ہے۔ جیسے کھانا آپ دنیا کی کسی بھی ثقافت کا کھا لیں جب تک اپنی چائے کا پیالہ نہیں مل جاتا لطف نہیں آتا،مزہ نہیں آتا۔
طارق: تو غزل گویاچسکا سا ہے جیسے کسی زمانے میں عمدہ مصرع سُنتے ہی میرا جی فوراً سگریٹ کا کش لینے کو کرتا تھا۔
حامد: آپ اسے چسکا کہہ لیں میں نے مزہ اور لطف کہا ہے۔ ہمارے لگ بھگ سبھی قابلِ ذکر نظم گو شعرا غزل بھی کہتے ہیں اور خوب کہتے ہیں۔ایسا نہیں کہ ان کی نظم میں کچھ کمی ہوتی ہے۔ شاید یہ ان کے وجدان کا تقاضا ہو، وہ جو غالبؔ نے کہا ہے ناں:
ہر چند ہو مشاہدہ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
تو شاید غزل کہے بغیر بات نہ بنتی ہو۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شاعر کو اس بات کی پرواہ بھی نہ ہو کہ غزل ہے یا نظم اور وہ محض مصرع کے تیور پر ہی فدا ہُوا جا رہا ہو۔ کچھ یقینی طور پر کہہ نہیں سکتے۔ شاعر یوں بھی، جیسا میں نے ابھی کہا تھا، اپنی ہی مملکتِ خیال کا اکلوتا شہری ہوتا ہے اور من موجی ہوتا ہے۔ غزل کے سفر پر نظر کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ کبھی تو یہ صنف اوپیرا یا غنائی تمثیل کے اُس غالب نغمے کی طرح ابھرتی ہے جو پوری تمثیل اور اُس کے مزاج کا عکاس ہوتا ہے اور کبھی پس منظر موسیقی کی طرح رواں دواں۔۔۔جب آنکھیں منظر سے دوچار ہوتی ہیں یہ احساس کے تار چھیڑتی رہتی ہے بالکل غیر محسوس سے انداز میں۔ آپ کو یقین نہیں آتا تو کوئی اچھی اردو نظم اُٹھا کر دیکھ لیں، غزل کی خوشبو سے تر مصرعے اپنا جادو جگاتے مل جائیں گے۔ ویسے بھی کسی فن پارے کے لیے نظم غزل کی صنفی تقسیم سے کہِیں زیادہ یہ اہم ہے کہ اس میں تخلیقی جوہر کتنا ہے اور اپنے ابلاغ میں وہ کس سطح پر اپنے قاری سے ہم کلام ہوتا ہے۔ اس میں مضمون کی قوت اور ندرت بھی آجائے گی اور اظہار کی تاثیر اور طاقت بھی۔
طارق: شاعری کی عمارت میں بنیادی مواد تو الفاظ ہی ہیں ناں اور ظاہر ہے انہی کی دل کش ترتیب فن پارے کو تعمیر کرتی ہے۔ نہیں کیا؟
حامد: طارق! آپ نے استادِ محترم پروفیسر مرزا منور کی یاد دلا دی ایک تو جب بھی وہ مجھ سے تازہ تخلیق کے بارے میں دریافت کرتے ہمیشہ یہ جملہ استعمال کرتے: ”کیوں بھئی یزدانیؔ، ہے کوئی زیرِ تعمیر غزل یا نظم؟ ہے تو سناو“۔ تو ”زیرِ تعمیر“ والی بات یاد آگئی آپ کی بات سے۔۔۔اور دوسرے وہ الفاظ اور تخلیق اور تخلیق کار کے حوالے سے فرماتے تھے کہ الفاظ مُردہ ہوتے ہیں، ڈکشنری ان کا قبرستان ہے۔ تخلیق کار ان کا مسیحا ہوتا ہے۔ وہ نت نئے انداز میں انہیں استعمال کر کے گویا زندہ کردیتا ہے۔ ان میں جان پھونک دیتا ہے۔ اس بات سے الفاظ کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ جیسا کہ آپ نے کہا تحریر صورت پزیر تو الفاظ میں ہی ہو گی مگر دیکھنا یہ ہے کہ ان الفاظ سے فن کار نے کام کیا لیا ہے۔ تو ایک طرف الفاظ یا حُسنِ اظہار ہے تو دوسری طرف مضمون۔ آسان انداز میں اس بات کو ہم یوں سمجھ سکتے ہیں کہ خام مال کیا اور کتنا ہے اور اسے استعمال کتنا اور کس ڈھنگ سے کیا گیا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ اہم ہے اور بہت اہم ہے کہ شاعر کے پاس اپنی بات کہنے کے لیے ہے ہی کیا سوائے الفاظ کے۔۔۔یہی اس کا کینوس ہیں اور یہی اس کے رنگ اور برش۔ مگر میں پھر یہی کہوں گا کہ خیال کی ندرت اور گہرائی کی اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے۔
آرتھر کوئسلر اورجنیلیٹی کو پرفیکشن پرفوقیت دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک جینئس کی بنیادی نشانی کمالِ فن نہیں بلکہ اس کی تخلیقی اصالت ہے کہ یہی خوبی نئی امکانی حدود کی پیش خیمہ ٹھہرتی ہے۔غالباً اسی تاثر کے تحت ہمارے بعض نقاد دوست شعر کے ”کچے پن“ کوبھی بخوشی گوارا کر لیتے ہیں۔ لیکن انصاف کی بات یہی ہے کہ فن کار کو اپنے خیال کو ہر ممکن حد تک بہترین بناکر پیش کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ خالد احمد کہا کرتے تھے کہ خیال کو اللہ کی نعمت جاننا چاہیے اور اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے اور وہ قدر یوں ہو گی کہ ہم اسے قدرت کے ان مول تحفے کی طرح محبت سے اپنے پاس رکھیں۔ اسے سنواریں، نکھاریں۔ بعض شاعر جو اِدھر خیال آیا اُدھر شعر کہہ کے فارغ ہوئے دراصل نعمت کی ناقدری کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔ کہتے تھے کہ خیال کو اپنے محبوب ہم نشیں کی طرح رکھو، اس کے ناز اُٹھاؤ اُس کے ساتھ وقت گزارو، اسے سمجھو، اس کا خیال رکھو، اُس کا خوب بناؤ سنگھار کرو۔اُس کے ساتھ ایساہنگامی اور نارواسلوک نہ کرو جیسا اوباش مرد غلط پیشہ عورتوں کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔تب ہمیں یہ باتیں سمجھ ہی نہیں آتی تھیں۔اور کچھ دوستوں کو اب بھی سمجھ نہیں آتیں، کیا کِیا جائے اب!
طارق: مجھے خوشی ہے کہ آپ شاعری پر ایسی گہری نگاہ رکھتے ہیں اور اس سے محبت کرتے ہیں مگران اطلاعات کا کیا کِیا جائے جو نشان دہی کرتی ہیں کہ شاعری عالمی منظر نامے سے بتدریج معدوم ہوتی چلی جارہی ہے اور نثر نگاری تیزی سے فروغ پا رہی ہے؟
حامد: اب آپ نے چونکہ عالمی سطح کے حوالے سے بات کی ہے تو سچی بات یہ ہے کہ پوری دنیا میں تخلیقِ ادب کی حقیقی صورتِ حال سے باخبر ہونے کا میں دعویٰ نہیں کر سکتا اور شاید کوئی بھی نہیں کر سکتا اگرچہ چیدہ چیدہ کام میری نظر سے ضرور گزرتا ہے اور میں ادب کے ایک تاحیات مگر بے قاعدہ طالب علم کے طور پر تازہ سے تازہ تخلیقات سے لطف اندوز ہونے کی کوشش کرتا رہتا ہوں بشرطیکہ وہ ان زبانوں میں ہوں جن سے میں آشنا ہوں۔ پاکستان کی سطح پر اس حوالے سے آپ یقیناً زیادہ بہتر جانتے ہوں گے مگر میرے سامنے واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی وہ رپورٹ ہے جس میں گزشتہ پندرہ برس کے اعدادوشمار کا جائزہ لے کر ثابت کیا گیا ہے کہ نثر کے مقابلے میں شاعری کے قارئین میں اضافہ ہوا ہے۔ نیشنل اینڈاومنٹ فار دی آرٹ ایک معتبر ادارہ ہے اور گزشتہ برس سامنے آنے والی یہ تحقیق حکومت کی مالی اعانت سے کی گئی تھی۔ اس کے مطابق امریکا میں تو شاعری پڑھنے سننے کا رجحان مسلسل فروغ پا رہا ہے۔ اس رپورٹ کا حوالہ محض ایک جھلک دکھانے کے لیے دیا ہے۔ اگر ذوق و شوق کا پیمانہ محض کتابوں کی اشاعت اور ان کی تعداد تک محدود کر لیا جائے تو اور بات ہے ورنہ شاعری کی تقریبات میں شرکت، اسے سیکھنے کی کوششیں، تعلیمی اداروں اور لائبریریز میں شعرا اور شاعرات کے لیے مواقع اور پھر انٹر نیٹ، سوشل میڈیا ویب سایٹس وغیرہ کے ذریعے شاعری سے استفادہ کرنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد تو یہی بتاتی ہے کی شاعری اب بھی مقبول ہے چہ جائیکہ کہ معدوم ہو رہی ہے۔ ہاں، اس کے معیار پر بحث کی جاسکتی ہے۔ جہاں تک نثر کا تعلق ہے اس میں، یہاں مغرب کی حد تک تو، ناول افسانوں کے مجموعوں سے زیادہ بِکتے ہیں۔ لیکن اس سے بھی میں یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کر سکتا کہ افسانے لوگوں کو پسند نہیں ہیں۔
طارق: یہ تو خیر خوش آئند خبر ہی ہے کہ شاعری دم نہیں توڑ رہی۔لیکن آپ اپنے حوالے سے بتائیں نثر زیادہ پڑھتے ہیں آپ یا شاعری؟
حامد: مجھے لکھنے کے ساتھ ساتھ مطالعے کا شوق بھی قبلہ والد صاحب سے ہی ملا ہے۔ وہ مطالعے کا بے حد شوق رکھتے ہیں اور میں نے بچپن سے دیکھا کہ وہ نثر بھی بہت رغبت سے پڑھتے تھے۔ امّی جان ہنس کر کہا کرتی تھیں ”انہیں کھانا ملے نہ ملے کتاب ضرور ملنی چاہئے“۔ میں نے ایک روز والد صاحب سے پوچھا کہ بجلی عام ہونے سے پہلے وہ دن ڈھلنے کے بعدکیسے پڑھتے تھے؟ فرمانے لگے ”لالٹین کی روشنی میں اور اگر رات چاندنی ہوتی تو لالٹین کے تیل کی بھی بچت کی جاتی اور چاندکی روشنی سے استفادہ کیا جاتا۔“ چاندنی میں بیٹھ کر کتاب پڑھنے کا تصوّر ہی مجھے بہت رومانوی لگا۔ اس کے عملی پہلوؤں اور دشواریوں سے قطعِ نظر۔ میں پہلی بار قدرے طویل مدت کے لیے ملک سے باہر یعنی جرمنی گیا تو اس دوران میں والد صاحب دنیا سے پردہ فرما گئے۔ وہاں دوست صرف ایک ہی تھا امجد علی اور بس۔ ہم۔کار احباب سے بے تکلفی نہ تھی، لاہور کی دوستوں بھری شامیں کہیں بہت دور ٹمٹماتی محسوس ہوتیں۔ جی بیت اداس رہنے لگا۔ میں نے ”فنون“ کے لیے چند تخلیقات ندیم صاحب کوروانہ کیں تو خط میں انہیں اپنی اداسی اور احساسِ تنہائی کا بھی لکھ دیا۔ ندیم صاحب کا محبت اور شفقت بھرا جواب موصول ہوا تو جس میں انہوں نے دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ یہ جملہ بھی لکھا تھا کہ ”ایسے میں کتاب کو اپنا دوست بنا لیجیے۔ پردیس میں وہ آپ کی بہترین رفیق ثابت ہو گی“۔ ان کے جملے نے میری رہنمائی کی اور یوں دھیرے دھیرے اداسی کا سدّ ِباب بھی ہونے لگا اور تازہ بہ تازہ لکھنے کی تحریک بھی ملتی رہی۔ خوش قسمتی سے میرے سبھی اساتذہ اور دوست مطالعے کے دلدادہ رہے اور ان سے میرے شوق کو بھی مہمیز ملتی رہی۔رہی بات یہ کہ میں زیادہ یا زیادہ شوق سے نثر پڑھتا ہوں یا شاعری تو جنابِ من! یقین مانئے دونوں پڑھتا ہوں، تواتر سے پڑھتا ہوں اور شوق سے پڑھتا ہوں۔ اردو کے ساتھ ساتھ یہاں انگریزی کی کتابیں بھی پڑھتا ہوں۔ یہاں انگریزی زبان کا طبع زاد اور دنیا بھر کا ترجمہ شدہ ادب پڑھنے کا موقع ملتا ہے۔اگر ایک جملے میں کہُوں تو ”پڑھتا نثر شوق سے ہوں اور لکھتا شاعری شوق سے ہوں“۔ مدت سے کچھ ایسا ہی معمول ہے۔ مجھے اِس بات کا بھی احساس ہے کہ انٹرنیٹ کے معلوماتی طوفان میں حقیقی اور سنجیدہ مطالعے کی ناؤ چلاتے رہنا کارِ آساں نہیں مگر یقین مانئے اِسی گوشہ پُرسکوں میں عافیت اور خیر ہے۔ خاموشی سے لکھتے پڑھتے جائیے۔ (جاری ہے)

Leave a Reply

Back to top button