تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

انگور: جسمانی قوت اور طاقت کا قدرتی خزانہ

انگوروں کی آٹھ ہزار سے زیادہ اقسام ہیں۔انگور کی غذائیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک کپ لال یا ہرے انگور میں 104 گرام کیلوریز،27.3گرام کار بوہائیڈریٹ اور 1.1گرام پروٹین ہوتاہے۔ جبکہ اس میں وٹامن سی 27فیصد،وٹامن کے 28 فیصد، تھائیامن7فیصد،رائبو فلان 6فیصد،وٹامن بی سکس 6فیصد،پوٹاشیم 8فیصد،کاپر 10فیصد اور میگنیز 5فیصد پر مشتمل ہوتاہے۔ انگور وٹامن سی،کے اور بیٹا کروٹین سے بھر پور ہوتے ہیں،جو جسم کے اندر سے فاسد مادے نکال دیتے ہیں۔

انگور ایک پودے اور اس کے پھل کا نام ہے۔ یہ پودا بیل کی صورت میں اگتا اور اس کا پھل گچھوں میں پیدا ہوتا ہے۔تقریباً 300 برس قبل ہسپانویوں نے براعظم امریکا میں انگور متعارف کروائے، قبل ازیں وہاں انگور نہیں تھے۔

سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ انگوروں کی موجودہ اقسام چھ کروڑ 50 لاکھ برس قبل وجود میں آئیں۔انسان کم وبیش آٹھ ہزار برس سے انگور کاشت کر رہا ہے۔انگور کئی رنگوں کے ہوتے ہیں۔ ان میں سبز، سرخ، سیاہ، زرد، گلابی اور ارغوانی رنگ شامل ہیں۔انگور کے بے شمار فوائد ہیں یہ چہرے کی رنگت نِکھارنے اور ایکنی ختم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

کشمش خشک انگوروں سے بنتی ہے۔ انگوروں کو سورج کی روشنی میں خشک ہونے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے اور یوں یہ عمل قدرتی طریقے سے انجام پاتا ہے۔

انگور کا شمار قدرت کی بہترین نعمتوں میں ہوتا ہے جو غذائی ضروریات کے علاوہ علاج معالجہ کی خصوصیات سے بھی مالا مال ہے۔ارشادِ ربّانی ہے:اور ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس کے اندر سے چشمے نکالے،تاکہ یہ اس کے پھل کھائیں۔ (سورۃیٰسین،34)

انگور میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
انگوروں کی آٹھ ہزار سے زیادہ اقسام ہیں۔انگور کی غذائیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک کپ لال یا ہرے انگور میں 104 گرام کیلوریز،27.3گرام کار بوہائیڈریٹ اور 1.1گرام پروٹین ہوتاہے۔ جبکہ اس میں وٹامن سی 27فیصد،وٹامن کے 28 فیصد، تھائیامن7فیصد،رائبو فلان 6فیصد،وٹامن بی سکس 6فیصد،پوٹاشیم 8فیصد،کاپر 10فیصد اور میگنیز 5فیصد پر مشتمل ہوتاہے۔ انگور وٹامن سی،کے اور بیٹا کروٹین سے بھر پور ہوتے ہیں،جو جسم کے اندر سے فاسد مادے نکال دیتے ہیں۔

انگور کے طبی فوائد:

اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور:
انگور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور پھل ہے جیسے کیروٹین، پولی فینولز اور دیگر۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق یہ اینٹی آکسائیڈنٹس دل کی صحت کو مستحکم رکھنے کے ساتھ مخصوص اقسام کے کینسر کا خطرہ کم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ پھل جسم میں گردش کرنے والے مضر ذرات کو اکھٹا ہونے سے روکتا ہے جس سے خون کی شریانوں کی صحت بہتر ہوتی ہے، دوران خون بہتر اور بلڈ پریشر کی سطح کم ہوتی ہے۔
ایک سروے سے پتا چلتا ہے کہ جن لوگوں میں سوڈیم کے بجائے پوٹاشیم کی مقدار زیادہ تھی،ان میں امراض قلب کے باعث مرنے کا امکان کم تھا۔ماہرین کے مطابق سرخ انگور میں ٹرانس ریسوریٹرل(Trans-Resveratrol)اور نارنجی میں ہیسپریڈن (Hesperidin) نامی مرکبات ذیابیطس،موٹاپے اور امراض قلب کو کنٹرول کرنے میں مفید ہو سکتے ہیں۔

جلدی مسائل کی روک تھام:
انگور میں موجود اجزا عمر بڑھنے سے سامنے آنے والی علامات اور دیگر جلدی مسائل کی روک تھام کرنے کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ انگور میں موجود ایک جز resveratrol کیل مہاسوں کا باعث بننے والے بیکٹریا کے خلاف جدوجہد کرتا ہے۔

1 2 3اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button