مختصر تحریریں

اور جب عشق آیا!

شمس تبریز ؒ سے ملاقات سے پہلے بھی مولانا روم ؒ ایک کامل انسان تھے، عالم، فاضل، واعظ، مدرس، مفتی، عارف، عارفِ محقق، صاحبِ کشف و شہود، شیخ حتیٰ کہ قطب، ہر لحاظ سے ایک پختہ کار انسان…… شمس ؒ آئے تو یہ سب کچھ نچھاور عاشق فقط عاشق پاکباز بن کر رہ گئے۔ مولانا ؒ نے خود اسے ایک ہی مصرع میں سمو دیا ہے: ”خام بُدم، پُختہ شُدم، سوختم“ گویا بقول ان کے جلنے سے پہلے وہ پختہ تھے، قابلِ سوختن تھے، ان میں کوئی نم نہ تھا، بالکل خشک ایندھن جسے فقط اک آنچ کی ضرورت تھی جو تبریز ؒ کی شکل میں ملی۔
حاصل مطلب یہ کہ وہ شعرکہتے نہیں تھے، چاہتے تو کہہ سکتے تھے اور جب عشق آیا تو ہیئت ہی بدل گئی۔ زہد و اتقا کی سردی اور خشکی گئی۔ وجد وسماع اور جوش وخروش کی گرمی آئی اور پھر شعروشاعری کا دور۔۔۔
یہی حال امیر خسرو ؒ کا ہے۔ ان کے وجود میں بھی وہ چنگاری موجود تھی مگر بوجوہ دبی ہوئی تھی، وہ بھی مولانا ؒ کی طرح ایک بھر پور زندگی گزار رہے تھے۔ عاشق زار بننے سے پہلے وہ بھی سپاہی تھے اورعالم بھی، دنیا دار بھی تھے اور پکے عالم دین بھی، عابد بھی تھے اور زاہد بھی، شاہی بھی تھے اور مصاحب بھی، شاعر بھی اور عالیٰ مقام موسیقار بھی۔ بلکہ حیرانی ہوتی ہے کہ انھیں سپہ گری، درباری، شعرگوئی، دنیا داری اور عبادت وریاضت کے لئے وقت کہاں سے مل جاتا تھا۔ تصوف و درویشی کی چنگاری موجود تھی مگر دبہ ہوئی تھی، جیسے مولانا ؒ کے ہاں شاعری، اسے فقط ہوا دینے کی ضرورت تھی اور ہوا انھیں مرشدِکامل کے دامن سے مل گئی اور یوں جب وہ سُلگ اُٹھی تو سلگ اُٹھی اور وقت گزرنے کے ساتھ وہ بھڑک اُٹھی۔ وادی ایمن میں پہنچ کر یہ سب شررباریاں اسی چنگاری کی تھیں“۔
ڈاکٹر محمد عبدالطیف کی کتاب ”جذبِ کامل۔۔۔ حضرت خواجہ محبوب الٰہی اور حضرت امیر خسرو ؒ“ سے اقتباس

Leave a Reply

Back to top button