کالم

اوور سیز محنت کشوں کی کمائی

معلوم ہوتا ہے کہ ہماری ناقص حاکمیت (بیڈ گورننس) کی گرفت میں آئے ہوئے غریب یا بدنصیب ملکوں کے لئے بجلی یا انرجی کی جو اہمیت ہے اس سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ صنعتی ملکوں کے لئے ”سستی لیبر“ کی اہمیت ہے جس کے بغیروہ اپنے منافعوں کی شرح برقرار نہیں رکھ سکتے اور منافعوں کی شرح برقرار نہ رہے تو اسے نقصان سمجھا جاتا ہے۔ ان صنعتوں کی سستی لیبر کی یہ ضرورت بھی ہماری ناقص حاکمیت والے غریب ملکوں کی افرادی قوت پوری کرتی ہے جس کو اس کے آبائی ملکوں میں روزگار کے وسائل نصیب نہیں ہوتے یا جن ملکوں کو سستی لیبر فراہم کرنے کی غرض سے غریب رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
ترقی یافتہ صنعتی ملکوں کی معیشت کے ترجمان جریدے” اکانومسٹ“ نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ جوتوں کے ایک امریکی کارخانے نے امریکی محنت کشوں کی مہنگائی سے بچنے اور سستی لیبر کے حصول کے لئے اپنا کاروبار فارموسےٰ میں منتقل کر لیا تھا مگر جب لیبر کی مہنگائی وہاں بھی پہنچ گئی تو وہ کاروبار چین چلا گیا اور پتہ چلا کہ چینی کارخانے میں چینی محنت کش خاتون کو پورے مہینے کی محنت کا جو معاوضہ دیا جاتا ہے وہ اس کمپنی کے امریکی کارخانے میں وہی کام کرنے والی امریکی محنت کش خاتون کی ایک دن کی تنخواہ کے برابر ہے ،گویا دونوں کے معاوضوں میں ایک اور تیس کا فرق ہے۔چند سال پہلے میں نے ایک امریکی صنعتکار کی زبان سے پاکستان کے محنت کشوں کی تعریف سنی۔ وہ فرمارہے تھے کہ ایک ایک پاکستانی محنت کش نے تین تین امریکیوں کا بوجھ اٹھا رکھا ہے۔ میں نے کہا دوسروں لفظوں میں آپ بتارہے ہیں کہ پاکستانی محنت کشوں کو ان کی محنت کا ایک تہائی معاوضہ دیا جارہا ہے اور یہ بات آپ کے لئے قابل تعریف ہے۔
عالمی بینک کی طرف سے جاری ہونے والی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترقی پذیر یعنی پسماندہ ملکوں میں پیدا ہونے والے محنت کشوں کی ایک بڑی تعداد مغربی صنعتی ملکوں کی محنت کی منڈیوں میں روزگار کماتی ہے اور یہ منڈیاں بھی ان محنت کشوں کو سستی لیبر کے طور پر قبول کرتی ہیں۔ یہ منڈیاں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات کے ملکوں سے امریکہ ،برطانیہ اور فرانس تک پھیلی ہوئی ہیں۔ رپورٹ میں ان محنت کشوں کی صحیح تعداد تو نہیں بتائی گی مگر بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی کمائی میں سے سالانہ چار سو ارب ڈالروں سے زیادہ مالیت کی رقم اپنے آبائی ملکوں کو بھیجتے ہیں۔سال 2014ءکے دوران اس وسیلے سے ان کے آبائی ملکوں کو چار سو 35 ارب ڈالروں کی ترسیل زر ہوگی اور اس دوران اس ترسیل زر میں کم از کم پانچ فیصد اضافہ متوقع ہے چنانچہ سال2015ءمیں یہ ترسیل زر چار سو54 ارب ڈالروں کی مالیت کی ہوگی۔ہندوستان جیسے بڑی آبادی کے ملکوں کے محنت کش بہت زیادہ تعداد میں بیرونی ملکوں کی منڈیوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہندوستان کے ایک کروڑ چالیس لاکھ محنت کش بیرونی ملکوں سے اپنے ملک میں سالانہ 71 ارب ڈالروں کی ترسیل زر کرتے ہیں۔ پاکستان کے محنت کشوں نے گزشتہ صدی کی چھٹی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں زیادہ تعداد میں بیرونی ملکوں اور خاص طور پر تیل پیدا کرنے والے مسلمان ملکوں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں جانا شروع کیا تھا جب تیل پیدا کرنے والے ملکوں نے تیل کی قیمتوںمیں دو گنا اضافہ کیا تھا اور اپنی زائد کمائی سے انفراسٹرکچر کی تعمیر شروع کی تھی اور اس تعمیری پروگرام میں پاکستانی لیبر نے بھرپور انداز میں حصہ لیا تھا۔اس وقت بھی سب سے زیادہ پاکستانی محنت کش دیار حرم سعودی عرب میں روزگار کماتے ہیں۔ پاکستانی اوورسیز محنت کشوں کی سال2014ء کے دوران اپنے ملک میں ترسیل زر سترہ ارب ڈالروں کی مالیت سے بھی زیادہ کی توقع کی جارہی ہے۔ یہ ترسیل زرپاکستان کی دوہری خدمت کررہی ہے۔ بیس فیصد کے قریب آبادی کی تعلیمی اور صحت کی ضروریات بھی پوری کرتا ہے اور پاکستان کو قیمتی زرمبادلہ بھی فراہم ہوتا ہے جس سے پاکستان کی درآمدات کا آدھے سے زیادہ خسارہ برداشت کیا جاسکتا ہے۔ چھوٹے معاشروں نیپال ا ور ازبکستان جیسے ملکوں کے محنت کش اپنے ملکوں کو جو سالانہ ترسیل زر کرتے ہیں وہ ان ملکوں کی مجموعی سالانہ آمدنی یا پیداوار(جی ڈی پی) کے29 اور 42 فیصد کے برابر کی مالیت کی ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Back to top button