سیلف ہیلپ

اُس نے ایک ڈالر کی شرٹ 2 ہزار ڈالر میں کیسے فروخت کی؟

مائیکل 1963ء میں نیویارک کے قریب بروکلن کے علاقے میں پیدا ہوا۔ اس کے گھر میں کل چھ افراد تھے، چار بھائی اور ماں باپ۔ جب مائیکل کی عمر بمشکل دس یا بارہ سال تھی تو اس کے باپ کو محسو س ہوا کہ موجودہ آمدن میں خاندان کی کفالت کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ ناجانے کیوں اس کو اپنے بیٹے مائیکل میں دوسرے بچوں کی نسبت کچھ منفرد نظر آتا تھا۔ ایک دن اُس نے مائیکل کو بلایا، ایک شرٹ دکھائی اور کہا ”بیٹا اس شرٹ کی قیمت کتنی ہو سکتی ہے“۔ مائیکل نے جواب دیا ”ایک ڈالر“۔
باپ نے کہا بالکل ٹھیک ہے لیکن تم اس شرٹ کو باہر لے جاؤ اور دو ڈالر میں بیچ کر آؤ۔ باپ کی بات سن کر مائیکل نے سوچنا شروع کر دیا کہ ایک ڈالر والی شرٹ دو ڈالر میں کیسے فروخت ہو سکتی ہے۔ یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ اس نے یہ نہیں سوچا کہ شرٹ دو ڈالر میں فروخت نہیں ہو سکتی بلکہ یہ سوچا کہ یہ کیسے فروخت ہو گی۔ کچھ دیر سوچ و بچارکرنے کے بعد اس نے شرٹ کو دھویا، خشک کرنے کے بعد اچھی طرح استری کیا، بازار میں جا کرکھڑا ہو گیا اور آوازیں لگانا شروع کر دیں کہ دو ڈالر میں شرٹ لے لو۔ مائیکل نے یہ عمل آٹھ گھنٹوں تک جاری رکھا اور آخرکار وہ شرٹ فروخت کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے گھر آکر اپنے باپ کو پیسے دیئے، جو بہت خوش ہوا۔
کچھ دن گزرنے کے بعد مائیکل کے باپ نے اسے ویسی ہی ایک اور شرٹ دی اور پوچھا کہ یہ کتنے کی ہے۔ مائیکل نے پھر وہی جواب دیا کہ ایک ڈالرکی۔ باپ نے کہا جاؤ اور اس شڑت کو 20 ڈالر میں بیچ کر آؤ۔ اس بار بھی مائیکل نے یہ سوچنے کی بجائے کہ ایک ڈالرکی شرٹ بیس ڈالر میں بھلاکیونکر بِک سکتی ہے، یہ سوچا کہ ایسا کیسے کیا جا سکتا ہے۔ سوچ و بچارکے بعد اس نے دکان سے جا کر معروف کارٹون سیریز ”مکی ماؤس“کا ایک سٹیکر خریدا، شرٹ کو دھو اور سُکھا کر اس پر استری سے سٹیکر چپکا دیا اور شہرکے ایک ایسے سکول کے باہر جا کھڑا ہوا جہاں امیر لوگوں کے بچے پڑھتے تھے۔ اور آواز لگانا شروع کر دی کہ ”مکی ماؤس“ والی شرٹ خریدو صرف بیس ڈالر میں۔ مائیکل نے چار گھنٹوں تک آوازیں لگائیں اور شرٹ بیچنے میں کامیاب ہو گیا۔ جس بچے کے باپ نے شرٹ خریدی اس نے مائیکل کو 5 ڈالر انعام کے طور پر بھی دیئے۔
کچھ دن مزیدگزرے تو اس کے باپ نے اسے پھر وہی ایک ڈالرکی شرٹ دی اور کہا کہ اب اسے دو سو ڈالرکے عوض بیچ کر آؤ۔ مائیکل کو چونکہ گزشتہ دو کامیابیوں سے اپنی صلاحتیوں پر یقین پیدا ہو گیا تھا، لہذا وہ گھبرایا نہیں بلکہ اس نے شرٹ کو دو سو ڈالر میں بیچنے کی ترکیب سوچنا شروع کر دی۔ انہیں دنوں اس کے قصبہ کے قریبی شہر میں ہالی وُڈ کی معروف اور خوبصورت ترین اداکارہ فرح پریس کانفرنس کے لئے آئی ہوئی تھیں۔ مائیکل نے اپنے ایک دوست کے ساتھ شہر جانے کا فیصلہ کیا، ٹرین کی ٹکٹ لی اور اس جگہ پہنچ گیا جہاں ادکارہ پریس کانفرنس کر رہی تھی۔ وہ کسی نہ کسی طرح اندر پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے ضدکر کے شرٹ پر اداکارہ کا آٹو گراف حاصل کر لیا۔ آٹوگراف لینے کے بعد مائیکل قریبی بازار میں جا کر ایک چھوٹا سا سٹال لگا کر آوازیں لگانے لگا کہ بالی وُڈ کی سب سے خوبصورت اداکارہ کے آٹوگراف والی شرٹ لے لو۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں لوگوں کا رش لگ گیا۔ کسی نے کہا کہ 400 ڈالر دوں گا، کسی نے 500 اور کسی نے اس شرٹ کے ایک ہزار ڈالر دینے کی خواہش ظاہر کی۔ اتنے عرصے میں ہجوم کے پیچھے سے کسی نے آواز دی کہ وہ اس شرٹ کے دو ہزار ڈالر دینے کے لیے تیار ہے۔ مائیکل نے وہ شرٹ دو ہزار ڈالر میں بیچ دی۔ آپ کو یاد ہو گا کہ پہلی شرٹ بیچنے کے لیے اسے آٹھ گھنٹے لگے، دوسری کے لیے 4 گھنٹے جب کہ تیسری شرٹ محض 4 منٹ میں فروخت ہو گئی، وہ بھی 2 ہزار ڈالر میں۔
جب مائیکل نے گھر آکر اپنے باپ کو دو ہزار ڈالر دیئے تو خوشی سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اس نے مائیکل کو گلے سے لگا کر کہا کہ بیٹا آج کے بعد تم جو چاہو وہ حاصل کر سکتے ہو۔ یہی مائیکل آگے جا کر باسکٹ بال کا عظیم کھلاڑی مائیکل جارڈن بنا جسے god of basketball یعنی ”باسکٹ بال کا دیوتا“ بھی کہا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button