سیلف ہیلپ

اپنی ذات میں ڈوب کر…… نعیم سلہری

آپ کتنے دانش مند ہیں، آیا کہ آپ دانش مند ہیں بھی یا نہیں۔ اس بات کو چھوڑیئے! اور اس پہلو پر دھیان دیجئے کہ آپ اپنی عقل وفہم اور دانش میں کیسے اور کتنا اضافہ کرتے ہیں یا پھر کر سکتے ہیں۔ اگر ہم کوشش کریں، اپنی ذات کے ساتھ مخلص رہیں اور اس نظریہ کا پالن کرتے رہیں کہ ہم نے نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے بھی کچھ نہ کچھ کرنا ہے تو آپ کے اندر اتنی صلاحیتیں ضرور ہیں کہ آپ آج کو اپنے کل سے بہتر بنا سکتے ہیں۔
آپ ہر روز کچھ نہ کچھ نیا سیکھ سکتے ہیں، کیونکہ ہمارے اندر کائنات اور فطرت کے کام کرنے کے انداز کو روزانہ کی بنیادوں پر سمجھنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اگر آپ روزانہ اپنے علم اور تجربے کو بڑھانا ترجیحات میں شامل کر لیں، ہر دن اس پہلو پر کچھ دیر کام کریں تو آپ یقینا پہلے کی نسبت بہتر ہو سکتے ہیں۔ یہاں ہم کچھ ایسی تراکیب پیش کر رہے ہیں جن پر عمل کر کے آپ اپنے تجربات سے فائدہ اْٹھا کر اپنی دانش اور عقل وفہم میں اضافہ کر سکتے ہیں۔
اپنے تجربات کا جائزہ لیں
ہر انسان جتنی زندگی گزار چکا ہے اس میں اْس نے بے شمار تجربہ حاصل کیا ہوتا ہے لیکن ہم میں سے زیادہ تر کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے ان تجربات سے سیکھتے نہیں، نہ سیکھنے کی یہ عادت ہماری ذات کا حصہ اس لیے بن جاتی ہے کہ ہم کبھی اپنے تجربات کا جائزہ نہیں لیتے۔ ہم نے کبھی یہ زحمت گوارہ نہیں کی کہ اپنے اچھے بْرے تجربات کا جائزہ لیں اور ان سے سیکھیں۔ دانشوروں کا کہنا ہے کہ تجربہ کوئی بھی بْرا نہیں ہوتا کیونکہ یہ جیسا بھی ہو آپ کو کوئی نہ کوئی سبق ضرور دے جاتا ہے، اس لیے جو چیز آپ کو سبق دے، آپ کو سکھائے، آپ کی عقل و دانش میں اضافہ کرے،وہ بْری نہیں ہوتی۔
اس لیے آپ آج اور ابھی سے اس بات پر غور کرنا شروع کر دیں کہ آپ نے جب سے سنِ شعور میں قدم رکھا ہے، تب سے اب تک اپنے تجربات سے کیا سیکھا اور کیا مزید سیکھنا چاہتے ہیں۔ آپ اس بات کا جائزہ لیں کہ اب تک آپ نے کیا غلطیاں کیں، اس دوران آپ کی بڑی ناکامی یا کامیابی کیا رہی، ان لوگوں کے بارے میں سوچئے جن سے آپ مل چکے ہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان میں سے کتنے لوگ کامیاب تھے اور کتنے ناکام۔ ان کے بارے میں سوچ کر صرف اس بات کا تعین کرنا ہے کہ آپ نے ان سے کیا اور کتنا سیکھا اور ان سے سیکھے ہوئے تجربات سے کتنا فائدہ اْٹھایا اور آئندہ کتنا اْٹھانا چاہتے ہیں۔
اگر آپ زندگی کے اس پہلو کا جائزہ لے کر اپنے تجربات سے سیکھی ہوئی چیزوں کی فہرست بنائیں، اس پر غور کریں تو یقینا آپ اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ آپ نے اب تک جو زندگی گزاری ہے، وہ ہرگز ضائع نہیں ہوئی بلکہ اس نے آپ کو سکھایا، آپ کی دانش اور تجربے میں اضافہ کیا ہے۔
مزید تجربات کیجئے!
آپ نے اپنی زندگی کا جائزہ لے لیا، اب روزانہ کی بنیاد پر ایسا کرنا عادت بنا لیں۔ اس بات پر غور کریں کہ آپ ہر روز کتنا سیکھ سکتے ہیں اور جو کچھ سیکھا، اس پر فوری عمل شروع کر دیں، آپ دیکھیں گے کہ آپ کتنی بْری عادتوں سے نجات حاصل کر لیتے ہیں۔ اس مرحلہ پر روزانہ کی بنیاد پر ایسا کرنا اس لیے ضروری ہے کہ زندگی کا باقاعدگی سے جائزہ لیے بغیر آپ عقل وفہم میں اضافہ نہیں کر سکتے۔
مطالعہ کی عادت اپنائیں!
آپ سے پہلے کئی دانش مند لوگ گزر چکے ہیں اور کئی آپ کے اردگرد موجود ہیں۔ ان میں سے اکثر نے اپنی زندگی کا نچوڑ، تجربات اور بیش بہا علمی سرمایہ کتابوں کی صورت میں چھوڑا ہے۔ ان کتابوں میں بند دانش سے استفادہ کیجئے اور اسے اپنے تجربات سے ملا کر زندگی گزارنے کا لائحہ عمل تیار کیجئے۔ اس لائحہ عمل پر چلنے سے آپ کے لیے کامیابی، خوشی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی جن سے نہ صرف آپ خود بلکہ دوسرے بھی مستفید ہوں گے۔
Quo Status پر غور کیجئے!
اپنی موجودہ حالت پر غور کریں اور اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کریں کہ ان حالات کی وجہ کیا ہے۔ جب آپ یہ وجہ تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے تو حالات بدلنے کی تراکیب خودبخود ہی سامنے آ جائیں گی۔ ایسا کرنے کے لیے آپ کو ”کمفرٹ زون“ سے نکلنا پڑے گا کیونکہ کمفرٹ زون انسان کو سہل پسند بنا دیتا ہے اور سہل پسندی ہمیشہ آگے بڑھنے کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اپنے معاشرے کی اقدار، معاشی وسیاسی صورتحال پر غور کریں اور دیگر معاشروں میں پائی جانے صورتحال سے ان کا موازنہ کیجئے۔ ایسا کرنے سے آپ کی دانش مندی میں وسعت آئے گی اور زندگی گزارنے اور اس سے لطف اندوز ہونے کے مزید مواقع میسر ہوں گے؟ ایسا کرنا اس لیے ضروری ہے کہ اپنی تہذیب وسماج سے متعلق فہم ہی کافی نہیں بلکہ اس میں وسعت، گیرائی اور گہرائی پیدا کرنے کے لیے دیگر تہذیبوں سے آگاہی اور پھر دونوں کا موازنہ کرکے قابل عمل اصول مرتب کرنا اصل دانشمندی ہے۔
فطرت کے ساتھ وقت گزاریئے!
دورِجدید کے انسان کو کئی ایسے مسائل کا سامنا ہے جن کا سبب صرف اور صرف فطرت سے اس کی دْوری ہے۔ فطرت سے دْوری نے اسے تنگ ذہن اور تنگ نظر بنا دیا ہے۔ ان مسائل سے بچنے کا بہترین طریقہ فطرت کی آغوش میں کچھ وقت گزارنا ہے۔ ایسا کرنے سے جہاں آپ کو تازگی کا احساس ہو گا، وہاں کھلی فضا میں، شہر کی مصروف اور شور زدہ زندگی سے دْور رہ کر اپنے بارے میں سوچنے کا موقع بھی ملے گا۔ ان لمحات میں فطرت کے ساتھ ہم آہنگی جسم وجاں پر انتہائی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے جس سے آپ کا ذہن پہلے سے زیادہ مؤثر انداز میں کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔
دس لائف ٹپس کی فہرست بنائیں!
کیا آپ نے کبھی اس بات پر غور کیا کہ اگر آپ کا بیٹا، بیٹی یا چھوٹے بہن بھائیوں میں سے کوئی، یا آپ اْستاد ہیں تو آپ کے طلبہ میں سے کوئی آپ سے زندگی گزارنے کے 10اصول پوچھے تو آپ کیا بتائیں گے۔ اگر آپ ایسا نہیں کر سکتے تو اب اس کی تیاری کر لیجئے! زندگی گزارنے کے بارے میں آپ کی 10 اہم ترین ٹپس کیا ہیں، ان کی ایک فہرست مرتب کریں اور اسے باقاعدگی سے مناسب وقفے کے بعد دْہراتے رہیں۔ ان کے بارے میں سوچتے رہیں، خود ان پر زیادہ جوش وجذبے سے عمل کریں اور دوسروں کو بتانے کے لئے ہر وقت تیار رہیں۔ ایسا کرنے سے آپ کے اندر دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ اور اپنی ذات میں تکمیل کا احساس پیدا ہو گا جو آپ کو مزید آگے بڑھنے پر آمادہ کرے گا۔ یاد رکھیں! آپ کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کر کے اگر کوئی کامیاب ہو جاتا ہے، اس کی زندگی میں خوشیاں بھر جاتی ہیں تو اس سے بڑھ کر انسانیت کی کوئی خدمت نہیں۔
غلط فہمیوں سے نجات حاصل کیجئے!
زندگی میں آگے بڑھنے، خوشیاں اور کامیابی حاصل کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اپنی غلط فہمیوں، غلط آراء اور نظریات پر ڈٹے رہنے سے پیدا ہوتی ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ اپنی رائے بدلنے میں بے عزتی یا شکست محسوس کرتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں عجیب قسم کے ذہنی اضطراب میں مبتلا رہنا پڑتا ہے۔ یاد رکھیں! یہ رویہ فہم ودانش کا سب سے بڑا دْشمن ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگوں کو اس بات کا احساس تو ہوتا ہے کہ ان کے نظریات یا کسی موضوع کے بارے میں رائے غلط ہے لیکن وہ پھر بھی اس پر ڈٹے رہتے ہیں، یہ ہٹ دھرمی سیکھنے کے عمل کو بْری طرح متاثر کرتی ہے اس لیے جب آپ کو اس بات کا احساس ہو جائے کہ آپ کی رائے یا نظریہ حقیقت کے منافی ہے تو اس سے رجوع کر لینا چاہئے کیونکہ یہی دانش مندی ہے۔ اس سے آپ کے سیکھنے کا عمل تیز ہوتا اور شخصیت میں سنجیدگی پیدا ہوتی ہے۔ ایسا کرنے سے نہ صرف آپ کی دانش میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ آپ پہلے سے زیادہ بہتر انداز میں فیصلے کر کے اپنے تجربات سے زیادہ مستفید ہو سکتے ہیں۔
اپنی رائے بدلنا یا ایسے نظریات جو حقیقت کے منافی ہوں، اْن سے پیچھے ہٹنا اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب آپ اپنے شب وروز کا جائزہ لیتے ہیں، جو ایسا نہیں کرتے ان کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے پاس اپنے لیے وقت نہیں ہوتا، حالانکہ اس کے لیے وقت نکالنا ہی اچھے وقت کی نوید بن سکتا ہے۔ آپ یقینا اس سستی کا مظاہرہ نہیں کریں گے اور اپنی سابقہ زندگی کا جائزہ ضرور لیں گے۔ کیونکہ آپ نے زندگی کو جی کر اس سے سیکھا ہے، اس میں جیت کر سیکھا ہے، مشکلات برداشت کرکے اور ناکام ہو کر بھی سیکھا ہے۔ اس میں اگر آپ مفتوح رہے تو بھی آپ نے سیکھا اور اگر فاتح رہے تو بھی، اس لیے اس کا بھرپور فائدہ اْٹھائیں۔ اپنی دانش میں اضافہ کریں۔ خود کامیاب بنیں، دوسروں کو کامیابی کی راہ دکھائیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو پیدا ہی کامیاب ہونے کے لیے کیا ہے۔ لہٰذا آج ہی سے اپنی حیاتِ گزشتہ کا جائزہ لیں اور اپنے کل کو آج سے مختلف بنائیں، آپ یقینا ایسا کر سکتے ہیں کیونکہ آپ اس سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں جتنا آپ خود کو سمجھتے ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button