Uncategorized

اپوزیشن کاکلبھوشن یادیو سمیت منظور کرائے گئے بلز عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انتخابی اصلاحات ترمیمی بل کی منظوری کے بعد اپوزیشن نےکلبھوشن یادیو سمیت منظور کرائے گئے بلز کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا اس موقع پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری،جے یو آئی (ف) کے مولانا اسعد محمود و دیگر کے ہمراہ پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے کہا کہ آج پارلیمنٹ کی تاریخ کا سیاح ترین دن ہے،تمام بلزکوبلڈوزکرتے چلے گئے،سپیکرنے ہماری ایک بات نہیں مانی،سپیکرسے باربارکہا ووٹنگ درست کرائیں غلط ہیں مگراس قیصر نے آج قوانین کوپاؤں تلے روندا۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے سپیکرسے کہا آپ بہت زیادتی کررہے ہیں،ہمارے خیال میں حکومتی لوگوں کے 3سے 4ووٹ زیادہ گنے گئے،مولانا اسعد اور بلاول بھٹو سپیکر کے پاس گئے لیکن انہوں نے بات نہیں مانی،میں نے اور بلاول بھٹو نے اسپیکر کو بہت سمجھانے کی کوشش کی لیکن سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ہماری ایک بات بھی نہیں مانی۔ ای وی ایم کوالیکشن کمیشن نے مسترد کردیا ہے، دھاندلی زدہ حکومت کومسلط کیا گیا اور اب یہ ای وی ایم ہمارے اوپرمسلط کرنا چاہتے ہیں جو نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے اعتراض کواہمیت نہیں دی گئی اس لئے الیکشن ترمیمی بلزسمیت دیگربلزکوعدالت میں چیلنج کرینگے۔ آپ فکرنہ کریں اپوزیشن کا تعاون آگے بھی چلے گا،چارسے پانچ ممبرزبیمارتھے، میرا نہیں خیال اتنی بڑی تعداد میں ممبران غیرحاضرتھے جبکہ مشترکہ اپوزیشن کی پہلی میٹنگ میں کوئی ٹھوس فیصلہ کریں گے۔
پیپلز پارٹٰی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ الیکشن ترمیمی بل کے خلاف ہرفورم پرجائیں گے جبکہ ہم اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے، حکومت زبردستی یہ دکھانا چاہتی ہے کہ کامیاب ہوئی جبکہ متحدہ اپوزیشن ای وی ایم،کلبھوشن این آراوسمیت تمام قوانین کوچیلنج کریگی ۔
بلاول بھٹو زرداری نےکہا کہ متحدہ اپوزیشن کوحکومت کوشکست دلانے پرمبارکباد دیتا ہوں، حکومت اپنے نمبر زپورے کرنے میں ناکام رہی، تمام لوگ پارلیمنٹ کی طرف دیکھ رہے ہیں، حکومت کو مشترکہ اجلاس میں شکست ہوئی ہے۔
جمعیت علمائے اسلام(ف) کے رہنما مولانا اسعد محمود نے کہا کہ ہم نے ابتدا میں ہی کہہ دیا تھا یکطرفہ قانون سازی تسلیم نہیں کریں گے جبکہ دھاندلی کے ذریعے بلزپاس کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے اراکین کوبات نہیں کرنے دی گئی، جبرکی بنیاد پرقانون سازی کی گئی، حکومتی اراکین کے چہرے آج لٹکے ہوئے تھے، سپریم کورٹ سمیت ہرفورم پرجائیں گے، اگرجبرہے توجبرکا مقابلہ جبرسے کریں گے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے رہنمااور سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ سپیکرصاحب متنازع ہوچکے ہیں، غیرآئینی طریقے سے قانون سازی کی گئی، حکومت نے آنے والے الیکشن کومتنازع بنادیا ہے، الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے جبکہ حکومت نے عدالتوں میں جانے کے سوا راستہ نہیں چھوڑا۔

Leave a Reply

Back to top button