پاکستان

اگر میرا پیسہ ملک سے باہر ہوتا تو امریکا کو انکار نہیں کر سکتا، وزیراعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جس پارٹی کے سربراہ کا پیسہ اور جائیداد ملک سے باہر ہو تو آپ کے لیے کھڑا نہیں ہو سکتا، اگر میرا پیسہ اور جائیداد بھی ملک سے باہر ہوتی تو میں بھی کبھی امریکا کو انکار نہیں کر سکتا تھا۔
آزاد کشمیر کے علاقے باغ میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں پتا ہونا چاہیے کہ یہ ملک کیوں بنا تھا اور قائد اعظم نے 40سال جدوجہد کیوں کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے مدینہ کو سب سے پہلے فلاحی ریاست بنایا اور ہم آج یہی کوشش کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ بھی اسی کوشش کا حصہ ہےجس کے ذریعے 10 لاکھ روپے کے اندر کوئی بھی شہری علاج کروا سکتا ہے، اس سال کے آخر تک پنجاب سارے شہریوں کو ہیلتھ کارڈ دے دے گا اور اسی سال کے آخر تک آزاد کشمیر کے سارے لوگوں کو ہیلتھ انشورنس دیں گے۔
عمران خان نے کہا کہ جن لوگوں کے پاس پیسہ نہیں تھا ان کے لیے ہم نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم لے کر آئے ہیں، پاکستان میں گھر بنانے کے لیے لوگوں کو سستے قرضے دیے جائیں گے، کامیاب پاکستان پروگرام میں ہر نچلے طبقے کے فرد کو کم شرح سود پر قرضے دیے جائیں گے،شہریوں کو گاڑیاں خریدنے کے لیے بھی قرضے دیے جائیں ہیں،مدینہ کا ماڈل یہ ہی ہے کہ غریب انسان کو ترقی جائے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ شہریوں کو ٹیکنکل ایجوکیشن دی جائے گی تاکہ خواتین گھر میں بیٹھ کر کاروبار کر سکیں جبکہ ہم نے غریب لوگوں کے لیے پناہ گاہیں بنائیں جن کا مقصد شہروں میں کام کے لیے آنے والے مزدروں کو کھانا، رہائش اور صاف ستھرے ماحول میں فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قانون کی بالادستی ہماری اولین ترجیح ہے، انصاف کے نظام کے بغیر کوئی قوم اوپر نہیں جاسکتی، قوموں کی ترقی کے لیے انصاف ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بڑے بڑے ڈاکو کہہ رہے ہیں کہ آج حکومت گرائیں گے، کل حکومت گرائیں گے، یہ صرف ایک چیز چاہ رہے ہیں کہ عمران خان انہیں این آر او دے اور معاف کردے لیکن کیا برطانیہ میں کسی نے دیکھا کہ کسی ڈاکو نے کہا ہو کہ مجھے این آر او دو، پاکستان کی جیلوں میں صرف غریب لوگ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی مہذب معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا کہ سپریم کورٹ ایک شخص کو جیل بھیجے اور وہ معصوم شکل بنا کر اور جھوتی میڈیکل رپورٹس دے کر برطانیہ چلا جائے، یہ اصل پاکستان کی جنگ ہے اور ہم اپنے ملک کے مستقبل کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہم اپنے بچوں کے لیے جہاد کررہے ہیں اور طاقتور کو قانون کے نیچے لانے کی کوشش کر رہے ہیں، ملک کبھی بھی خوشحال نہیں ہوسکتا جب تک وہاں قانون کی بلادستی نہ ہو۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اگر قانون کی حکمرانی نہ ہو تو کوئی بھی ملک وسائل کے باوجود خوشحال نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کلمہ طیبہ ہمیں خود داری کا سبق دیتا ہے اور ایک عام آدمی کو بڑا انسان اور کمزور قوم کو عظیم قوم بنا دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ریاست مدینہ میں بھی خود دار لوگ تھے جن میں خوف نہیں تھا اور انہوں نے بہت جلد آدھی دنیا پر حکومت قائم کی، ایسا ہی ہم بھی چاہتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم امداد اور قرضوں کے بجائے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے کیونکہ کوئی قوم ہاتھ پھیلا کر عظیم نہیں بن سکتی، انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے گا بلکہ غریب ممالک کی ا مداد کرے گا۔
مقبوضہ کشمیر کے حوالہ سے وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں مقبوضہ کے اپنے بھائیوں پر فخر ہے جو ظلم کے سامنے کھڑے ہیں اور خود داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں، برہان و انی جیسے خود دار نوجوانوں نے قربانیاں دی ہیں جن کی صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں قدر کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری بھائیوں کے صبر، طاقت اور جذبہ کے ساتھ ظلم کے سامنے کھڑا ہونے پر فخر کرتا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جب 5 اگست کو کشمیر پر مزید مظالم کا آغاز کیا تو کوئی نہیں سمجھتا تھا کہ کشمیری یہ برداشت کریں گے لیکن انہوں نے اپنے جذبہ اور ایمان سے اپنی جدوجہد جاری رکھی ہے جس پر ہم سب ان کو سلام پیش کرتے ہیں اور کشمیریوں کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ میں پوری دنیا میں آپ کا سفیر بن کر آواز اٹھاؤں گا۔
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کے نظریے سے سب سے زیادہ خطرہ ہندوستان کو ہے، بھارت صرف کشمیر میں ہی نہیں بلکہ بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں اور سکھوں سمیت دیگر اقلیتوں پر بھی مظالم ڈھا رہا ہے، ہم ہر فورم پر ان کے لیے آواز بلند کریں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ جس پارٹی کے سربراہ کا پیسہ اور جائیداد ملک سے باہر ہو تو آپ کے لیے کھڑا نہیں ہو سکتا، اگر میرا پیسہ اور جائیداد بھی ملک سے باہر ہوتی تو میں بھی کبھی امریکا کو انکار نہیں کر سکتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں بھی امریکا کو کہتا کہ آپ پاکستان میں ڈرون حملے کریں اور میں مذمت کرتا رہوں گا اور پاکستانیوں کو مارتے جاؤ، جو ہمارے لیڈرز کہہ چکے ہیں لیکن میں انہیں اس لیے انکار کر سکتا ہوں کیونکہ میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے۔
انہوں نے کشمیر کے عوام کے نام پیغام میں کہا کہ جن جائیدادیں، پیسہ، بینک بیلنس وغیرہ ملک سے باہر پڑے ہوں وہ آپ کا لیڈر کبھی نہیں ہو سکتا اور آزاد اور مقبوضہ کشمیر کے نوجوان جس دلیری سے ظلم کا مقابلہ کر رہے ہیں وہ کبھی بھی کسی ڈرپوک اور جھوٹے شخص کو اپنا لیڈر تسلیم نہیں کر سکتے۔

Leave a Reply

Back to top button