تازہ ترینجرم کہانیخبریںدنیا سے

ایٹمی جنگی بحری جہازوں کی معلومات فروخت کرنے پر امریکی جوڑا گرفتار

جوہری طاقت سے چلنے والے جنگی جہازوں کے ڈیزائن سے متعلق معلومات کو ایک ایسے شخص کو فروخت کیا جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ غیر ملکی نمائندہ ہے‘ جبکہ معلومات وصول کرنے والا اصل میں ایف بی آئی کا انڈر کور ایجنٹ تھا۔

ایک امریکی جوڑے کو امریکا کی مغربی ریاست ورجینیا میں مبینہ طور پر ایٹمی جنگی بحری جہازوں سے متعلق معلومات بیچنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق 45 سالہ جوناتھن ٹوبے جو امریکی بحریہ کے لیے بطور جوہری انجینیئر کام کرتے تھے انہیں اور ان کی 45 سالہ اہلیہ ڈیانا کو فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے ایجنٹس نے ہفتے کے روز گرفتار کیا۔

محکمہ انصاف نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جوڑے کے خلاف فوجداری شکایت درج کی گئی ہے جس میں ان پر جوہری توانائی ایکٹ کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ تقریباً ایک سال تک جوڑے نے ’جوہری طاقت سے چلنے والے جنگی جہازوں کے ڈیزائن سے متعلق معلومات کو ایک ایسے شخص کو فروخت کیا جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ غیر ملکی نمائندہ ہے‘ جبکہ معلومات وصول کرنے والا اصل میں ایف بی آئی کا انڈر کور ایجنٹ تھا۔

جوہری توانائی سے چلنے والی امریکی آبدوزیں گزشتہ ماہ پیرس اور واشنگٹن کے درمیان ایک بڑے سفارتی بحران کا مرکز تھیں جب آسٹریلیا نے فرانس سے آبدوزیں خریدنے کا ایک بڑا معاہدہ ختم کر دیا تھا۔

شکایت کے مطابق جب جوناتھن ٹوبے نے پہلی مرتبہ غیر ملکی حکومت سے رابطہ کیا (جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا) تو انہوں نے لکھا کہ میں آپ کی زبان کی برے ترجمے پر معذرت خواہ ہوں، برائے مہربانی یہ خط اپنی ملٹری انٹیلیجنس کو پہنچادیں۔

ملزم نے مزید کہا تھا کہ ’مجھے یقین ہے یہ معلومات آپ کی قوم کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہوں گی یہ دھوکا نہیں ہے‘۔

بیانِ حلفی کے مطابق جوناتھن ٹوبے نے اپریل 2020 میں ایک غیر ملکی حکومت کو ایک پیکج میل کیا جس میں خفیہ تعلقات قائم کرنے کے لیے محدود اعداد و شمار اور ہدایات کا نمونہ تھا۔

شکایت میں کہا گیا کہ ایف بی آئی نے پیکیج کو روک دیا اور خفیہ ایجنٹ نے جوڑے کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے لیے خود کو غیر ملکی حکومت کے نمائندے کے طور پر پیش کیا۔

ایجنٹ نے جوناتھن ٹوبے ’ایلس‘ استعمال کرتے ہوئے ایک ای میل بھیجی ڈیٹا کا شکریہ ادا کرنے کے لیے تحفے کی پیشکش کی گئی لیکن ٹوبے نے احتیاط سے جواب دیتے ہوئے تحفے کے بجائے ’ڈیڈ ڈراپ‘ مقام قائم کرنے اور کرپٹو کرنسی میں ادائیگی کرنے کو کہا۔

جوڑے نے اس کے بعد کئی مہینوں تک ڈیٹا کے متعدد انکرپٹڈ ایس ڈی (سیکیور ڈیجیٹل) کارڈز ایجنٹ کو منتقل کیے۔

ایجنٹ نے شکایت میں کہا کہ پہلے ڈیڈ ڈراپ میں ’ایس ڈی کارڈ پلاسٹک میں لپٹا ہوا تھا اور روٹی کے دو ٹکڑوں کے درمیان آدھے پینٹ بٹر کے سینڈوچ پر رکھا گیا تھا۔

اس جوڑے کو ہفتے کے روز ڈیڈ ڈراپ مقام پر ایک اور ایس ڈی کارڈ چھوڑنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ امریکی اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے ’سازش ناکام بنانے‘ اور ’مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پہلا قدم اٹھانے پر اس میں شامل ایجنسیوں کو سراہا’۔

جوڑے کو 12 اکتوبر کو ویسٹ ورجینیا کی وفاقی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Back to top button