شخصیات

ایڈیٹر ادبِ لطیف: آپا صدیقہ بیگم بھی چل بسیں

محمد نوید مرزا

محمد نوید مرزا
یہ ان دنوں کی بات ہے جب ا شرف سلیم راولپنڈی سے نیا نیا لاہور آیا تھا اور دفتر میں میرا اس سے تعارف یونس نشاط صاحب نے کروایا تھا۔ ہم دونوں مختلف مزاج ہونے کے باوجود جلد ہی ایک دوسرے کے قریب ہو گئے اور دوستی کا یہ سفر آج تک جاری ہے۔

انہی دنوں اشرف سلیم نے مجھے اپنے ساتھ ماہنامہ ”ادبِ لطیف“ کے دفتر جانے کا کہا۔ ہم گلبرگ میں واقع آپا صدیقہ بیگم کی کوٹھی میں پہنچے۔ یہ میری آپا سے پہلی ملاقات تھی۔ اس کے بعد ملاقاتوں کاایک طویل سلسلہ چل نکلا۔ آپا کی شفقتیں اور محبتیں ملتی رہی اور یہ ان کا مجھ پر اعتماد تھا جس کے باعث 1994ء میں مجھے ”ادب لطیف“کا ایڈیٹر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا مگر یہ سلسلہ ڈیڑھ دو برس ہی جاری رہا۔

1995ء میں مجھے اپنی سرکاری نوکری کے سلسلے میں ٹرانسفر ہو کر پشاور جانا پڑا جس کے بعد مجھے ادب لطیف چھوڑنا پڑا۔ دو سال بعد جب میری لاہور واپسی ہوئی تو ملاقاتوں کا سلسلہ پھر سے چل نکلا۔ صدیقہ آپا نے جہاں ایک طویل عرصہ ادب لطیف کو پوری تندہی اور توانائی سے جاری رکھا وہاں وہ رسالے کے مختلف مدیران اور لکھنے والوں سے بھی تمام عمر جڑی رہیں اور ان کی خوشی و غم میں شریک رہیں۔ 1995ء میں وہ آپا نسرین قریشی کے ساتھ ہی میری شادی میں بھی آئی تھیں اور 1998ء میں والدہ محترمہ کی وفات پر بھی دکھ کی گھڑی میں شریک غم رہیں۔

ایسی محبتیں وہ سب کے ساتھ رکھتی تھیں۔آپا صدیقہ بیگم مزاجاً سخت لگتی تھیں۔ لیکن ان کے اندر بڑی نرمی تھی، کسی بھی شخص کی پریشانی دیکھ کر اس کی مدد کے لیے تیار ہو جایا کرتی تھیں۔ یوں سمجھ لیں وہ ایک اخروٹ کی طرح تھیں جو باہر سے سخت اور اندر سے نرم ہوتا ہے۔

آپا صدیقہ بیگم نے اپنے والد چوھدری برکت علی کی وفات کے بعد طویل عرصہ تک ماہنامہ ”ادب ِ لطیف“ کو جاری رکھا اور ادب اور ادیبوں کی بھرپور خدمت کی۔ ”ادب ِ لطیف“ کے مدیروں میں بھی بڑی بڑی شخصیات ان کی ہم قدم رہیں۔ ان ہستیوں میں فیض احمد فیض، میرزا ادیب احمد ندیم قاسمی، مسعود اشعر، ناصر زیدی، ذکاء الرحمن اور بہت سے معروف شعراء اور ادباء شامل ہیں۔ مظہر سلیم مجوکہ اور شہد بخاری جیسے تجربہ کار لوگ بھی اس عظیم ادبی جریدے کی ادارت میں شامل رہے۔ نوجوان مدیران و مصنفین نے بھی پوری ایمانداری، لگن اور محنت سے ادب لطیف کے لیے اپنی خدمات انجام دیں ہیں۔

ظفر معین بلے اور راقم الحروف کو بھی صدیقہ بیگم کے زیرسایہ کام کرنے کا موقع ملا۔ وہ ایک ان تھک، حوصلہ مند اور لوگوں میں محبتیں بانٹنے والی خاتوں تھیں۔آپا صدیقہ کی وفات کی خبر سن کر ان کے ساتھ ملاقاتوں کی ساری تصویریں ذہن کے کینوس پر فلم کی طرح چلنے لگیں۔ ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ ان کے جنازے میں شریک ہوا۔ جہاں عزیزوں اور رشتہ داروں کی کثیر تعداد تھی لیکن شاعروں، ادیبوں اور فنکاروں میں ایوب خاور، ضیاء الحسن، شعیب بن عزیز، اشفاق رشید، نعیم طاہر، محترمہ یاسمین طاہرہ، مظہر سلیم مجوکہ، شاہد بخاری، بابا یحیٰی، ڈاکٹر فخر عباس اور اشفاق احمد کے بیٹے کے علاوہ چند ایک اور ادیبوں کے سوا وہ لوگ نظر نہ آئے جنہوں نے لاہور میں ہوتے ہوئے اور قریبی تعلق ہونے کے باوجود جنازے میں آنا گوارانہ کیا۔اس بات کا مجھے خاصہ دکھ ہوا۔ ممکن ہے انہیں بروقت اطلاع نہ ہو سکی ہو۔ خیر یہ ان کا ذاتی فعل ہے۔ رات کو کراچی سے ظفر معین بلے بھائی کا فون آیا تو وہ آپا کو یاد کرکے رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ فلائٹ نہ ملنے کی وجہ سے وہ لاہور نہیں آسکے ان کا اپنا دکھ ہے۔ صدیقہ آپا سب سے شفقت رکھتی تھیں۔

کراچی سے کبھی صغیر ملال ان کے مہمان ہوتے تو کبھی ذکاء الرحمن اور فاضل جمیلی ان کے گھر پڑاؤ کرتے تھے۔کبھی دیار غیر سے آنے والے لاہور آتے تو وہ ان کا بھی بھرپور استقبال کرتی تھیں۔ ایسی بھرپور شخصیت اور محبت کرنے والی خاتون کو یقینی طور پر تا دیر یاد رکھا جائے گا۔ آپا صدیقہ بیگم بڑوں کا احترام اور چھوٹوں سے شفقت کرتی تھیں۔ آخر میں ماؤں جیسی اس ہستی کے بلند درجات کے لیے دُعا گو ہوں۔ اللہ پاک انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں۔ آمین

Leave a Reply

Back to top button