بین الاقوامی

ایک ماہ میں تحریری امن تجویز پیش کرسکتے ہیں، طالبان

جہاں طالبان کے ترجمان نے دعوٰی کیا ہے کہ وہ غیر ملکی افواج کی روانگی سے بڑے علاقائی فوائد حاصل کررہے ہیں وہیں ان کا کہنا ہے کہ اگلے ماہ تک افغان حکومت کو ایک تحریری امن تجویز پیش کرسکتے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے بگرام بیس خالی کرنے کے بعد طالبان کی پیش قدمی کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز کے سینکڑوں اہلکار پڑوسی ملک تاجکستان فرار ہوگئے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا نے افغانستان میں تقریباً دو دہائیوں تک جنگ کے بعد 11 ستمبر تک اپنی تمام افواج کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔
جہاں بگرام ایئر بیس کی افغان فوج کو حوالگی نے نئے اضلاع پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے طالبان کی مہم میں اضافہ کیا ہے وہیں طالبان رہنماؤں نے گزشتہ ہفتے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان حکومت کے نمائندوں کے ساتھ طویل عرصے سے تعطل کے شکار مذاکرات کو بھی بحال کردیا ہے۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے رائٹرز کو بتایا کہ ’آنے والے دنوں میں امن مذاکرات اور امن عمل میں تیزی لائی جائے گی اور توقع کی جارہی ہے کہ وہ ایک اہم مرحلے میں داخل ہوں گے، فطری طور پر یہ امن منصوبوں کے بارے میں ہوگا‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ممکنہ طور پر اس مرحلے کو پہنچنے میں ایک مہینہ لگے گا جہاں دونوں فریقین اپنے تحریری امن منصوبے کو شیئر کریں گے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کا تازہ ترین دور ایک نازک موڑ پر ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ’جہاں جنگ کے میدان میں ہم (طالبان) کا ہاتھ اوپر ہے وہیں ہم مذاکرات اور بات چیت میں بھی بہت سنجیدہ ہیں‘۔
طالبان کے نمائندے کے ریمارکس پر رائے دیتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں 40 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ بات چیت ہے۔
عہدیدار نے کہا کہ ’ہم فریقین سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ سنجیدہ مذاکرات میں مشغول ہوں تاکہ افغانستان کے مستقبل کے لیے ایک سیاسی روڈ میپ طے کیا جاسکے جو ایک منصفانہ اور پائیدار تصفیہ کا باعث بنے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’دنیا افغانستان میں طاقت کے استعمال سے بنی حکومت کو قبول نہیں کرے گی، کسی بھی افغان حکومت کے لیے قانونی حیثیت اور امداد اسی صورت میں ممکن ہے جب اس حکومت کو انسانی حقوق کا بنیادی احترام حاصل ہو‘۔

Leave a Reply

Back to top button