شخصیات

بابا جی! اشفاق احمد…… آکاش

پہلے بابا جی پر مضمون لکھنا چاہیے تھا، لیکن یہ واردات سے ہٹ کر بات ہو تی۔ جیسے شہاب صاحب نے ”ماں جی“ لکھا اور بابا جی نے ”اماں سردار بیگم“۔ بھلا اس راستے سے ہٹ کر کیسے لکھا جا سکتا ہے۔ مجھے تو مفتی صاحب کی سمجھ نہیں آ رہی۔ جب جب بھی بابا جی پر لکھنے کے لیے کاغذ قلم سنبھالا ہے ہر بار مفتی صاحب بھاگ کر پہلے آ جاتے ہیں۔ زندگی میں کبھی ملا نہیں پر پتا نہیں کیوں شریر سا بچہ یا دادا جی جیسے لگتے ہیں جس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کو دل کرتا ہے۔ مفتی صاحب کی یاد میں الحمرا میں پروگرام ہو رہا تھا جس کی خبر فلمی صفحہ پر چھپی تھی۔ اخبار میں میری دلچسپی فلمی صفحہ سے آگے کی نہیں، وہ بھی حاضر دن کا۔ پتا نہیں یہ کیسے ہوا جیسے کوئی مجھے پکڑے تین دن پرانے اخباروں کے پاس لے گیا۔ جلدی جلدی فلمی صفحہ پڑھنے کا حکم دیا۔ نظر رکی تو مفتی صاحب کے پروگرام پر۔ سمجھ گیا۔ پروگرام میں حاضر ہونے کا حکم ہے۔ وہاں کہنے اور سننے میں ایسی کون سی نئی بات ہو گی سوائے اس کے کہ وہاں بے جی تھیں۔ ایسا نیا کیا ہے ہمارے پاس جو پہلے سے لوگ جانتے نہیں ہیں۔ وہی چند الجھنیں اور ان پر ایک لمبی سی گہری سانس یا پھر لاجواب سا قہقہہ۔
قہقہوں کی بارش تو ہمارے اور ہر دل عزیز عبداللہ حسین نے کر دی تھی۔ کسی افسانہ نگار کے ساتھ شام کا اہتمام قاسمی صاحب نے کیا ہوا تھا۔ موصوف کا نام اس لیے نہیں لکھ رہا جو شخص سلام کا جواب نا دے اُس جیسا بے ادب کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ اتنی داد پروفیشنل مزاح نگار شاعروں کو نصیب نہیں ہوئی جتنی اُس دن عبداللہ حسین کو نصیب ہوئی تھی۔گویا محفل ہی لوٹ لی‘ لیکن اُس دن مفتی صاحب کی محفل میں قہقہے نہیں آنسو تھے۔ بچھڑنے والوں کا ذکر تھا جن میں سرفہرست بابا جی تھے۔ پلٹ کر دیکھتا ہوں تو کئی لکھنے والوں کی جدائی نظر پڑتی ہے جن کو دور سے دیکھنے اور ہاتھ ملانے کی حد تک کی شناسائی تھی، لیکن دل و جان سے ملنا صرف بابا جی سے ہوا۔
بابے بابے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ ایک راہ راستے میں مل جائے۔ سلام دُعا ایجاب قبول ہو گیا۔ بس ہو گیا۔ ایک گیان دھیان استھان جمائے بیٹھا ہو اُس کی حاضری بڑی مشکل ہوتی ہے۔ جس کے لیے سیانے کہتے ہیں ”مُنے ہوئے فقیر تے پسے ہوئے دارو دا پتا نہیں لگدا“۔ میری زندگی کا پہلا بابا ٹاہلی جس کے جھولے جھامے جھالے سب کچھ میرا تھا۔ جس کی یادوں اور خوابوں میں گُم کب اور کیسے ”زاویہ“ کی حقیقت تک آن پہنچا۔ گزری صدی کے سبھی لکھنے والوں کو کم یا زیادہ پڑھا ضرور ہے۔ جو ادب میرے خواب و خیال پر مرتسم ہو کر رہ گیا ان میں ”گڈریا“ اور ”اج آکھاں وارث شاہ نوں“ کا اثر کچھ زیادہ ہے۔
پچانوے کی بات ہو گی جب میری زندگی میں ایک حادثہ رونما ہو گیا۔ جس کی فرضی سی کتھا کہانی اکثر احباب کو سنایا کرتا۔ کبھی غلط انگریزی، کبھی اردو تو کبھی پنجابی میں۔ اُس ادھوری کہانی کا کوئی پورا سیریل یا فلم بنا کر داد سمیٹ لینا چاہتا تھا۔ پر یہ سب کچھ نا ہونا تھا اور نا ہی ہوا۔ یہ زلفِ دراز کی سی الگ کہانی ہے۔ پتا نہیں کیوں مجھے بابا جی میں اس پورے مسئلے کا حل نظر آنے لگا۔ اب معاملہ ان سے ملنے کا تھا جو کسی اور حل ہوتا نظر نہیں آ رہا تھا۔ کئی بار ٹی وی اسٹیشن بھی چکر لگا آیا اور ہر بار مایوسی ہوئی۔ میری یہ مشکل ایک آسان سی جگہ سے حل ہو گئی جیسا کہ ہماری ہر مشکل کا حل دوسرے قدم پر ہمارا منتظر ہوتا ہے بشرطِ کہ ہم وہ قدم تو اٹھائیں۔ ایک جگہ رُکے رُکے آپ کبھی بھی منزل پر پہنچ نہیں پائیں گے، اس سے قطع نظر کہ یہ سفر آسان ہے یا مشکل۔
اس مشکل کے لیے مجھے سو قدم قریب ہی واپڈا سے ریٹائرڈ ایک بزرگ ملے جن کے ہاں بہت سے لڑکے بالے اکٹھے ہوتے۔ وہ کوئی خاص بات وات نہیں کرتے تھے۔ ہر ایک کو پانچ روپے کا نوٹ سائن کر کے دے دیتے۔ یہ ان کے آٹو گراف کا طریقہ کار تھا۔ مجھے بھی مل چکا تو میں نے بابا جی سے ملنے کا وچار رکھ دیا۔ وہیں پنکی بھائی بیٹھے تھے انہوں نے وعدہ کر لیا ”میرا کزن بھی ماڈل ٹاؤن میں رہتا ہے۔ بابا جی کے ہاں کئی بار سموسے‘ پکوڑے اور جلیبیاں اڑا چکا ہے“۔
چند دن بعد مجھے ایڈریس اور لینڈ لائن نمبر مل گیا۔ ایک پی سی او والے کے پاس جانا اور نمبر ڈائل کرنے کا کہنا۔ وہ ہر بار کہے ”انکل نمبر غلط ہے یا فون خراب ہے“۔ خدا جانے وہ مہربان غلط لکھ لائے یا اکثر میرے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ لکھتے وقت ایک آدھ ڈجٹ مس کر جاتا ہوں۔ آگے آپ بہتر جانتے ہیں ایسے نمبر پر کبھی بھی آپ کا پرائز بانڈ لگ ہی نہیں سکتا۔ تین مہینے گزر گئے۔ اسی پی سی او والے کے پاس گیا ”یار ایک بار ڈائل کر دیں پھر نہیں آؤں گا“ اب حالت یہ تھی وہ مجھے دیکھتے ہی چھپ جائے۔ شائد یہ بھی کہتا ہو”پاغل ای او“ ایک دن اچانک پی سی او میں داخل ہوا تو دیکھ کر ہنسنے لگا”انکل جی پلیز ماف کر دیں“ جس پر مجھے بابا جی کا فقرہ اور بھی پیارا لگا”یک گیر محکم گیر“۔
”آخری بار۔ پکا پرومس۔ اس کے بعد نہیں آؤں گا“ پرومس کی ہَنی کینڈی دے کر رونی سی صورت بنا کر کھڑا ہو گیا۔ بچے نے بجھے دل اور جان بخشی کی خاطر فٹا فٹ کال ملائی اور اُس کے چہرے پر کوئی خوش گوار سی حیرت دوڑنے لگی۔ کال لگ چکی تھی۔ پھر کچھ دیر بعد ہی اس نے جب سلام کہا اور آگے سے سلامتی کے الفاظ سنے تو وہ سکتے میں آ گیا”یہ تو بابا جی اشفاق احمد ہیں“ پھر کیا تھا۔ بارہ سال کا نیوندرا نکال کر بیٹھ گیا۔ ایک ایک شادی پر دیے لیے نئے پرانے لاگ لتھے۔ حساب کتاب۔ وہ بھی گرو گیانی تھے خوب نگ گنوائے۔ موقع اور وارداتِ موقع بھی جتائے۔ عقدہ یہ نکلا کہ فون نمبر میں ایک زیرو کم تھا۔ جب بچے نے خفگی سے نمبر ملایا تو وہ زیرو خود سے یا حکم ربی سے دب گیا اور نمبر مل گیا۔ وعدہ وعید ہو گیا۔ ہماری عید ہو گئی”بابا جی مجھے تو گھر کا پتا نہیں ہے“ تو کہنے لگے”جب گھر سے نکل پڑو گے تو منزل پر بھی پہنچ ہی جاؤ گے“ اگلی حیرانگی کی بات تھی پی سی او کا بل ایک سو پینسٹھ روپے بنا اور میری جیب میں بھی اتنے ہی تھے۔
یہ بھی پڑھیں! بے جی! بانو آپا…… آکاش
ملنے کی لگن لگ گئی۔ اتنی تیاری بہو سسرال جانے کے لیے نہیں کرتی جتنی مجھ پر واجب ہو گئی۔ گھر سے نکلا تو خاندان کے ایک بچے نے دیکھ کر کہا”چاچو زندگی میں پہلی بارآپ کو اتنا خوش دیکھا ہے۔ خیر تو ہے“؟ کیا کہتے جب آس مراد پوری ہو جائے تو بندے کے پاس الفاظ ہی نہیں ہوتے۔ برکت مارکیٹ کے سامنے ویگن خراب ہو گئی۔کنڈکٹر کہے ”باؤ جی وہ سامنے ماڈل ٹاؤن ہے“
”کرایہ کہاں تک کا لیا“
”ماڈل ٹاؤن موڑ تک کا“
”وہیں اتروں گا“
”بیٹھے رہیں۔ سانوں کیہہ“
تمام سواریاں اتر گئیں اور ہم بیٹھے گویا مرزا جی کے لیے ہواداری کا انتظام ہوا ہی چاہتا ہے۔ اللہ اللہ کر کے ماڈل ٹاؤن موڑ آ گیا۔ کس سے پوچھوں۔ کدھر جاؤں۔اتنے میں ایک بزرگ پر نظر پڑی۔ مدعا بیان کیا تو کہنے لگے۔”میاں ان کے ہاں کبھی گئے نہیں پر آپ کو چھوڑ آتے ہیں“۔ یہ وہی ماڈل ٹاؤن موڑ ہے جس کے انڈر پاس کی آسانی پر بابا جی کی مہر لگی ہوئی ہے۔ جنہیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے کئی بار کوٹھے پنڈ، لنک روڈ، ڈی بلاک، ڈی گراؤنڈ ہوآئے۔ ایڈریس کا پتا جو نہیں تھا اور جب خط پر درست ایڈریس نا لکھا ہو تو کبھی بھی وہ اپنے مقام پر پہنچ ہی نہیں سکتا، بے شک اُس پر ڈبل ٹکٹ کیوں نا لگے ہوں۔
بابا جی کے در پر حاضری لکھی تھی سو قبول ہو گئی۔ دائیں ہاتھ بیٹھا تھا جب پوچھنے لگے ”نوٹ گن لیتے ہیں جیسے کیشئر تیزی سے گنتے ہیں“ نہیں بابا جی”ایک چھوٹا سا کیشئر کا رول تھا“۔ جھٹ سے کہا ”جی میں کر لوں گا“ ہنستے ہوئے ”نہیں آپ اتنی تیزی سے گنتی نہیں کر سکیں گے“۔ زندگی میں بہت سے کردار ادا کرنے پڑتے ہیں۔کچھ دل سے، کچھ دماغ سے اور کچھ مجبوری کے عالم میں‘ مگر ان میں سب سے پیارا کردار مجھے جھاڑو دینے والے کا لگتا ہے۔ اس دن آرٹسٹ زوبی کا انتقال ہوا تھا اور اس سلسلے میں مسلسل کارڈ لیس بج رہا تھا جسے فرداً فرداً سنتے بھی جاتے اور اپنے خیالات کا اظہار بھی کرتے جاتے۔ انتہائی مصروفیت کے باوجود وقت نکال کر ڈائنگ روم کے تخلیے میں مجھ سے فضول انسان کی پوری بات سنی۔
جب تک ڈرائنگ روم میں واپس آئے تو دوچار ٹیبل لیمپ کی پُراسرار سی روشنی پھیل چکی تھی۔ بجلی سے پہلے کے زمانے کا گمان ہوتا جب دیے کی روشنی میں بزرگ کہانی سنایا کرتے۔ بالکل ویسا ہی ماحول جس میں بابا جی کا چہرہ تو صاف دکھائی دیتا مگر حاضرینِ محفل چھپے چھپے سے تھے۔ سننے والوں کی تشنگی کا عالم میاں میر کے کبوتروں جیسا تھا جو چوگا کے لیے دربار کے کلس سے دیوانہ وار گرتے ہیں۔ مہمان نوازی داستاں سرائے کی پہچان ہے جس کے بارے میں بزرگ کہتے ہیں جن گھروں میں مہمان کی خدمت نہیں کی جاتی وہ گھر نہیں قبرستان ہوتے ہیں۔ کچھ لانے والے ہاتھ تھے تو بہت سے کھانے والے۔ اس دن کھانے والوں میں ہم بھی شامل تھے اور کھلانے والا ہاتھ بابا جی کا تھا۔ یوں سمجھیں لکھنے کی گڑتی دی۔ میری خوش بختی پہلی کہانی بابا جی نے پڑھی اور دوسری بے جی نے۔ وہ کہانیاں تھیں یا نہیں اس سے قطع نظر مجھ سے ناقص بندے کو اُن کا رہنمائی کرنا کسی نعمت سے کم نہیں۔ زندگی کا اصول ہے ایک پیڑھی تکلیف سے گزرے گی تو دوسری کو سُکھ ملے گا۔ یہ تکلیف جسمانی ہو یا روحانی۔ باباجی کی جنریشن نے پاکستان بنایا اور ہمیں بنا بنایا مل گیا۔ شائد اسی لیے ہم ہر وقت پاکستان بنے پھرتے رہتے ہیں۔ میری ہمیشہ سے یہ خامی رہی ہے، بہت ساری امیدیں وابستہ کر لیتا ہوں۔ پاکستان سے اور اُس میں بسنے والے لوگوں سے۔ خود کبھی بھی اس ملک اور اس میں بسنے والوں کے لیے امید کی کرن نہیں بن سکا۔ بابا جی سے تین بار ملنا ہوا۔ ان کے آٹو گراف ”راستے کی باتیں کرنے سے راستہ طے نہیں ہوتا۔ ماننے کے لیے جاننا ضروری نہیں“ کی خیرات میری ذات کا کل سرمایہ ہیں۔ آخری ملاقات میں ان کی گفتگو مفروضے کے متعلق تھی۔۔۔۔۔
”آپ سب احباب خاموش کیوں بیٹھے ہیں۔کوئی بات وات کریں۔ جب حاضرین کی طرف سے مسلسل خا مو شی رہی تو بابا جی پوچھنے لگے یہ مفروضہ کیا ہوتا ہے۔ اکثر کتابوں میں پڑھا ہے پر میری میتھ کوئی اتنی اچھی نہیں۔ ہر بار ان مفروضوں میں فیل ہی رہا ہوں۔
خواتین وحضرات! ہمار ے ہاں بہت سارے معا ملات کا تعلق ان مفروضوں پر ہوتا ہے۔ اگر اس طرح ہو گیا تو اُس طرح کیا ہو گا۔ اگر گرمی زیادہ پڑ گئی تو کیا بنے گا۔ اس طرح کے مفروضوں کی وجہ سے دنیا میں بہت بڑی فرسٹریشن ہے۔ ہم ہر وقت ڈرے ڈرے سہمے سے رہتے ہیں کہ کل اور کب کیا ہو جائے۔ انہی مفروضوں کا شاخسانہ تھا جو بہت سی قوموں پر جنگیں مسلط کر دیں۔ آج بھی ہم لوگ ان مفروضوں کے بچھائے ہوئے جال میں الجھے ہوئے ہیں‘ لیکن عام آدمی کے پاس مفروضے نہیں ہوتے جیسے امریکہ کے پاس ہیں۔ مفروضے ہوں‘ جواہرات ہوں یاجوہری ہتھیار ان کے ہونے نا ہونے کے بھی بڑے معاملے ہیں۔ بات ان کے استعمال کی ہے۔ ان چیزوں کا استعمال جنتا کم ہو گا انسان اتنا ہی فلاح میں رہے گا۔
جوہری ہتھیار ہوں یا الفاظ قوم کی امانت ہوتے ہیں۔ الفاظ کا بے جا استعمال بھی کسی بلٹ سے کم نہیں ہوتا جس سے معاشرے میں فلاح کا پہلو کم کم نظر آتا ہے۔ پریشانیاں بڑھتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ کسی کو خبر ہی نہیں ہوتی ان الفاظ کے استعمال کی جزا اور سزا بھی ہو سکتی ہے جو انسان کا پیچھا کرتی رہتی ہے۔ ایسی ہی سزا جزا سے ایک واقعہ یاد آ گیا۔ مخدوم تھے۔ حویلی تھی یا محل۔ بستر تھا یا تخت۔ نوکرانی بستر خالی دیکھ کر دو گھڑی کے لیے سو گئی۔ اسے بہت پیاری جگہ لگی ہو گی۔ مخدوم کی نظر پڑی تو سوئی ہوئی کو دو تین ہنٹر مارے۔ تیری یہ جرأت۔تو مخدوم کی سیج پر سوئے۔ وہ چیختی چلاتی اٹھ بیٹھی۔ روتی روتی ایک دم ہنسنے لگی اور ہنستی چلی گئی۔ مخدوم مخمسے میں پڑ گیا۔ رونے کی تو سمجھ آتی ہے پر ہنسنے کی نہیں۔ وجہ کیا ہے۔ زد کر لی تو وہ کہنے لگی۔ حاکم سرکار روئی اس لئی تھی۔ جسم تھا کوئی پتھر تو نہیں اور ہنسی اس بات پر ہوں۔ بھلی تو کیوں روتی ہے۔ تیرا قصور تو چند گھڑیوں کے سونے کا ہے جس کی اتنی بڑی سزا ملی اور سوچ جو عمر بھر اس پر سوئے گا اس کو کتنی سزا ملے گی۔ یہ سننا تھا تو مخدو م چکرا کر گر پڑا اور عمر بھر کے لیے طارق ِ دنیا ہو گیا۔ انہیں شائد موئے مبارک کا خطاب ملا۔ یہ ہوتے ہیں الفاظ جو انسانوں کی زندگیا ں بدل دیتے ہیں۔ جن کا بروقت استعمال فلاح کا کام کرتا ہے اور بے جا اصراف بے چینی‘ بے قراری اور پریشانیوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ علم انسان کو ماسوائے سوال کے کچھ نہیں دیتا۔ انٹیروگیشن۔ سوالیہ نشان۔ جبکہ ان پڑھ لوگ ہمیشہ جواب‘ ہاں اور جی کے مقام پر زندہ رہتے ہیں سردار فتح سنگھ کی طرح۔
سردار جی چھٹیاں گزارنے لاہور آ ئے تو ہم سب ان سے ملنے چلے گئے۔ ایک نوجوان غالباً بلال نام تھا وہ فتح سنگھ سے کہے۔ میں نے سنا ہے آپ بتوں کی بھی پوجا کرتے ہیں جس پر وہ بے حد افسردہ سا کہے۔ نہیں کاکے۔ ہم صرف پگڑی اور داہڑی کے ہی نہیں لا الا اللہ تک آپ کے اسلامی بھائی ہیں۔ یہ تو ہماری قسمت جو آپ لوگوں سے بچھڑ گئے۔ شائد تقدیر کا لکھا تھا۔ تقدیر قوموں کی ہو یا انسانوں کی اقوال سے نہیں اعمال سے بدلا کرتی ہے۔ ویسا ہی عمل جیسا رئیس غازی نے کیا تھا۔ رئیس غازی ایک بیوہ کی بکریاں چرایا کرتا۔ بیوہ بہت ساری جائید اد کی مالک تھی۔ نام لیوا کوئی تھا نہیں۔ پٹوار کا زمانہ تھا جو اب بھی ہے۔ پٹواری نے اس کے وارثوں میں اسی چرواہے کا نام لکھ دیا۔ کل کا نوکر آج جاگیر کا مالک تھا۔ دولت ملے تو عقل بھی مل جاتی ہے۔
رئیس غازی کی دانش بینش نے کام کیا اور ایک بہت بڑا محل بنوایا۔ محل میں سوئے ہوئے کی نظر مسجد پر پڑی تو سوچ میں پڑ گیا۔ رئیس غازی یہ تیرے باپ کا مال تھا جو اپنا گھر اتنا بڑا بنا لیا اور خدا کا گھر اتنا چھوٹا۔ اسی دن اُس نے بھُنگ مسجد کی بنیاد رکھ دی جو خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔ صدیوں سے بنتی آئی ہے اور آج تک اس کا کام جاری ہے۔ شائد یہی وجہ ہے اس علاقے میں اگر کسی گھر میں مستری دو چار دن ٹک کر کام کرنے لگے تو میٹھے لوگ کہتے ہیں۔ مستری بھر ا کیا تم نے بھُنگ مسیت بنا رکھی ہے۔ مسجدیں بھی ہوں گی اور گردوارے بھی‘ لیکن عبادت والے کہاں سے لائیں گے جن کا حاضر یقین خدا پر کم از کم پائلٹ یا ڈرائیور جتنا تو ہونا چاہیے جو ہمیں منزل پر لے ہی جائے گا۔ ہم بسمہ اللہ پڑھ کر سوار ہو جاتے ہیں بغیر کسی خوف اور مفروضے کے۔۔۔۔۔۔ اللہ کریم آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے (آمین) “
ابھی بابا جی نے لمبی اور ٹھنڈی سکھ کی سانس لی ہی تھی کہ ایک بچہ حاضر ہوا۔ اس کا اندازِ زیست آج تک نہیں بھولا۔ کھدر کی ان سلی سی کفنی پہنے ہوئے کارنش بجا لایا جیسے ہندو دھرم میں پتنی پتی کے پاؤں چھو کر مانگ میں سندور بھر لیتی ہے۔ قدموں میں بیٹھنے لگا تو بابا جی نے اُسے سختی سے منع کیا اور پہلو میں بیٹھنے کا حکم دیا۔ کھوئی ہوئی طاقت اور اکھڑے ہوئے سانس کو بحال کرتے ہوئے کہنے لگا ”بابا جی! مجھے خواب آتے ہیں۔ پرندوں کی طرح اڑنے والے خواب۔ پہلے پہل پرواز کرتا اور ایک دم زمین پر آن گرتا۔ پاتال تھا کہ آنے کا نام ہی نا لیتا اور میں گرتا جاتا گرتا جاتا۔ اس دروان میرے دل کی دھڑکن بے حد تیز ہو جاتی ہے اور جھٹکے کے ساتھ بیدار ہو جاتا ہوں۔ ان خوابوں میں مجھے ہر بار دھڑکا لگا رہتا کہ کہیں میں زمین کی کشش سے نکل کر ساتویں آسمان پر نا پہنچ جاؤں۔ ایک بار تو بالکل ایسا ہی ہوا۔ مجھے لگا میں زمین سے کئی نوری سالوں کے فاصلے پر پہنچ گیا ہوں اور اب کبھی بھی زمین پر واپس نہیں آ سکوں گا مگر دوسرے لمحے ہی اپنے بستر پہ تھا۔ پھر دھیرے دھیرے میری رفتار میں ٹھہراؤ آنے لگا۔
اب کی بار میں نے سندر بن کے جنگل پر اڑان بھری ہے جو چودھویں کے چاند کی روشنی میں نہایا ہوا تھا۔ اتنا پیار منظر شائد ہی میں نے کبھی زندگی میں دیکھا ہو۔ درختوں کے اوپر اڑ رہا ہوں۔ میرے ہاتھ پاؤں بالکل سیدھے پیچھے کو مڑے ہوئے ہیں اور چہرے کا رُخ زمین کی طرف ہے۔ بالکل پرندوں کی طرح۔ عجیب منظر دیکھتا ہوں۔ انسان ہیں جنہوں نے سبز ٹہنیوں کے گٹھے اٹھائے ہوئے ہیں۔ وہ بھی درختوں کے اوپر نیچے اڑ رہے ہیں اور ہری بھری شاخوں کے گٹھے ان پر پھینکتے جاتے ہیں۔ وہ نازک پتوں اور شگوفوں والی ٹہنیاں جھٹ میں درختوں کا حصہ بن کر جھولنے لگتی ہیں۔ اس دوران میں جنگل کے بیچ کھلی جگہ پر اتر جاتا ہوں تو میرے سامنے ایک نوجوان چلتا ہوا جا رہا ہے۔ میں اُس کے پیچھے پیچھے چلتا جاتا ہوں۔ وہ جب رک کر میری طرف دیکھتا ہے تو باریش بزرگ ہوتے ہیں۔ مجھے ٹھیک طرح سے ان کی باتوں کی سمجھ نہیں آتی سوائے ان الفاظ کے۔آپ اتوار کو چھوڑ باقی کسی بھی دن مجھ سے مل سکتے ہیں اور خواب ختم ہو جاتا ہے۔
بابا جی! میں نے زندگی میں کبھی بھی ہوائی جہاز کا سفر نہیں کیا پھر یہ اڑنے والے خواب کیسے حقیقت کا روپ دھار کر مجھے کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں۔ یہ خواب مجھے رات کے پچھلے پہر میں آتے ہیں اور بھولنا بھی چاہوں تو اِن کو بھول نہیں سکتا۔ پتا نہیں یہ میرے لیے اچھے ہیں یا نہیں۔کچھ رہنمائی فرمائیں“ بچے کی خوابوں والی کہانی نے سب حاضرین ِ محفل کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔ بابا جی بس اتنا ہی کہہ سکے ”پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ آپ ان کو ضبطِ تحریر میں لے آئیں شائد کسی کا بھلا ہو جائے۔ اللہ خیر کرے گا“ بجھے دل اور تھکے قدموں کے ساتھ سب حاضرین ِ محفل سے اجازت لے کر اپنے کمرے میں چلے گئے۔
اور یوں اُس بھری محفل سے ہم سب ہمیشہ کے لیے اُٹھ آئے۔ ویسی شخصیت کا ملنا محال ہے‘ پھر بھی دل لگانے کو کوا‘کتا اور کتاب ضروری ہوتی ہے۔ ہر کتاب اور اُس کا لکھنے والا خیر نہیں ہوا کرتا۔ بابا جی کی طرح جن کا لکھا ہوا کوئی بھی حرف یا مقالمہ ایسا نہیں جس سے کسی غریب یا امیر کی دل شکنی ہو۔ کچھ میرے جیسے کالے بخت‘کالے حرف اور کالے لوگ بھی ہیں جن کے لکھے ہوئے سے کسی غریب کا بھلا ہو نا ہو اُس کی جھونپڑی کو آگ ضرور لگ جاتی ہے۔ ضروری نہیں حضرت واصف علی واصف ؒ جیسے سبھی خیر ہی خیر ہوں یا بابا جی کی طرح خدمت ہی خدمت۔ یہ خیر اور خدمت اُن کی اپنی ذات کے لیے تھی یا نہیں مخلوقِ خدا کے لیے ضرور تھی۔ اس سے قطع نظر کہ کوئی حق دار ہے یا نہیں۔ میرا پختہ یقین ہے اگر بابا جی ڈاکٹر اشفاق احمد ہوتے تو کبھی بھی ہر دلعزیز نا ہوتے۔ وہ زندگی میں بھی بابا جی تھے اور بعد از وصال بھی ہیں۔ دُعا دینی چاہیے جو نیکی تو اپنی ہوتی ہے لیکن صدقہ جاریہ کی طرح اوروں کے ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہے۔

Leave a Reply

Back to top button