تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

بابونہ: قدرتی انسولین کا خزانہ

بابونہ سے حاصل کیے گئے تیل میں چامولین (chamazulene) ہوتا ہے۔ جو بنیادی طور پر اینجلک ایسڈ(angelic acid) اور ٹائگلک ایسڈ((tiglic acid سے تشکیل پاتا ہے۔ اس کے تیل میں فورنسیئن (farnesene) اور اے پنینی(a-pinene) بھی شامل ہوتاہے۔

اس دنیائے رنگ و بُو میں جہاں انسان اور حیوان بستے ہیں اور ان کا وجود زمین پر زندگی کی بقا کے لیے ضروری ہے، وہیں جانداروں میں سبزہ اور پیڑ پودے بھی شامل ہیں جن کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں۔

انسان اور جانور ان جڑی بوٹیوں، پیڑ پودوں اور انواع و اقسام کے سبزے کو کھاتے ہیں، ان کا رس پیتے ہیں، ان سے صحت اور تن درستی کے علاوہ علاج معالجے میں مدد لی جاتی ہے۔

دنیا بھر میں پودوں کی ایسی ہزاروں اقسام موجود ہیں جو ہمارے لیے بہت مفید اور بعض حیرت انگیز خاصیت رکھتی ہیں۔ انہی میں سے ایک بابونہ (chamomile)نامی پودا ہے۔ جس کا نباتی نام میٹری کاریا کیمومیلا ہے۔جو جنوبی ایشیا سے امریکا تک پایا جانے والا مشہور پودا ہے۔ اس کی کئی اِقسام ہیں۔ بعض اِقسام کے پھولوں سے تیل بنتا ہے۔بعض اقسام کے پھولوں سے سفوف بنتا ہے اور کچھ اقسام کے پھولوں سے چائے تیار ہوتی ہے۔

اس پودے کے پھول کو گل بابونہ کہتے ہیں، انگریزی میں کیمومائل فلاور، عربی میں پابونج،سندھی میں بابونو اورہندی میں مرہی کہتے ہیں۔ بابونہ کا پودا لگ بھک تین فٹ اونچا ہوتا ہے۔ جس پر بہت سی ننھی ننھی سر سبز شاخیں ہوتی ہیں۔ جو بعض اوقات ایک بالشت تک بڑی ہوجاتی ہیں۔ پتے چھوٹے ہوتے ہیں۔ پھول سیوطی کے پھول کی طرح چکردارپھولوں کی اکہری یا ہری گھنڈیاں اور پھولوں کی رنگت سفید یا زرد ہوتی ہے۔سفید پھول زیادہ خوشبودار اورموثر ہوتے ہیں۔ پھولوں کے اندر ہی تخم (بیج)بھرے ہوتے ہیں۔اس پودے کے پھول، بیج اور جڑیں دواؤں میں استعمال ہوتی ہیں۔

بابونہ میں پائے جانے والی کیمیائی اجزا:
بابونہ سے حاصل کیے گئے تیل میں چامولین (chamazulene) ہوتا ہے۔ جو بنیادی طور پر اینجلک ایسڈ(angelic acid) اور ٹائگلک ایسڈ((tiglic acid سے تشکیل پاتا ہے۔ اس کے تیل میں فورنسیئن (farnesene) اور اے پنینی(a-pinene) بھی شامل ہوتاہے۔

جبکہ گل بابونہ کے بنیادی اجزا میں ایک سے دو فیصدvolatile oils (ولاٹائل آئل) ہوتا ہے، جو alpha-bisabolol (الفا بیسا بولول اور alpha-bisabolol oxides A & B(بیسا بولول آکسائیڈ اے اور بی) پر مشتمل ہوتا ہے۔

بابونہ کا استعمال:
بابونہ کے بیج، جڑوں اور خصوصاً پھولوں سے تیار کردہ مرکبات (ادویات، معجون،تیل وغیرہ) بخار، سوزش، پٹھوں کی کمزوری، حیض کی خرابی (ایام حیض کو باقاعدہ بناتا ہے)، نیز پھولوں کا گرم جوشاندہ تکلیف دہ حیض میں افاقہ بخشتا ہے۔ السر، معدے کی خرابی، گٹھیا، بواسیر اور زخموں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسے قدرتی انسولین کا خزانہ بھی کہا جاتا ہے، یہ بوٹی شوگر کی دشمن بھی کہلوائی جاتی ہے۔
طب اسلامی و یونانی میں بابونہ یا گل بابونہ کا کافی استعمال کیا جاتا ہے۔جرمنی میں اس جڑی بوٹی کو ہومیو میڈیسن میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ محرک آور ہے، لہذا بدن میں بننے والی گلٹیوں اور گومڑوں کو تحلیل کرتا ہے۔ بابونہ نظام ہضم کی اصلاح کرکے ریاح کو دور کرتا ہے۔

بابونہ کے فوائد:
بابونہ کے پھولوں سے بنی چائے انسان کو سکون بخشتی ہے اور اسی کے تنے ہوئے اعصاب کو نارمل کرتی ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں کیمومائل فلاور کی چائے بہت شوق سے پی جاتی ہے جو اپنے طبی فوائد اور مسحور کن خوشبو کے لحاظ سے بے مثال ہے۔ جبکہ پاکستان کے دیگر علاقوں جیسے پنجاب، سندھ وغیرہ میں گل بابو نہ کی چائے کم پی جاتی ہے، لیکن امریکہ اور یورپ میں اس کا اِستعمال عام ہے۔ وہاں بابوبہ کے جوہر سے بنی ادویات بھی عام ملتی ہیں۔ 2018میں امریکہ کے طبی سائنس دانوں نے بے چینی کے شکار متعدد افراد جن میں خواتین اور مرد شامل تھے کو آٹھ ہفتے تک بابونہ سے بنی ہوئی دوائیں کھلائیں۔انھوں نے دیکھا کہ ان ادویات کی بدولت وہ تقریباً سب بے سکونی سے نجات پاگئے۔

مغرب میں ہونے والی تحقیقات:
اسی طرح دیگر ایشیا ئی و یورپی ممالک میں کی جانے والی تحقیق سے اس کے حیرت انگیز اور ان گنت فوائد سامنے آئے ہیں جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔
بابونہ کا پھول میں Coumarinکمپاؤنڈ خون کو پتلا کرتا ہے۔
صدیوں سے اس کی چائے یونان، مصر اور روم میں زخموں کو مندمل کرنے کیلئے استعمال کی جاتی رہی ہے۔ جسے جدید تحقیق نے بھی درست ثابت کیا ہے۔
طبی ماہرین کے نزدیک یہ چائے ذیابیطس اور بلڈ شوگر کے مریضوں کیلئے بھی انتہائی افادیت کی حامل ہے۔
یہ اینٹی بکٹیریل ہے اور سردی سے ہونے والی کھانسی فلو اور بخار وغیرہ کے مریضوں کیلئے انتہائی سود مند ہے۔
برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق کیمومائل کی چائے پٹھوں کے درد اور کچھاؤ میں آرام دیتی ہے۔
اس کی بنی ہوئی چائے معدے کے امراض مثلا گیس اور السر وغیرہ کیلئے انتہائی مفید ہے۔
کیمومائل ٹی کی مدد سے نیند کے مسائل سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ اس کے استعمال سے بہتر اور پر سکون نیند آتی ہے۔
یہ بواسیر کا قدرتی علاج ہے اور اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس کی بنی چائے صحت مند جلد کے حصول کے لئے بھی مفید ہے اور خواتین اسے نیچرل سکن کلینزر کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔
مغربی محققین طب نے اس بات کا امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ یہ کینسر کے خلاف بھی موثر ہے لیکن فی الحال اس کے بارے میں مزید تحقیق جاری ہے۔

مشرقی ممالک میں اس کا استعمال:
یونانی طب کی تاریخ میں بابونہ کا استعمال تقریباً 5ہزاربرس سے ہورہا ہے۔حکمت میں بابونہ کا مزاج خشک اور گرم ہے، جبکہ ذائقہ تلخ اور تیز ہے، یہ مقوی معدہ،کاسرریاح،محلل مقوی دماغ واعصاب،مدربول وحیض ہے۔ پھولوں کاتیل دافع تشنج ہے۔اعصاب کو نرم کرتا ہے۔اورقوت دیتا ہے۔
بابونہ کو طب میں زیادہ تر ورموں اور صلابتوں کے تحلیل کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ عموماًچوٹ،موچ،ورموں کی جگہوں پر سکائی کرنے کیلئے بابونہ کے پھولوں سے بنے جوشاندے سے دھوتے ہیں۔دماغی عصبی امراض میں، یرقان، کان کا درد، عرق النساء گھٹیا،وغیرہ میں سفوف یا مختلف طریقوں سے کھلایاجاتا یامالش کی جاتی ہے۔بابونہ کی جڑ سب افعال میں قوی ہے۔

بابونہ استعمال کرنے کا طریقہ:

جلد کے امراض:
جب چہرے پر سخت سوزشی پھنسیاں یا مہاسے نکل آئیں تو اس سے تیار کردہ آمیزے (بابونہ کے خشک پھولوں کا سفوف دو چمچ ایک کپ میں دس پندرہ منٹ کیلئے ابال لیں)کو ٹھنڈاکر کے روزانہ ایک دفعہ چہرہ دھوئیں۔ اس عمل سے پھنسیوں وغیرہ کے زہریلے مادے ختم ہوتے ہیں۔ سوزش کم ہوتی ہے اور مزید دانے نہیں نکلتے۔

بھاپ سے غسل:
نزلہ زکام اور مخصوص اقسام کے بخار میں گھٹن سی محسوس ہوتی ہے۔ اسے دور کرنے کیلئے بابونہ کے سفوف پر گرم پانی (اُبلتا ہوا پانی نہ ہو) ڈالیے اور اٹھتی ہوئی بھاپ میں سانس لیں۔ طبیعت کھل جائیگی۔

اعصابی دباؤ میں کمی:
بابونہ کے خشک پھولوں کا سفوف دو چمچ ایک کپ گرم پانی میں دس پندرہ منٹ کیلئے ڈالیں۔ ضروری ہے کہ پانی ابلتا ہوا نہ ہو (کیونکہ ابلتے پانی میں سفوف ڈالنے سے دو قیمتی مادے ہوا میں تحلیل ہوجاتے ہیں جو مرض دور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں)۔پھر یہ آمیزہ (چائے) نوش فرائیں۔مزید آپ اس میں لیموں یا پھر پودینے کے پتے بھی شامل کر سکتے ہیں۔ یہ چائے نیند، سستی، کاہلی کو بھی بھگاتی ہے۔ اس میں کیفین جیسے مضر اثرات بھی نہیں ہوتے۔

ایام کی تکلیف:
گل بابونہ کے سفوف کو گرم پانی میں چینی، شہد، کالی مرچ میں سے کوئی ایک چیز ڈال کر پیا جاسکتا ہے۔سردیوں کے موسم میں خواتین ایام کے دنوں میں پئیں تو ایام کی تکلیف سے نجات مل سکتی ہے۔

امیون سسٹم:
گل بابونہ کے جوشاندہ پر ہونے والی تحقیقات کے مطابق اسکو روزانہ ایک ہفتہ پینے والوں کا امیون سسٹم مضبوط ہوجاتا اور نروس سسٹم کو طاقت ملتی ہے۔گل بابونہ کا جوشاندہ بنانے کے لئے دو چمچ گل بابونہ اور اس میں پانچ پتے پودینہ کے لیکر ایک کپ ابلتا ہواپانی لیکر ان پر ڈال کر چند منٹ کے ڈھک دیں اور بعد میں نتھار کر پی لیں۔ انشا اللہ اسکا ذائقہ بھلا لگے گا۔

شیاٹیکا کا درد:
اس درد میں مبتلا افراد درد کی جگہ پر اسکے پھولوں کا لیپ کرکے سکون پاسکتے ہیں۔

پیٹ میں مروڑ:
اگر پیٹ میں مروڑ اٹھیں‘اجابت تکلیف سے ہوں تو دن میں بابونہ سے بنی چائے کے دو کپ پیجئے۔

بخار کی کیفیت:
بابونہ کے پھولوں سے بنی چائے بخار بھی رفع کرتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button