تراجمسیلف ہیلپ

باب: 10(1) کامیابی یا ناکامی، فیصلہ آپ کے ہاتھ میں!

بیلجیئم میں مجھے ایک ایسا تجربہ ہوا جس سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔ Antwerp کے ساتھ میرا تعلق 1984ء میں شروع ہوا جب مجھے کمپنی کی شہر میں موجود ایک آئل ریفائنری کا قبضہ لینے کی غیرمتوقع پیشکش کی گئی۔ میں نے سب سے پہلے ڈائیوو لندن کے ڈائریکٹر کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ لندن مارکیٹ میں کمپنی کی ساکھ کے بارے میں تحقیقات کرے۔ میں نے تیل کی بین الاقوامی مارکیٹ کے ماہر ایک مینجر کو بھی بھیجا کہ وہ Antwerp میں اس سے متعلق جانکاری حاصل کرے۔
اپنے لوگوں کی رپورٹ سے مجھے اس امر کا پتہ چلا کہ لیبر کے ساتھ جھگڑوں اور اختلافات کی وجہ سے کمپنی میں خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔ کمپنی کا صدر پہلے ہی جاپان، جرمنی اور امریکہ کی مشہور کمپنیوں کو آئل ریفائنری کا قبضہ لینے کی پیشکش کر چکا تھا مگر یہ کمپنیاں اس کی پیشکش مسترد کرچکی تھیں۔ میں نے نتیجہ نکالا کہ کمپنی کی مالی حالت زیادہ اچھی نہیں۔
میں نے اپنے مینجر کی رائے لی جس نے کمپنی کا معائنہ کیا تھا۔ اس نے کہا گو کہ پلانٹ پر موجود سہولیات کافی پُرانی ہیں مگر تھوڑی سی مرمت کے بعد اسے چالو کیا جا سکتا ہے۔ مینجر کے مطابق کمپنی کے صدر کی اس میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر تھی اور مینجر کی سطح کا تمام سٹاف بھی پلانٹ کو چلانے کے بجائے اسے بند کرنے کا خواہاں تھا، اب حتمی فیصلہ میں نے لینا تھا، میں نے یہ فیصلہ پلانٹ کو چالو کرنے کے دو اہم پہلوؤں کا گہرائی اور عمیق نظری سے جائزہ لینے کے بعد کیا۔
پہلی بات تھی پلانٹ پر موجود تنصیبات کی، جو تھیں تو پُرانی مگر پھر بھی 65 ہزار بیرل تیل یومیہ پیدا کرنے کے قابل تھیں۔ 1.5ملین قیمت اُس قیمت سے انتہائی کم تھی جو ایک نیا پلانٹ لگانے پر آسکتی تھی۔
دوسرا مسئلہ افرادی قوت کا تھا، میں نے اندازہ لگایا کہ مزدوروں کی کم ہمتی کی وجہ صدر کی لاتعلقی اور دیگر عملے کی لاپرواہی تھی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ انتظامی امور کی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ماحول اور رویے کو تبدیل کر دیا جائے تو پلانٹ چلایا جا سکتا ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ افرادی قوت لاتعلق انتظامیہ کے خلاف لمبی جدوجہد کی وجہ سے تھک چکی ہے لہٰذا ہمیں نئی انتظامیہ کے ساتھ ان کے دلوں کو بدلنا ہو گا۔
تیسرا مسئلہ تیل کا تھا اور میں اس معاملے میں بہت پُراعتماد تھا کیونکہ میں پہلے ہی لیبیا سے خام تیل کی ایک خاص مقدار حاصل کرنے کا وعدہ لے چکا تھا۔ یہ اس طرح ہوا کہ جب لیبیا کو زرّمبادلہ میں مسائل کا سامنا شروع ہوا تو ہم نے اس کے ساتھ بارٹر سسٹم کا ایک معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدہ کے تحت ہم نے اپارٹمنٹس کی تعمیر کے منصوبے کے بدلے لیبیا سے خام تیل لینا تھا۔ ان حالات کے تناظر میں ہمارے پاس ایک آئل ریفائنری کا ہونا بہترین سرمایہ کاری تھی کیونکہ مارکیٹ میں خام تیل کی نسبت صاف کیے ہوئے تیل میں منافع کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ مجھے اس بات کا بھی احساس تھا کہ گیسولین، کیروسین اور دیگر اقسام کے صاف شدہ تیل کی مارکیٹ ہمیشہ سازگار نہیں رہتی، اس میں اُتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ پھر بھی یہ فیصلہ اس لحاظ سے مفید ثابت ہو سکتا تھا کہ ہم کچھ تو خام تیل بیچ سکتے تھے اور مارکیٹ میں بہتری آنے پر صاف شدہ تیل سے بھی منافع کمایا جا سکتا تھا۔ (جاری ہے)

Leave a Reply

Back to top button