تراجمسیلف ہیلپ

باب: 10(2) مجھے عالمی سطح پر شہرت کیسے ملی؟

ان باتوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے میں نے ریفائنری کا فوری قبضہ حاصل کرنے کی ہدایات جاری کر دیں۔ اگلے سال جب ہمیں مکمل اختیار مل گیا تو میں نے انتظامیہ کی ایک ٹیم Antwerp روانہ کی۔ ہم نے کمپنی کا نام تبدیل کر کے یونیورسل رکھ لیا کیونکہ یہ ڈائیوو سے ملتا جلتا ہے۔ ڈائیوو کا مطلب وسیع تر کائنات ہے۔ کمپنی میں بالکل ایک نیا ماحول پیدا کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کی گئی۔
ایک سال سے بھی کم عرصہ میں ہمیں ڈرامائی حد تک مثبت نتائج حاصل ہوئے۔ افرادی قوت نے انتظامیہ کے ساتھ ایک نئے جوش وجذبہ اور توانائی سے تعاون کیا۔ ڈائیوو اہلکاروں کی قائم کردہ مثال سے عملے کے لوگوں نے بہت کچھ سیکھا تھا۔ ایک سال کے اندر اندر کمپنی نے منافع دینا شروع کر دیا۔ اتنی اچھی کارکردگی پر ہمیں کمپنی کے سابق صدر کی طرف سے پیشکش کی گئی کہ ہم ادا کی گئی قیمت سے 5 گنا زیادہ پر کمپنی واپس بیچ دیں۔ اس کامیابی کے نتیجے میں مجھے حالات کو یکسر بدل دینے والے شخص کے طور پر بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی۔
Antwerp منصوبے کے حوالے سے یہ بات زیادہ اہم نہیں کہ اس سے میں نے منافع حاصل کیا اور مجھے شہرت ملی بلکہ اصل چیز یہ ہے کہ اس نے مجھے فیصلہ سازی کی اہمیت کے بارے میں آگاہی سے نوازا کیونکہ اس کمپنی کو بیچنے کے لیے سابق انتظامیہ نے امریکا، جاپان، جرمنی اور انگلینڈ کی بڑی بڑی فرموں سے رابطہ کیا جنہوں نے تحقیقات کے بعد اس منصوبہ کو فضول سمجھ کر ٹھکرا دیا تھا۔ انہوں نے کمپنی کی مالی حالت کا جائزہ لینے کے بعد ہی اسے خریدنے سے انکار کر دیا اور اس طرح اپنے غلط جائزوں کی وجہ سے اتنی زیادہ دولت کمانے کا موقع ہاتھ سے جانے دیا۔
میرے ساتھ اس سے ملتا جلتا تجربہ کوریا میں بھی ہو چکا تھا جب میں نے ”کوریا مشینری کمپنی“ خریدی۔ یہ کمپنی جاپانی تسلط کے دوران جاپانی آبدوزیں بنانے کے لیے تعمیر کی گئی تھی۔ جب ہم نے یہ کمپنی حاصل کی تو یہ اپنے قیام کے چالیس سال بعد تک بھی کوئی منافع نہ کما سکی تھی اور اب بھی اس کی حالت ابتر تھی۔ ہمارے ساتھ رابطہ کرنے سے پہلے حکومت کوریا کی دو بڑی کمپنیوں سے بات کر چکی تھی جنہوں نے کئی گہرے مشاہدے کیے اور مستقبل کے تناظر میں غور کرتے ہوئے حکومتی پیشکش مسترد کر دی۔ جب ہمیں پیشکش کی گئی تو ہم نے بھی ویسے ہی سروے کیے، ہمیں بھی ویسے ہی نتائج ملے مگر میں نے اس سب کے باوجود کمپنی خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔ ہم نے کمپنی خرید کر اس کا نام ”ڈائیوو ہیوی انڈسٹری لمیٹڈ“ رکھ لیا اور آج یہ کمپنی کوریا میں مشین سازی کی بانی سمجھی جاتی ہے۔
کاروبار کرتے ہوئے آپ کو کثیر تعداد میں فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ کبھی یہ فیصلے بڑے چھوٹے ہوتے ہیں اور کمپنی کے پورے وجود پر اثرانداز ہو سکتے ہیں مگر مسئلہ چاہے کچھ بھی ہو حتمی فیصلہ ایگزیکٹو ہی کو کرنا ہوتا ہے۔ میں نے کئی سالوں سے لاتعداد ساتھیوں کے ساتھ کام کیا ہے مگر میری زندگی کا تنہا ترین لمحہ وہ ہوتا ہے جب مجھے کوئی فیصلہ لینا ہو۔
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ میرے ساتھی مجھے معلومات فراہم کرتے ہیں، میری مدد بھی کرتے ہیں لیکن ذمہ داریوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے وہ میرے لیے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر سکتے۔ میں دوسروں کو اپنی ذات کا ذمہ دار ٹھہراتا ہوں اور نہ ہی اس بات کا کہ وہ میرے لیے حتمی فیصلے کریں۔
فیصلہ سازی نہ صرف کاروبار میں بلکہ عام زندگی میں بھی انتہائی زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ زندگی فیصلوں کا ایک سلسلہ ہے اور ایک غلط فیصلہ سارے سلسلے کا بیڑہ غرق کر سکتا ہے۔ کبھی کبھی میں حیران ہوتا ہوں کہ شاید زندہ رہنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ ہم کوئی ایسا فیصلہ کر لیں جو ہمیں کامیابی کی شاہراہ پر گامزن کر دے۔

Leave a Reply

Back to top button