تراجمسیلف ہیلپ

باب 11: میں نے کبھی حوصلہ نہیں ہارا!

مجھے سیل کرنے میں پہلی مشکل کا سامنا 1970ء کی دہائی میں کرنا پڑا جب میں شکاگو آیا اور سیئرز (Sears) کے ساتھ اپنی تیارکردہ شرٹیں بیچنے کے لیے رابطہ کیا۔ اگرچہ ہم پہلے بھی امریکی خریداروں کو سپلائی دے رہے تھے مگر میں بڑے سٹوروں تک براہ راست رسائی چاہتا تھا۔ ایک چھوٹی کمپنی کے لیے یہ آسان نہیں تھا کہ وہ جائے، دروازے پر دستک دے اور سیل کر دے۔ مگر میں نے ایسا کیا اور میری زندگی کے یہی لمحے پُرجوش اور توانائی سے بھرپور تھے۔
اُن دِنوں ڈائیوو کو کوئی نہیں جانتا تھا۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ سیئرز جیسے سٹوروں پر سیل کرنے کے لیے پہلے وقت لینا پڑتا ہے۔ اس میں مسئلہ یہ تھا کہ اگر خریدنے والی پارٹی کا سیکرٹری یہ کہے کہ ڈائیوو کا نمائندہ ملاقات کے لیے وقت مانگ رہا ہے تو آگے سے یقیناً یہ جواب ملے گا ”کون ڈائیوو“؟ ہماری کمپنی کو جانے بغیر ہمیں ملاقات کا وقت ہرگز نہیں ملے گا لہٰذا میں نے نمونے ساتھ لے کر خود ہی جا کر سیئرز میں متعلقہ افراد سے ملنے کا فیصلہ کیا۔ مجھے یقین تھا کہ ایک بار میں وہاں پہنچ گیا تو خریدار سے ملاقات کی کوئی نہ کوئی راہ نکل ہی آئے گی۔
جب میں پہلے دن سیئرز گیا تو مجھے انتظار کرنے کا کہا گیا۔ میں دو گھنٹے تک انتظار کرتا رہا مگر خریدار کے پاس وقت نہ نکل سکا۔ اگلے دن میں دوبارہ سیئرز پہنچا اور ریسپشنسٹ سے بات کی۔ وہاں منیجر تو دُور کی بات، ایک سیکرٹری سے ملنا بھی مشکل تھا۔ میں کئی روز تک مسلسل جاتا رہا۔ آخرکار ایک خریدار مجھ سے ملنے پر تیار ہو گیا۔ میں نے کبھی حوصلہ نہیں ہارا۔ اگر مجھے اس سے بھی دس گنا زیادہ چکر لگانا پڑتے تو بھی کوئی پریشانی والی بات نہیں تھی۔ میں یہ سب اس وقت تک کرتا رہتا جب تک خریدار سے ملاقات نہ کر لیتا۔ مجھے اعتماد تھا کیونکہ سیئرز کو اچھے سپلائرز کی ضرورت تھی اور ہم ان کی یہ ضرورت پوری کر سکتے تھے۔
آخرکار میں سیئرز کے مردانہ شرٹوں کے خریدار جم ویز سے ملاقات کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس کے بعد تو پھر سب کچھ آسان ہو گیا۔ مجھے لگا کہ پہلی ہی ملاقات میں جم ویز نے میرا اعتماد بھانپ لیا تھا۔ میں نے ہر چیز خلوص اور دلیل کے ساتھ پیش کر دی۔ میں نے پیشکش کی کہ ہم سیئرز کے معیار پر پورا اترنے اور ان کی اور ضروریات پوری کرنے کے لیے کوئی بھی پیداواری یونٹ لگا سکتے ہیں اور یہ کہ ہم وقت کی پابندی کے ساتھ ساتھ قیمت بھی مناسب دینے کے لیے تیار ہیں۔ میں جانتا تھا کہ قیمت کم کرنے کے باوجود ہم منافع کما سکتے ہیں کیونکہ ہم مڈل مین کے بغیر شرٹیں فروخت کر رہے تھے۔ اس وقت مجھے سیئرز کی طرف سے ایک چھوٹا سا آزمائشی آرڈر دیا گیا اور بعد میں ان کے ساتھ ہمارا کاروبار 2 سو ملین امریکی ڈالرز سالانہ تک بھی پہنچا۔ یہاں تک کہ اب بھی ہم سیئرز کو شرٹیں سپلائی کرتے ہیں۔
جب ہمیں پہلا بڑا آرڈر ملا تو ہم نے اپنی فیکٹری میں ویسی ہی ٹیسٹ لیب بنا لی جیسی سیئرز میں تھی۔ اس وقت اس ٹیسٹ لیب پر آنے والی لاگت ہمارے لیے بہت زیادہ تھی مگر مجھے اس قیمت کی کوئی پروا نہ تھی کیونکہ ہمیں بہترین معیار پیدا کرنے کی ضرورت تھی۔ میں نے لیب کی ساری ٹیسٹ رپورٹیں سیئرز کو دیں۔ جم ویز اور دیگر خریداروں نے کوریا کا دورہ کیا اور وہ ہماری لیب دیکھ کر بہت مطمئن اور خوش ہوئے۔ ہم نے سیئرز کے انسپکشن اور کوالٹی کنٹرول سسٹم کی مکمل پیروی کی۔ سیئرز میں بہت جلد کِم کے حامی خریدار موجود تھے جنہوں نے میری دیگر مصنوعات کے کئی خریداروں سے بھی میرا تعارف کرا دیا۔ ہم نے سیئرز کے لیے ایک سو سے بھی زائد مصنوعات تیار کر لیں جن میں چمڑے کا سامان، دستی بیگ، بیس بال کے دستانے اور جوتے وغیرہ شامل تھے۔ اس وقت ایک چھوٹی کمپنی ہونے کے ناطے ہمیں اس بات پر بڑا فخر تھا کہ ہم امریکا کے بڑے بڑے سٹوروں کو مال سپلائی کررہے تھے۔
اگر ہم سیئرز کے ذریعے امریکی منڈی کا دروازہ کھولنے میں ناکام ہو جاتے تو ہم کبھی بھی امریکا میں کاریں اور دیگر مصنوعات متعارف کرانے میں کامیاب نہ ہوتے۔ سیئرز کے ساتھ کامیابی کے بعد دیگر امریکی سٹوروں تک رسائی بھی آسان ہو گئی۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ جب آپ ایک چھوٹی اور نئی کمپنی ہوتے ہیں تو معمولی مدد بھی آپ کے لیے انمول ثابت ہوتی ہے۔ سیئرز نے میری مدد کی اور میں نے بدلے میں سخت محنت جس کی وجہ سے ہمارے تعلقات بالکل خاندانی مراسم جیسے بن گئے۔
اب میں سیئرز کے لیے ہر ممکن مواقع پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہوں۔ حال ہی میں کوریا نے غیرملکی بیمہ کمپنیوں کے لیے اپنی مارکیٹ کھولی تو میں نے سیئرز کا نام اپنی حکومت کو پیش کر دیا۔ اب اس شعبہ میں ڈائیوو اور سیئرز کے ادارے Allstates کا مشترکہ منصوبہ کام کر رہا ہے۔ میں کوریا میں سیئرز سٹور اور کریڈٹ کارڈ بھی متعارف کرانا چاہتا ہوں۔ (جاری ہے)

Leave a Reply

Back to top button