ادبتازہ ترینتراجمسیلف ہیلپ

باب 12: زیادہ ملاقاتیں، زیادہ مسائل

مترجم: نعیم سلہری

امریکی ایگزیکٹوز یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کے کاروباری وقت کا زیادہ حصہ کمپنی کی میٹنگز میں گزر جاتا ہے۔ امریکہ میں فیصلے اعلیٰ ایگزیکٹوز نہیں بلکہ مینجروں کے گروپ کرتے ہیں۔ اسی لیے امریکی ایگزیکٹوز کو بہت زیادہ ملاقاتیں کرنا پڑتی ہیں۔ ہر کسی کو خوش کرنے کا نظریہ اچھے نتائج پیدا نہیں کر سکتا۔ بسا اوقات زیادہ ملاقاتیں زیادہ ابہام پیدا کرتی ہیں۔ اب کاروباری حالات میں بہت زیادہ تبدیلیاں آ چکی ہیں اس لیے فیصلے محض زبانی کلامی نہیں کیے جاتے۔ آپ کو ہر صورت حال سے آگاہی اور اس کا تجربہ ہونا چاہیے تاکہ آپ صحیح معلومات حاصل کر کے درست فیصلے کر سکیں۔

ملاقاتوں کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ ان سے معلومات حاصل کی جا سکیں مگر میں اس بات پر یقین نہیں رکھتا۔ میرے خیال میں آپ کو اتنی زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر مجھے تین صفحات پر مبنی رپورٹ پیش کی جائے تو میں محسوس کرتا ہوں کہ آدھے صفحے سے بھی کام چل سکتا تھا۔ کبھی کبھی جس کام کے لیے محض ایک فقرہ ہی کافی ہوتا ہے مینجر حضرات اس کے لیے تین تین صفحات تک بات پھیلا دیتے ہیں جب کہ اعلیٰ ایگزیکٹوز کو فیصلہ کرنے کے لیے صرف مرکزی نقطہ درکار ہوتا ہے۔

میں بہت زیادہ دستاویز نہیں دیکھتا، بس کچھ باتیں سُن لیتا ہوں۔ اس سے میرا وقت بچتا ہے اور تھکاوٹ بھی نہیں ہوتی۔ میں رپورٹیں خود پڑھنے کی بجائے کسی اسسٹنٹ کو دے دیتا ہوں جو مجھے اہم نکات بتا دیتا ہے اور اس امر سے بھی آگاہ کر دیتا ہے کہ اس سے کون کون سے سوالات اُبھرتے ہیں۔

بہت سے ایگزیکٹو میرے پاس آتے ہیں جن کے پاس کوئی کاغذوں کا پلندہ نہیں ہوتا۔ وہ بولتے ہیں اور میں سُن کر فیصلہ کر لیتا ہوں۔ وقت بچانے کے لیے میں انہیں کہتا ہوں کہ وہ رپورٹیں میرے دفتر میں لے آئیں تاکہ میں سوال پوچھ کر ان کی رائے جان سکوں۔ اگر کوئی بہت ضروری مسئلہ ہو تو میں اسی وقت فائلیں پڑھ لیتا ہوں اور ایگزیکٹو سے اس کا فیصلہ پوچھ لیتا ہوں۔ اگر ٹھیک ہو تو میرا جواب ہوتا ہے ”آگے بڑھو“۔ میں چاہتا ہوں کہ ہر بات مجھ سے پوچھنے کے بجائے وہ خود بھی کچھ ذمہ داری لیں۔ میں ان سے اکثر پوچھتا ہوں کہ انہوں نے فلاں کام ابھی تک کیوں نہیں کیا اس لیے وہ میرے پاس زیادہ نہیں آتے۔

جب عملہ کے لوگ میرے پاس آئیں تو ہم سب سے پہلے ان آسان کاموں پر غور کرتے ہیں جن پر صرف پانچ یا دس منٹ صرف ہوں۔ زیادہ سنجیدہ معاملات پر ہم شام دیر گئے یا پھر اتوار کے روز بات کر لیتے ہیں۔

ہر پیر کی صبح 8 بجے میری اپنے پندرہ اعلیٰ ایگزیکٹوز سے ملاقات ہوتی ہے۔ میں ان کو بیرون ممالک اپنی سرگرمیوں سے آگاہ کرتا ہوں۔ کبھی کبھار ایسی میٹنگ جس میں زیادہ معلومات ہاتھ لگنے کے مواقع ہوں، دوپہر کے کھانے تک بھی جاری رہتی ہیں۔ اگر ان کے لیے مزید وقت درکار ہو تو ہم ہفتے کی شام یا پھر اتوار بھی مل لیتے ہیں۔ (جاری ہے)

Leave a Reply

Back to top button