تازہ ترینتراجمسیلف ہیلپ

باب 13: فرش سے اُٹھا کر کوئی نہیں کھاتا

مترجم: نعیم سلہری

زندگی میں ہر چیز اور ہر شخص کی ایک خاص اہمیت ہے۔ ہر چیز اپنی معین جگہ پر ہو تو ہی امن اور حسن پیدا ہوتا ہے ورنہ ہر طرف افراتفری پھیل جاتی ہے۔ ذرا سوچئے اگر آپ کی ناک کی جگہ پر آنکھیں، کانوں کی جگہ پر ہونٹ اور ہونٹوں کی جگہ چہرے کا کوئی اور حصہ لگ جائے تو کیا ہو گا؟ آپ کی آنکھیں اپنی جگہ پر اس لیے ہیں کہ انہیں وہاں ہی ہونا چاہیے اور یہی حقیقت جسم کے دیگر اعضاء کی ہے کہ جو جس جگہ پر ہے اُسے اسی جگہ کے لیے بنایا گیا ہے۔ اسی ترتیب میں قدرت نے ہم آہنگی، سکون اور حسن رکھا ہے۔

زندگی کی یہ بہت اہم حقیقت ہے کہ ہمیں کھانے کے لیے خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر کھانے کے لیے چاول برتن ہی میں ہونے چاہئیں کیونکہ اگر یہ زمین پر گر جائیں تو وہاں سے اُٹھا کر تو کوئی بھی نہیں کھائے گا۔ اگر چاول برتن سے کھائے جائیں تو جسم کے لیے توانائی کا ذریعہ بنتے ہیں اور اگر فرش پر گر جائیں تو کوڑے کرکٹ کا حصہ بن جاتے ہیں۔

لہٰذا ہر چیز کو اپنے مناسب مقام پر ہی ہونا چاہیے۔ اگر ایسا نہیں ہو گا تو یقیناً مسائل پیدا ہوں گے۔ مسائل تب پیدا ہوتے ہیں جب آپ وہ کام نہیں کرتے جو آپ کے ذمے ہوتا ہے۔ ایک طالب علم کو طالب علم، والدین کو والدین، مزدور کو مزدور اور ایک سرمایہ کار کو سرمایہ کار ہی رہنا چاہیے کیونکہ معاشرتی مسائل تب ہی جنم لیتے ہیں جب ہم اپنے اپنے دائرہ عمل سے تجاوز کرنے لگتے ہیں۔

اگر ہم تیزترین ترقی اور معاشرتی استحکام کے خواہش مند ہیں تو ہمیں اپنے اپنے کام سے غرض رکھنا ہو گی۔ ایک مزدور کو اپنی جگہ نہیں چھوڑنی چاہیے اور نہ ہی کسی دوسرے کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اس کی جگہ لے، والدین، طالب علموں اور سپاہیوں وغیرہ کو بھی یہی اصول ذہن میں رکھنا چاہیے۔

ہماری افرادی قوت کی پالیسی کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ مناسب ورکر کو اس کی صلاحیتوں کی نسبت سے مناسب مقام پر ہی رکھا جائے۔ ہم عملے کی تعیناتی صلاحیتوں کی بنیاد پر کرتے ہیں لہٰذا کسی کو ڈبل ترقی دینا ہمارے معمول کا حصہ نہیں ہے۔ ہاں! یہ ہے کہ بعض افراد بعض کی نسبت اپنی صلاحیتوں کے باعث زیادہ تیزی سے ترقی کے زینے طے کر جاتے ہیں۔

”مناسب آدمی کے لیے مناسب عہدہ“ کے منشور پر عمل کرنا ہی ہمارے افرادی قوت کے شعبہ کا اہم فرض ہے۔ کچھ سال پہلے تک میں کمیٹی کے تمام منیجر حضرات کا انتخاب خود کیا کرتا تھا اور اب کمپنی کے صدور یہ پالیسی جان چکے ہیں لہٰذا وہ براہ راست خود ہی منیجرز کا انتخاب کر لیتے ہیں۔ کوریا کا ایک بڑا مشہور گیت تھا، جو یوں ہے:

کرسی گھومتی ہے
بس گھومتی ہی جاتی ہے
یہ اُسی کی ہے
جو اس پر بیٹھتا ہے

کاروبار کی دُنیا میں ایسا نہیں ہوتا کیونکہ ہر کرسی پر بیٹھنے والا ایک مخصوص شخص ہوتا ہے۔ اس کرسی پر وہی شخص بیٹھتا ہے جو اس کے ساتھ منسلک فرائض کو احسن طریقے سے اداکرنے کے قابل ہوِ اور ہونا بھی ایسے ہی چاہیے۔ اگر کسی عہدے پر نامناسب شخص آ بیٹھے جو کام کرتا ہی نہ ہو یا پھر بے دلی سے کرتا ہو، تو مسائل جنم لیتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ ہر انسان کا ایک خاص مقام ہے اور اگر وہ اپنے مقام پر رہتے ہوئے اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کرے تو معاشرہ ترقی کرتا ہے، اس میں امن اور خوش حالی پیدا ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Back to top button