تازہ ترینتراجمسیلف ہیلپ

باب 14: ایگزیکٹوز کو غلطی تسلیم کرنی چاہیے!

مترجم: نعیم سلہری

”جب غلطی سرزد ہو تو اعلیٰ ایگزیکٹوز کو اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے“۔ امریکی کمپنیاں اپنا چیف ایگزیکٹو دوسری کمپنیوں سے لیتی ہیں۔ میرے خیال میں یہ مؤثر حکمت عملی نہیں ہے کیونکہ آپ کے اپنے لوگ آپ کے کاروبار کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں لہٰذا اُن میں سے ہی لوگوں کو ایگزیکٹو کے عہدے پر ترقی دی جانی چاہیے۔

ایمانداری سے محنت کرنے والا کوئی بھی انسان آپ کی کمپنی کے لیے اچھا مینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ آپ نے انتخاب اور تعیناتی میں صرف یہ بات ذہن میں رکھنی ہوتی ہے کہ کون، کس شعبے کے لیے موزوں ہے۔ جب آپ کاروبار وسیع کرتے ہیں تو آپ کو ایسے افراد کی ضرورت ہوتی ہے جن کے اندر آگے بڑھنے کی تڑپ موجود ہو جبکہ کاروبار پھیلانے کے بعد ایسے مینجر کی ضرورت ہوتی ہے جو ثابت قدم اور پختہ کردار کا مالک ہو اور جب کاروبار مندی کا شکار ہو تو پھر کام کے جنونی مینجر کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ مینجر حضرات کے کردار کے بارے میں جانے بغیر آپ اُن سے مناسب کام نہیں لے سکتے، اسی لیے ایگزیکٹو اپنے ہی عملے سے لیا جانا چاہیے کیونکہ کسی دوسری کمپنی سے آ نے والا ایگزیکٹو آپ کے مینجرز کے مزاج سے واقف نہیں ہوتا۔ اگر وہ اُن سے واقف نہیں تو وہ ان کی ہمدردی اور وفاداری کیسے حاصل کر سکتا ہے۔

کام تب ہی درست طریقے سے کیا جا سکتا ہے جب ایگزیکٹو کو سخت محنت کرنے کی عادت ہو۔ جب غلطیاں سرزد ہوں تو ایگزیکٹوز کو ان کی ذمہ داری قبول کرنا پڑتی ہے۔ ایسا تب ہوتا ہے جب مینجر حضرات کو اپنے باس پر مکمل اعتماد ہو اور باس کے اندر یہ صلاحیت موجود ہو کہ وہ درست کام کے لیے درست بندے کا انتخاب کر سکے۔ اس طرح دونوں پارٹیاں مل کر ایک دوسرے کے لیے کام کرتی ہیں جو کمپنی کی ترقی کا باعث بنتا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button