تازہ ترینتراجمسیلف ہیلپ

باب 15: میرا اسسٹنٹ تین سال تک چھٹی پر نہیں جا سکتا

مترجم: نعیم سلہری

میں یونیورسٹی کے طلباء سے ہر تین سال بعد اپنے لیے ایک پرسنل اسسٹنٹ کا انتخاب کرتا ہوں۔ میرا پرسنل اسسٹنٹ ہونا انتہائی مشکل کام ہے۔ میں پانچ طالب علموں کے کئی سخت انٹرویوز لیتا ہوں اور ان میں سے ایک کا انتخاب کرتا ہوں۔

انتخاب کا یہ عمل اتنا سخت اس لیے ہے کہ منتخب آدمی نے انتہائی اہم فرائض سرانجام دینا ہوتے ہیں۔ میرے پرسنل اسسٹنٹ کے فرائض رات دیر گئے میرے ساتھ ہی ختم ہوتے ہیں اور اس نے اگلی صبح پھر سویرے سویرے مجھے میری ملاقاتوں کے شیڈول اور فون پر ملنے والے پیغامات سے آگاہ کرنا ہوتا ہے۔

میرا اسسٹنٹ میری شریک حیات سے بھی زیادہ وقت میرے ساتھ گزارتا ہے۔ میں ایک سال کے دو سو سے زائد دن سفر میں گزارتا ہوں اور میرا اسسٹنٹ میرے ساتھ ہوتا ہے۔ میں اس معمول میں کوئی رعایت نہیں برتتا۔ سامان اُٹھانے سے لے کر اہم ملاقاتوں کے نوٹس لینے تک ہر کام اسے ہی کرنا ہوتا ہے۔ میرا اسسٹنٹ تین سال تک چھٹی پر نہیں جا سکتا۔ وہ اس لیے کہ میں خود بھی چھٹی پر نہیں جاتا۔ اس سے اُس کو فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ میرے ساتھ رہ رہ کر ہماری کمپنی، اس کے کاروبار اصولوں اور دیگر معاملات کے بارے میں بہت زیادہ جان جاتا ہے۔

پرسنل اسسٹنٹ کے اس قدر مصروف معمول کا مقصد محض اس سے کام لینا ہی نہیں بلکہ نوجوانوں کی تربیت کرنا ہوتا ہے۔ تین سال گزرنے کے بعد میں اپنے اسسٹنٹ کو انتخاب کا موقع دیتا ہوں کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے کمپنی کے خرچے پر بیرون ملک چلا جائے یا پھر براہ راست مینجر کی نوکری قبول کرلے۔ ایسے لوگوں نے زیادہ عرصہ تک سخت محنت کی ہوتی ہے اس لیے وہ دوسروں کی نسبت زیادہ جلد ترقی کرتے ہیں۔

میرے ایسے ہی ایک اسسٹنٹ نے انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کی ہوئی تھی لہٰذا اب وہ ہماری آٹو کمپنی میں اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ اس کے علاوہ میرے دیگر پرسنل اسسٹنٹس میں سے کئی ڈائیوو میں ایگزیکٹو وائس صدور کے عہدوں پر کام کررہے ہیں۔ وہ اس لیے جلدی کامیاب ہو گئے کہ انہوں نے میرے ساتھ کام کیا تھاجو ایک مثالی تربیتی کورس ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button