Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it   Click to listen highlighted text! Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it
تازہ ترینتراجمسیلف ہیلپ

باب 18: ذمہ داری کی گاڑی بہانوں کے پہیوں پر نہیں چلتی

مترجم: نعیم سلہری

ایک بار مجھے سیؤل کے ایک روزنامہ کے دفتر میں مینجرز کی تربیتی نشست سے خطاب کے لیے بلایا گیا۔ مجھے ”کارپوریٹ انتظام اور میرے انتظامی فلسفے“ کے موضوع پر ایک گھنٹہ تقریر کرنے کا کہا گیا۔ ایسا شائد ہی ہوتا ہے کہ ایک کاروباری شخصیت کو صحافیوں کے سامنے تقریر کرنے کے لیے بلایا جائے۔ اس طرح کے سامعین کے سامنے بولتے ہوئے مجھے انتہائی زیادہ احتیاط کی ضرورت تھی۔ اس کو آپ لحاظ کہہ لیں یا کچھ اور کہ میں اس دعوت سے انکار نہیں کر سکا۔

خیر! میں نے وہاں ایک گھنٹہ تک تقریر کی۔ کارپوریٹ انتظام و انصرام کے بارے میں میرے خیالات عہدِ حاضر سے بالکل مطابقت رکھتے تھے۔ تقریر کے اختتام کے قریب ایک مینجر نے اچانک سوال کیا کہ اگر آپ اخبار چلا رہے ہوتے تو آپ جدت پیدا کرنے کے لیے کیا کرتے۔

اخبار کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہونے کے باعث مجھے پہلے ہی مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اور رہی سہی کسر اس سوال نے نکال دی۔ میرے ذہن میں اخبار میں چھپنے والا ایک مزاحیہ مضمون آ گیا، جس میں معاشرے کے مختلف مسائل کے بارے میں مزاحیہ انداز میں روشنی ڈالی جاتی ہے۔ یہ سلسلہ قارئین میں بہت زیادہ مقبول تھا۔ اگر لوگوں کو اخبار کے پہلے صفحہ پر اپنی پسند کی خبر نہیں ملتی تو وہ سیدھا معاشرتی مسائل والا صفحہ دیکھتے ہیں جہاں یہ مضمون چھپا ہوتا ہے۔

اخبار میں اشتہارات دینے والے وہی جگہ پسند کرتے ہیں جہاں قارئین کی زیادہ نظر پڑتی ہے اور ایسی جگہوں کی قیمت بھی ان کی اہمیت کے حساب سے ہی طے ہوتی ہے۔ میں جب بھی اخبار میں یہ مزاحیہ کالم پڑھتا ہوں تو فوراً ایک کاروباری آدمی کی طرح سوچنا شروع کر دیتا ہوں ”لوگوں کو پڑھنے کی عادت ہے، اس لیے مزاحیہ کالم کے ساتھ لگوایا گیا اشتہار اُن کی زیادہ توجہ حاصل کر سکتا ہے۔ اگر مزاحیہ کالم ہفتے میں پانچ دن چھاپہ جائے اور چھٹے دن اس جگہ پر آپ اپنی ایڈ لگوا دیں تو اس کے حیران کُن نتائج مل سکتے ہیں۔ اگر ایسا نہ کیا جا سکے تو اس کا ایک حل یہ ہے کہ مزاحیہ کالم اگر 4 کالمی ہے تو اسے پانچ کالمی کر دیا جائے اور اس کے وسط میں ایڈ لگا دی جائے تو اس کے نتائج آپ کی سوچ سے بھی زیادہ مثبت مل سکتے ہیں“۔ اس طرح سے لگایا جانے والا مزاحیہ کالم کاروباری حضرات کے لیے ایڈ دینے کی پسندیدہ جگہ بن سکتا ہے“، یہ تھا میرا جواب جو میں نے اپنے لیکچر کے دوران اخبار کے ایک مینجر کے سوال کے جواب میں دیا۔ میرے لیکچر کو ابھی زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ اخبار کے مزاحیہ کالم کو پانچ کالمی کر دیا گیا۔ چار کالموں میں مضمون تھا اور پانچویں میں اشتہار لگا ہوا تھا۔

جدت زندگی کا لازمی حصہ ہے اور اسے پیدا کرنا اتنا مشکل نہیں جتنا خیال کیا جاتا ہے۔ میں تو جہاں بھی جاتا ہوں بس اس بات پر زور دیتا ہوں کہ مسئلہ جدت پیدا کرنے میں نہیں بلکہ آپ کے رویے میں ہے کہ آپ اسے پیدا کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ اگر آپ قابلِ قدر ایجادات پر قدرے محتاط طریقے سے غور کریں تو آپ جان جائیں گے کہ ان کی بنیاد عام اور سادہ تصورات پر ہی ہوتی ہے لیکن ان کے نتائج بڑے اعلیٰ ہوتے ہیں اور پھر کارپوریٹ انتظامیہ میں تو جدت اور بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

جدت نے انسانی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ہے، اس کا آغاز کسی تخلیقی انسان کی ہم عصر حقیقتوں سے ہٹ کر کوئی نئی چیز پیدا کرنے کے جنونی خیال سے ہوا۔ میں تو ہمیشہ تخلیقی بننے پر زور دیتا ہوں کیونکہ تخلیقی لوگوں ہی نے تاریخ کا رُخ موڑ کر دُنیا کو آگے بڑھایا ہے۔

انسان کی تخلیقی صلاحیتیں ہمیشہ موجودہ صورتحال کے بارے میں سوالات کرنے سے بڑھتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایسے سوالات: ”کیا میں نے اپنی بہترین کوشش کی ہے؟“، ”کیا موجودہ صورتحال مثالی ہے؟“، ”کیا ہم بہتر پراڈکٹ پیدا کر سکتے ہیں؟“، ”کیا اس سے بہتر کوئی طریقہ موجود نہیں ہے؟“۔ اس طرح کے سوالات آپ کی خوابیدہ تخلیقی صلاحیتوں کو جگاتے ہیں، آپ جتنا زیادہ غور کرتے ہیں اتنے ہی اچھے نتائج آپ کو ملتے ہیں۔

میں جب کالج کے بعد پہلی بار کام کے لیے نکلا تو میرے پاس اپنی نئی کمپنی ”ہین سنگ انڈسٹریل“ کی جانب سے بنک کے ساتھ معاملات طے کرنے کی ذمہ داری تھی۔ یہ بڑا سادہ کام تھا، میں نے صرف کمپنی کی دستاویز بنک کے پاس جمع کروانی ہوتی تھیں، آگے بنک کی مرضی کہ وہ مزید منظوری کے لیے انہیں رکھ لے یا واپس کر دے۔ اگر دستاویز مسترد کر دی جاتیں تو کمپنی ان میں ضروری ترامیم کر دیتی اور میں انہیں دوبارہ بنک کے پاس لے جاتا۔

مجھ سے پہلے جو بندہ یہ فرائض سرانجام دے رہا تھا اُسے کافی مشکلات کا سامنا تھا، اس کے دن کا زیادہ تر وقت بنک اور کمپنی کے درمیان چکر کاٹنے میں صرف ہو جاتا تھا۔ دستاویز تیار کرنے میں بہت زیادہ وقت لگتا اور اگر انہیں مسترد کر دیا جاتا تو اس کام میں مزید وقت لگ جاتا، میں نے یہ کام سنبھالنے کے کچھ ہی عرصہ بعد یہ جائزہ لینا شروع کر دیا کہ آخر مسئلہ ہے کہاں؟ اس مشق نے تو مجھے نقائص معلوم کرنے کا ماہر بنا دیا۔

میں نے سب سے پہلے یہ فیصلہ کیا کہ ان خواتین کے ساتھ بہتر تعلقات بنانے کی ضرورت ہے جو بنک میں کاغذات وصول کرتی ہیں کیونکہ اس بات کا دارومدار ان پر ہی ہوتا تھا کہ کاغذات مسترد کرنے ہیں یا پھر مزید منظوری کے لیے اعلیٰ انتظامیہ تک پہنچانے ہیں، اگر تو کاغذات میں کوئی معمولی نوعیت کی غلطی ہوتی تو یہ خواتین اس غلطی کو درست کر کے کاغذات آگے بھیج سکتی تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسرا مسئلہ مقابلے کا تھا، کئی اور کمپنیاں بھی اسی طرح کے کاغذات بنک کے پاس بھیج رہی تھیں۔ اس طرح آپ کے کاغذات فائلوں کے ڈھیر میں جتنا نیچے ہوتے، آپ کی کمپنی کو منظوری کے لیے اتنا ہی انتظار کرنا پڑتا تھا۔

اس وقت ہمارے سٹور میں خواتین کے لباس کی ایک آئٹم پڑی ہوتی تھی، فیبرک سے بنی یہ آئٹم کمپنی نے اٹلی سے منگوائی تھی۔ یہ فیبرک نہ تو فروخت ہو رہی تھی اور نہ ہی سٹور کا انچارج اس میں کوئی دلچسپی لے رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ بنک میں موجود خواتین اس فیبرک میں دلچسپی لے سکتی ہیں، انہیں یہ فیبرک سستے داموں فروخت کرکے کمپنی کے لیے منافع کمایا جانا چاہئے کیونکہ سٹور میں پڑے پڑے تو یہ نقصان کا باعث بن رہی تھی۔

بنک میں موجود خواتین نے یہ فیبرک بہت زیادہ پسند کی اور نہ صرف خود خریدی بلکہ اپنی دوستوں کو بھی خریدنے پر رضا مند کر لیا۔ انہیں فیبرک اور قیمت دونوں پسند آئیں۔ اس طرح ہم نے کمپنی کا سٹور خالی کرنا شروع کر دیا اور ساتھ ہی بنک میں ہمارے کاغذات کو بھی ترجیح ملنا شروع ہو گئی۔

اس سلسلے میں میرا دوسرا مسئلہ بہت زیادہ پیپر ورک تھا جسے میں نے کم کر کے آدھا کرنے کا سوچا تھا۔ اس مسئلہ کا حل بھی میری سوچ سے زیادہ آسان نکلا۔ دستاویز کی اقسام کم تھیں اور صرف چند ایک ہندسے ایسے تھے جو مختلف فائلوں میں مختلف تھے، باقی تمام چیزیں کم وبیش ایک جیسی ہی تھیں۔ لہٰذا مجھے جب بھی وقت ملتا تو میں جتنے کاغذات تیار کر سکتا تھا، پیشگی کر لیتا، باقی کام صرف ہندسوں اور تاریخوں کا رہ جاتا جو وقت آنے پر فوری کر لیا جاتا۔

معاملات کافی بہتر ہو رہے تھے مگر مجھے اب بھی روزانہ کئی بار بنک جانا پڑتا تھا، میں نے تھوڑا سوچا تو مجھے پتہ چلا کہ دن میں بنک کے صرف دو چکر ہی کافی ہیں: ایک صبح اور دوسرا سہ پہر کے وقت۔ مجھ سے پہلے میری جگہ پر کام کرنے والے آدمی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ جو کاغذات صبح جمع کرائے جائیں وہ سہ پہر کے وقت اور جو سہ پہر کو جمع کرائے جائیں وہ دوسرے دن صبح منظور ہوتے ہیں۔ اس بات سے لاعلم ہونے کی وجہ سے وہ مختلف کاغذات اُٹھائے سارا دن بنک اور کمپنی کے درمیان چکر کاٹنے میں گزار دیتا تھا۔ اس نے وہی کیا جو اس نے اپنے سینئر اور پیش رو سے سیکھا تھا۔ اس نے اپنا وقت اور پیسے بچانے کے لیے کوئی نیا طریقہ سوچنے کی کوشش ہی نہ کی تھی مگر میں نے فیصلہ کیا اور کام کرنے کا طریقہ بنک کے معمول کے مطابق بنا لیا۔

نوکری ملنے کے صرف ایک ماہ بعد مجھے نہ صرف ترقی دے دی گئی بلکہ میں ایک ذہین وفطین انسان کے طور پر بھی جانا جانے لگا۔ اس وقت ترقی ایک نئے ملازم کے لیے حقیقی کامیابی سمجھی جاتی تھی۔ میری یہ کامیابی مسائل کو سمجھنے اور موجودہ طریقہئ کار میں تبدیلی اور بہتری لانے کی میری صلاحیت کے باعث ممکن ہوئی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ میں نے اپنے مسائل حل کرنے اور جدت پیدا کرنے کی صلاحیتوں کو خوب بڑھایا۔ میں پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ ڈائیوو نے جس تیزی سے ترقی کی وہ ساری کی ساری تمام چھوٹے بڑے
معاملات میں جدت طرازی ہی کی مرہون منت ہے۔

Leave a Reply

Back to top button
Click to listen highlighted text!