تراجمسیلف ہیلپ

باب 4: میرا مشغلہ، صرف کام، کام اور کام!

میں سال کے دو سو سے زیادہ دن بیرون ممالک گزارتا ہوں اور پھر اندرون ملک کاروباری دورے گھر پر وقت گزارنے کا امکان مزید کم کر دیتے ہیں۔ کبھی کبھی تو میں نہ صرف اپنی بیوی اور بچوں کی بلکہ اپنی سالگرہ تک بھی بھول جاتا ہوں۔
میں بہت زیادہ مصروف ہوں۔ اتنا مصروف کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ میں کام کی وجہ سے پاگل ہوگیا ہوں۔ میں اس مصروفیت پر خوش ہوں، انتہائی زیادہ خوش۔ میں نے جب سے کام کرنا شروع کیا ہے کبھی کوئی چھٹی نہیں کی۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں کبھی اپنے اہل خانہ کے ساتھ ساحلِ سمندر پر بھی گیا ہوں، حقیقت میں ایسا ہی ہے مگر مجھے اس پر کوئی پچھتاوا نہیں۔
میرا پختہ یقین ہے کہ جب آپ خود کو کام کے حوالے کر دیتے ہیں تو کامیابی آپ کے لیے یقینی بن جاتی ہے کیونکہ آج تک کوئی ایسا انسان نہیں ہوا جو خود کو کام کے لیے وقف کر دینے کے باوجود ناکام ہو گیا ہو۔
لوگ حیران ہوتے ہیں کہ میرے جیسا محنتی شخص زندگی سے کیا لطف حاصل کرتا ہو گا۔ وہ اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکتے کہ میں کاروبار اور خوشی کا مرکب بنا کر زندگی سے لطف اندوز ہونے کے بجائے کام کا غلام کیوں بن گیا ہوں۔
اس طرح کی سوچ انہی لوگوں کی ہو سکتی ہے جنہوں نے کبھی کام سے حاصل ہونے والی حقیقی خوشی کا تجزیہ نہیں کیا، ایسا وہی لوگ سوچ سکتے ہیں جو خود کو کام کے لیے وقف کر دینے والے شخص کی خوبصورتی سے ناواقف ہوں، یہ سوچ صرف ان لوگوں کی ہو سکتی ہے جو ایک نوجوان کی کام میں مکمل محویت کو سمجھ نہیں سکتے یا پھر وہ لوگ ایسی سوچ رکھتے ہیں جو کسی کام کی تکمیل سے حاصل ہونے والی مکمل اور حقیقی خوشی سے نابلد ہوں۔
میں سوچتا ہوں یہ بہت افسوسناک بات ہے کہ انسان جو کائنات کی ہر چیز کے ساتھ جڑا ہوا ہے، کام کو محض پیٹ بھرنے کا ہی وسیلہ سمجھ لیتا ہے۔ یہ پہلو اس وقت اور بھی زیادہ قابلِ افسوس ہو جاتا ہے جب ایک نوجوان خواب، توانائی اور محنت کا جنون پالنے کے بجائے کام کو ایک باعثِ تکلیف امر سمجھنا شروع کر دے۔ کام کو ہمیشہ تکمیل، تشفی، ذاتی بڑھوتری اور معاشرے کی ترقی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے کیونکہ صرف مادّی فوائد کے حصول کے لیے کام کرنا، کام کے بارے میں سوچنا اور پسینہ بہانا کام کی توہین ہے۔ کام ایک ایسی قیمتی چیز ہے جس کی قدر پیمائی مالیاتی تناظر میں نہیں کی جانی چاہیے۔ یہی بات پڑھائی پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ آپ کو اس میں اس حد تک غرق ہو جانا چاہیے کہ دیکھنے والے پکار اُٹھیں کہ یہ تو پاگل ہو گیا ہے۔ آپ اس حقیقت کو تبھی سمجھ سکتے ہیں جب آپ نے پڑھائی میں غرق طالب علم کی آنکھوں کی چمک دیکھی ہو۔
جب لوگ مجھے میرے مشاغل کے بارے میں پوچھتے ہیں تو یہ بات مجھے مضطرب کر دیتی ہے کیونکہ میں تو کسی ایک مشغلے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا اور پھر جب مشغلے کا مطلب ہی محض وقت گزارنا ہو تو ایسا مشغلہ میرے لیے ناممکن ہے۔ میں کبھی کبھار (GO) کھیلتا ہوں۔ (GO 55 سو سال پُرانا چینی کھیل ہے جو دو آدمیوں کے درمیان لکڑی کے تختے پر پتھر کی گوٹیوں سے کھیلا جاتا ہے)۔ میں GO کو اپنا مشغلہ نہیں کہہ سکتا کیونکہ ایسا کہنا ان لوگوں کی توہین ہو گی جن کے لیے یہ کھیل میرے اور آپ کی طرح صرف وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں ہے۔
اگر میں یہ کہوں کہ فلاں چیز سے مجھے بہت خوشی حاصل ہوتی ہے تو مجھے اس چیز کی حیثیت کام کی سی تسلیم کرنا ہو گی۔ مجھے آج تک نہ تو کسی نے، اور نہ ہی میں نے خود کو کبھی کسی کام پر مجبور کیا ہے لہٰذا اگر مشغلہ کوئی ایسی چیز ہے جس سے خوشی اور سکون ملتا ہے تو میرا کام ہی میرے لیے مشغلہ ہے۔
کسی بھی انسان کا کاروبار اُسی وقت بتدریج بڑھتا اور پھیلتا ہے جب کاروبار کرنے والا اپنے کام سے مشغلہ جیسی خوشی حاصل کرے۔ طالب علم بھی وہی کامیاب ہوتا ہے جو اپنی پڑھائی سے ایسی ہی خوشی حاصل کرے جیسی کسی مشغلہ سے حاصل کی جاتی ہے، ایسا طالب علم ہی انعام یافتہ کہلاتا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے اس کے نمبر بڑھتے اور پوزیشن بہتر ہوتی ہے۔ اگر آپ کو میری باتوں پر یقین نہ آئے تو ایک بار ایسی کوشش کر کے دیکھ لیں۔ خود کو کسی کام کے لیے مکمل طور پر وقف کیے بغیر کامیابی کی کوشش آسمان سے تارے توڑنے کے مترادف ہے اور اگر آپ اپنے کام میں رچ بس جاتے ہیں تو آپ کامیاب ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔
اپنا کاروبار شروع کرنے سے سات سال پہلے میں اپنے ایک دُور کے رشتہ دار کی کمپنی میں ملازمت کرتا تھا۔ اگرچہ میں اس خاندان کا حصہ ہی تھا، پھر بھی ایک باقاعدہ تنخواہ دار کے طور پر کام کر رہا تھا۔ اس کمپنی میں میرا کام کرنے کا انداز بالکل ایسا تھا کہ جیسے میں ہی اس کا مالک ہوں۔ کام کے لیے کسی حکم کا انتظار کرنے کے بجائے میں اپنی حصے کی ذمہ داری خود ہی پہل کر کے تلاش کر لیتا تھا۔ میں نہ تو کبھی کام سے لیٹ ہوتا اور نہ ہی چھٹی کرتا تھا۔ کام کی تکمیل سے حاصل ہونے والی ناقابلِ بیان خوشی آج بھی مجھ سے اُسی جوش وجذبہ سے محنت کرواتی ہے۔ مجھے بین الاقوامی شہرت یافتہ کاروباری شخصیات کے ساتھ سخت بحث ومباحثہ کے بعد حاصل ہونے والے آرڈر سے جو خوشی ملتی ہے اُس کا کسی اور خوشی سے موازنہ تک نہیں کیا جا سکتا۔ اس خوشی کے سامنے گالف کھیل کر یا کوئی اچھی سے اچھی فلم دیکھ کر حاصل ہونے والی خوشی میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔
میں کبھی کبھار کسی ایسی کاروباری شخصیت سے ملتے وقت قدرے بے چین ہو جاتا ہوں جس کے پاس کوئی نیا کاروباری منصوبہ ہو۔ یہ بے چینی بالکل اس کھلاڑی جیسی ہوتی ہے جو کسی ایسے مقابلے میں شرکت کرنے والا ہو جہاں اس کی تمام تر صلاحیتوں کا اظہار مقصود ہو۔ اس طرح کی سخت اور مشکل کاروباری میٹنگ کے بعد منصوبہ بھی بڑا ملتا ہے اور میری دلچسپی اور توجہ کے ارتکاز کو جلا بھی ملتی ہے۔ ان حالات میں جب میں کاروباری گُر استعمال کر کے کامیابی حاصل کرتا ہوں، معاہدہ طے پانے کے بعد ساتھ والی کاروباری شخصیت کے ساتھ ہاتھ ملاتا ہوں تو میرے اندر تازہ قوت اور توانائی کے چشمے اُبل پڑتے ہیں۔ (جاری ہے)

Leave a Reply

Back to top button