تراجمسیلف ہیلپ

باب 6: ہار ماننے والا خاموش تماشائی مت بنیں!

آج کل کچھ لوگ امریکہ کو ایک گرتے ہوئے دیو سے تشبیہہ دیتے ہیں۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ بہت سے لوگ جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ منشیات کا استعمال انسانی کردار کو تباہ کر رہا ہے اور بہت سے نوجوان اپنی زندگیاں انبساط حاصل کرنے کے ذرائع پر غور کرنے میں گزار رہے ہیں۔
ان حالات میں ایسے لوگ بھی ہیں جو دن رات پڑھائی اور تحقیق میں محو رہتے ہیں تاکہ ایک روشن کل پیدا کیا جا سکے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو امریکہ کی تمام تر ترقی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے دن رات کی تمیز کیے بغیر کام میں مشغول ہیں۔ میرے خیال میں یہی وہ گروہ ہے جو امریکہ جیسی ریاست کو سنبھالا دینے جا رہا ہے۔
ہمیں تعداد سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے، یہ تو محض مقدار کو ظاہر کرتی ہے اور یہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اگر آپ کے پاس ایک فارم میں 100 جانور اور ایک آدمی ہو تو اشاری اعداد صرف100 اور ایک کا فرق بتاتے ہیں، اس 100 کے مقابلے ایک کی طاقت اور جوہر کے بارے میں نہیں بتاتے۔
تاریخ نویس آرنلڈ ٹوائن بی انسانی تہذیب کا سبب بننے والے لوگوں کو ایک تخلیقی اقلیت قرار دیتا ہے۔ تہذیب کی بُنتر میں ان لوگوں کے کردار کا تعین ان کی تعداد سے نہیں بلکہ ان کے تخلیقی کارناموں کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ اس اقلیتی گروہ کی تخلیقی تحریک کے باعث ہی غیرتخلیقی اکثریت بھی تہذیب کی ترقی میں ساجھے دار بن سکی۔ ایسا کرنا اس تخلیقی اقلیت کا صرف حق ہی نہیں بلکہ فرض اور ذمہ داری بھی ہے کیونکہ معاشرت اور تاریخ ان کے اس حصہ کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔ اس تخلیقی گروہ کے افراد کے لیے یہ لازمی کر دیا جاتا ہے کہ وہ غیرتخلیقی اکثریت کو تبدیل ہونے پر مجبور کریں تاکہ تاریخ ترقی کر سکے۔ ان کی طرف سے ایسا نہ کرنا معاشرے اور تہذیب کا خاتمہ کرنے کے مترادف خیال کیا جاتا ہے۔
اس تخلیقی گروہ کی پیداواری صلاحیتوں پر قدغن لگانا بھی معاشرے اور تہذیب کے زوال کو دعوت دینے کے برابر ہے۔ جب تخلیقی صلاحیتیں معاشرے کی ترقی کے لیے استعمال نہ کی جائیں یا پھر اس تخلیقی گروہ کو محدود کر دیا جائے تو یہ عمل بھی معاشرے کو زوال کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ اس کے علاوہ جب حکمران لذت پرستی اور سستی کا شکار ہو جائیں تو تخلیقی تحریک اور مشکلات کا سامنا کرنے کا جذبہ مفقود ہو جاتا ہے، ایسا ہونے کی صورت میں معاشرہ تباہی کی راہ پر چل پڑتا ہے۔
آپ کو معاشرے اور انسانیت کی ترقی، خوشی اور بہتری کے لیے تخلیقی ذہن سے سوچنا اور پُرجوش طریقے سے عمل کرنا ہو گا۔ اس سے آپ کے ذہن میں سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ تخلیقی بن کر اس تخلیقی گروہ کا حصہ کیسے بنا جائے۔ اس سلسلے میں، مَیں آپ کو سب سے پہلے یہ بتاؤں گا کہ آپ نے ہار ماننے والا موقع پرست اور خاموش تماشائی ہرگز نہیں بننا۔
آپ نے وسیع النظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ سوچنا ہے کہ آپ اپنے لوگوں، اپنی قوم اور سب سے بڑھ کر پوری انسانیت کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ آپ نے تخلیقی اقلیت کا حصہ بننا ہے تو یاد رکھیں یہ لوگ ہمیشہ مثبت سوچتے ہیں۔ یہ لوگ مایوسی اور غیریقینی والی صورتحال میں اُمید اور رجعت پسندی کی شمع جلائے رکھتے ہیں۔ یہ لوگ تاریخ کی ترقی پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو تاریخ کے پہیے کو آگے بڑھنے کے لیے قوت محرکہ فراہم کرتے آئے ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button