تراجمسیلف ہیلپ

باب 8: جب ماں بچوں کو بھوکا سُلا دیتی تھی!

اپنا علم دوسروں کے ساتھ بانٹو کیونکہ فکری خودغرضی بھی مالی خودغرضی جتنی ہی معیوب ہے“۔ علم ہمیشہ سے قدر کا حامل رہا ہے۔ میں نے ایسے دور میں پرورش پائی جب ”اپنا علم تقسیم مت کرو“، ”کچھ بننے کے لیے آپ کا کچھ جاننا ضروری ہے“ جیسے جملے ہر کسی کی زبان پر تھے۔ میرے باپ اور دادا نے علم اور تعلیم کی قدر اپنے ذاتی تجربات سے حاصل کی تھی۔ یہ الفاظ ان کے ذریعے ہی مجھ تک پہنچے جو میرے لیے ایک زندہ وجاوید سبق کی حیثیت رکھتے تھے۔ یہ پُرانی کہاوتیں آج بھی اتنی ہی سچی اور کارآمد ہیں جتنی کئی دہائیاں قبل تھیں کیونکہ اس دُنیا کا ڈھانچہ ہی ایسا ہے کہ اس میں سخت محنت کر کے سیکھنے والا انسان ہی موزوں بیٹھ سکتا ہے۔
”اپنا علم تقسیم مت کرو“ جیسی کہاوتوں پر مجھے کچھ تحفظات ہیں کیونکہ ایسی باتوں سے ایک خاص قسم کی سرد مہری اور خود غرضی ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے برعکس میں اس نظریے کا حامی ہوں کہ اپنا علم دل کھول کر تقسیم کرو کیونکہ پڑھے لکھے لوگوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دوسروں کو بھی پڑھنے لکھنے کا موقع فراہم کریں۔ سیکھنے کے عمل میں خودغرضی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے تمام بھائیوں کو اس میں شامل کریں۔ ہمیں ان کے ساتھ نہ صرف اپنا علم بلکہ دولت بھی بانٹنی چاہیے کیونکہ مالی خودغرضی اور فکر خودغرضی بالکل برابر معیوب ہیں۔ خود کے ساتھ ساتھ دوسروں کے لیے زندہ رہنا بھی بڑا ضروری ہے کیونکہ جب آپ دوسروں کے لیے زندہ رہنا شروع کر دیتے ہیں تو زندگی زیادہ پُرجوش، روشن اور پُرمسرت بن جاتی ہے۔ یہی زندگی جیئے جانے کے قابل ہے۔
مجھے پہلی دفعہ حقیقی خوشی کا احساس اس وقت ہوا جب ہم کوریائی جنگ کے دوران تائیگو میں پناہ گزین تھے تو میں وہاں اخبار فروخت کیا کرتا تھا۔ اُن دنوں جنگ کی وجہ سے لوگ اس قدر مفلوک الحال تھے کہ زندہ رہنے کی نسبت مرنا زیادہ آسان تھا۔ ہم مسلسل بھوک کا شکار تھے مگر حالات کی ستم ظریفی اور بھوک نے ہمیں زندگی کا سامنا کرنے کے لیے لازوال حوصلہ عطا کیا۔
میرے باپ کو اغوا کر کے شمال میں لے جایا گیا اور بڑے بھائی کو فوج کے لیے دھر لیا گیا اور میں صرف چودہ سال کی عمر میں خاندان کے واحد کفیل کے طور پر باقی رہ گیا۔ مجھے ایک دن کے بنیادی اخراجات پورے کرنے کے لیے مارکیٹ میں کم ازکم ایک سو اخبار فروخت کرنا پڑتے۔ میری ماں اور چھوٹے بھائی رات گئے تک میرے منتظر رہتے تاکہ ہم اکٹھے کھانا کھا سکیں۔ ان کے اس عمل کے لیے میں ہمیشہ ان کا شکرگزار رہتا۔ جب ہم چاروں مل کر کھانا کھاتے تو مجھے بڑا اچھا محسوس ہوتا۔ میں خوش تھا کیونکہ ہم اس کھانے سے حقیقی طور پر لطف اندوز ہوتے تھے۔
کبھی ایسا ہوتا کہ جب میں گھر آتا تو میری ماں اور بھائی سو چکے ہوتے، میں فوراً جان جاتا کہ ان کے سو جانے کی وجہ چاولوں کا وہ ایک پیالہ جسے انہوں نے میرے لیے بچا کر رکھا ہے۔ میری ماں مجھے کھانا کھلانے کے لیے جاگ جاتی اور کہتی ”ہم کھا چکے ہیں، آپ کو بھوک لگی ہو گی، آپ جلدی کھالو“۔
میرا اپنے بھائیوں کو دیکھ کر چلانے کو دل کرتا، جنہیں ماں نے اس لیے بھوکا سلا دیا ہوتا کہ چاولوں کا وہ واحد پیالہ میرے لیے بچ جائے۔ اس پر میں اپنے آنسو ضبط کر لیتا اور ماں اپنے آنسو پی جاتی۔ میں ماں سے کہتا کہ میں نے گھر آتے ہوئے راستے میں ایک پیالہ نوڈلز کھا لی تھیں، آپ اور بھائی یہ چاول کھا لیتے۔ ہم جانتے تھے کہ ہم ایک دوسرے سے جھوٹ بول رہے ہیں مگر اس کے علاوہ ہمارے پاس جذبات کے اظہار کا اور کوئی طریقہ بھی تو نہیں تھا۔
ہم مالی لحاظ سے غریب مگر دلوں کے امیر تھے۔ ہمارے پاس بہت کم ہوتا تھا پھر بھی ہم دوسروں کو جتنا زیادہ دے سکتے، دیتے تھے کیونکہ ایسا انسان امیر نہیں ہو سکتا جس کے پاس ہو تو بہت کچھ مگر وہ دوسروں کو دینا نہ جانتا ہو۔ حقیقت میں امیر لوگ وہی ہوتے ہیں جو دوسروں کو زیادہ سے زیادہ دیتے ہیں …… جو کچھ دے سکیں دے دیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ دوسروں کی مدد کیسے کرنی ہے، اور وہ کر بھی دیتے ہیں چاہے کم کر سکیں یا زیادہ۔
میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ میں جانتا ہوں کہ حقیقی خوشی کیا ہے مگر میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اس کا تعلق بہت زیادہ ملکیت، طاقت یا شہرت سے ہرگز نہیں ہے۔ مجھے یاد ہے، میرے لیے خوش ترین وقت وہ تھا جب ہمارے پاس مادی وسائل بہت قلیل تھے۔ اُس وقت سے میں نے دوسروں کے لیے زندہ رہنے کی فلاسفی پر عمل کیا ہے۔ میں جان چکا ہوں کہ ایسا کرنا کتنا مشکل ہے پھر بھی میرا فیصلہ اسی راہ پر زندگی گزارنے کی سخت سے سخت کوشش کرنا ہے۔ (جاری ہے)

Leave a Reply

Back to top button