تراجمسیلف ہیلپ

باب 9: جیتنے کیلئے فوری فیصلہ کیجئے!

طے شدہ مقاصد کے تحت ہی انتظام وانصرام کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات وقت پر فوری فیصلے بھی لینا پڑتے ہیں، میرے کچھ انتہائی قابلِ قدر انتظامی طریقہ ہائے کار ایسے بھی ہیں جن کے بارے میں امریکی بزنس سکولوں میں بھی نہیں پڑھایا جاتا، وہاں طالب علموں کو صرف ”انتظام بذریعہ مقاصد“ کے بارے میں ہی تعلیم دی جاتی ہے۔
ان کے نزدیک مینجمنٹ کے چار اہم پہلو ”پلاننگ، آرگنائزنگ، لیڈنگ اور کنٹرولنگ“ ہیں۔ میرے نزدیک یہ پہلو چار کے بجائے چھ ہیں جن پر ایک مختارِکُل (ایگزیکٹو) کو عمل کرنا چاہیے۔ علاوہ ازیں ایک بڑی تنظیم کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے انتظامی امور میں اتنی لچک ضرور رکھے جس کے تحت بدلتے ہوئے حالات میں اچانک فیصلہ کرنے کی گنجائش موجود ہو، اسی لیے میں بہت زیادہ سفر کرتا ہوں۔ میں جن ممالک میں جاتا ہوں وہاں زیادہ تر معاملات میں تبدیلی اور غیریقینی صورتحال کے امکان ہوتے ہیں لہٰذا ایسی صورت میں، میں رپورٹوں اور تجزیوں کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کے بجائے اچانک فیصلہ کرنا پسند کرتا ہوں۔ ماضی کی نسبت کاروبار میں آج تبدیلی زیادہ تیزی سے آتی ہے جس کے باعث معاشیات، سیاسیات اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں جدت اور اختراع پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔
ترقی پذیر ممالک میں، جہاں میں نے بہت زیادہ کاروبار کیا ہے، اصول وضوابط تیزی سے تبدیل ہوتے ہیں۔ کبھی ان کے پاس سرمایہ ہوتا ہے، کبھی نہیں ہوتا۔ ایکس چینج ریٹ میں اُتار چڑھاؤ رہتا ہے اور کبھی کبھی خطرات عام نوعیت سے زیادہ شدید ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر آپ فیصلہ سازی میں تاخیر کرتے ہیں تو آپ کو اس کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ آرام دہ کُرسی پر بیٹھ کر تجزیہ کرنے والا انسان ان حالات میں کاروبار نہیں کر سکتا۔ آپ کے لیے مکمل صورتحال سے آگاہی ازحد ضروری ہو جاتی ہے جس کے لیے آپ کو بنک کاروں، دوستوں، سرکاری اہلکاروں اور دوسرے لوگوں سے ملنا پڑتا ہے۔
ایگزیکٹوز کو اکثر غیریقینی صورتحال میں فیصلہ کرتے ہوئے انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کاروبار محض پیسہ بنانے کا ہی نام نہیں، کبھی کبھی خسارے کی مقدار کم کرنا بھی بہت اہم ہوتا ہے۔ ایک بڑی کمپنی برف کے لڑھکتے ہوئے گولے کی طرح ہوتی ہے اور جب آپ کی کمپنی خسارے میں جا رہی ہو تو اس وقت اہم کام خسارہ کم کرنے کا بندوبست کرنا ہوتا ہے، اسی لیے میں تازہ ترین معلومات حاصل کرنے اور بروقت فیصلہ سازی کی خاطر زیادہ سے زیادہ سفر کرتا ہوں۔
مثال کے طور پر ویت نام میں کاروبار کے لیے جانے سے پہلے میں نے وہاں موجود کاروباری مواقع کا مطالعہ کرنے کے لیے ٹیم بھیجی۔ انہوں نے مجھے معلومات دیں اور بعد میں، میں ان کی توثیق کے لیے خود وہاں گیا، وہاں گفت وشنید کے دوران مجھے کاروباری مواقع نظر آئے جن میں سب سے اہم کپڑا سازی کے لیے مشترکہ منصوبے کا آغاز کرنا تھا۔ میں نے وہاں تجویز پیش کی کہ نیا سازوسامان خریدنے کے بجائے ہم کوریا میں موجود ناکارہ تکلے (سپنڈلز) استعمال کر سکتے ہیں۔کوریا میں بڑھتی ہوئی اُجرت اور عملے کی کمی کے باعث یہ تکلے استعمال نہیں کیے جا رہے تھے۔ میں جانتا تھا کہ کوریا میں 5 لاکھ تکلے بے کار پڑے تھے۔ میں ان کی حقیقی قیمت کے صرف 20 فیصد پر انہیں خرید سکتا تھا۔ میں ویت نام کی فیکٹریوں میں گیا، مزدوروں کی تنخواہوں کا جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ منصوبہ قابلِ عمل ہے۔
ان کی مشینری 20 سے 30سال پُرانی تھی جبکہ ہمارے تکلے صرف 10سال پُرانے تھے۔ ویت نام کے پاس زرّمبادلہ کی کمی جبکہ اچھی افرادی قوت موجود تھی۔ میں نے ویت نام کی فیکٹریاں دیکھ کر فوری طور پر پُرانی کورین مشینری یہاں لانے کا فیصلہ کرلیا۔ 100ملین امریکی ڈالر کے بجائے اب صرف 20 ملین ڈالر کی ضرورت تھی کیونکہ ضرورت کے مطابق بجلی، پانی اور افرادی قوت کے ساتھ ساتھ عمارت پہلے ہی موجود تھی۔
مشینری کو یہاں لانے اور اس کی تنصیب میں وقت لگنا تھا لہٰذا میں نے اپے ویت نامی شراکت دار سے کہا کہ وہ اپنے انجینئروں اور تکنیکی سٹاف کا 30 فیصد کوریا بھیج دیں تا کہ ہم انہیں کام میں لگا کر 6 ماہ تک ان کی تربیت کر لیں تا کہ وہ واپس ویت نام آکر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔ میں نے وقت پر فیصلہ کیا اور معاہدے پر دستخط کردیئے۔
اگر کوئی یورپی کپڑا ساز کمپنی وہاں جاتی تو میرا نہیں خیال کہ وہ عین موقع پر کوئی فیصلہ کر سکتی۔ اگر امریکی ہوتے تو وہ بھی پہلے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے مگر میں وہاں گیا، معلومات لیں اور فیصلہ کر دیا۔
تیسری دُنیا کے ممالک میں کاروبار محض یکبارگی سودابازی نہیں ہوتا۔ ویت نام میں مشرکہ منصوبہ قابلِ عمل بنانے کے لیے ہمیں مقامی سرمایہ کی ضرورت تھی۔ ویت نام میں ہر چیز کی کمی تھی لہٰذا میں یہاں رقم لانے کے بجائے تجارتی مال لے کر آیا تاکہ اسے مارکیٹ میں فروخت کر کے منافع کمایا جاسکے۔
ایک کاروبار سے ہم کئی دوسرے کاروبار پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر ہمارے پاس بہت زیادہ مقامی سرمایہ ہو تو ہم مقامی اجناس اور مصنوعات خرید کر ان کی برآمد کے ذریعے زرّمبادلہ کما سکتے ہیں۔ یہ حکمتِ عملی اس وقت اور بھی زیادہ کارگر ثابت ہوتی ہے جب ملک افراطِ زرّ کا شکار ہو۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اگر آپ کسی ملک میں جاکر وہاں معلومات کر کے مارکیٹ کا جائزہ لیں تو آپ کوئی دوسرا کاروبار بھی تلاش کر سکتے ہیں۔
بہت سے لوگ کسی ایسے ملک کا سوچ کر جس میں سرمایہ کی کمی ہو، مایوسی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ وہ مایوس اس لیے ہو جاتے ہیں کہ انہیں بزنس تلاش کرنے میں معاون ثابت ہونے والے ممکنات نظر نہیں آتے۔ میں ٹیلی ویژن اور ریڈیو سیٹ بنانے کا مشترکہ کاروباری منصوبہ شروع کرنے کے لیے برما گیا۔ بہت سے لوگوں کو اس بات کی سمجھ نہ آسکی کہ ہم یہ اشیاء بنانے کے لیے زرّمبادلہ کہاں سے لیں گے اور اگر زرّمبادلہ نہیں ہو گا تو ریڈیو اور ٹی وی سیٹ بنانے کے اجزاء کیسے درآمد کیے جا سکیں گے۔
برما میں الیکٹرانکس پروڈکٹس کی مانگ بہت زیادہ تھی، ہم نے فوری یہ فیصلہ کیا کہ یہاں ایک ہوٹل تعمیر کیا جائے جس سے ہم زرّمبادلہ حاصل کر سکیں۔ ساتھ ہی میں نے یہ پروگرام بنایا کہ ہم یہاں سے چاول خرید سکتے ہیں جن کو برآمد کر کے الیکٹرانکس کا سامان بنانے کے اجزاء خریدنے کے لیے زرّمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ کچھ نہیں کرتے وہ صرف خطرات کو دیکھتے ہیں جبکہ میں ہمیشہ ممکنات پر نظر رکھتا ہوں۔
بہت سے کاروباری لوگوں کا خیال ہے کہ مشرقی یورپ کے ممالک میں کاروبار کرنے کا سوچنا مضحکہ خیز ہے کیونکہ یہاں ہر ملک ”مقروض“ ہے۔ میں وہاں جاتا ہوں اور چیزوں کو ایک الگ زاویے سے دیکھتا ہوں۔ مثال کے طور پر یوگوسلاویہ میں، میں دیگر مواقع پیدا کرنے کے لیے گندم کی خریداری کرتا ہوں۔ اس مقصد کے لئے میں نے دو ماہ کی پیشگی ادائیگی کی اور اچھی خاصی رعایت حاصل کر لی کیونکہ میں اس گندم کو مشرقِ وسطیٰ میں بین الاقوامی قیمت پر فروخت کر کے زیادہ منافع کما سکتا تھا اور بعد میں گندم بارٹر سسٹم کے تحت بھی خریدی جا سکتی تھی۔ وہ مجھے گندم دیں اور میں ان کو بجلی اور گاڑیوں کا سامان دوں گا۔ اس حکمت عملی سے بھی میں منافع کما سکتا تھا۔
اس طرح کے خاص کاروباری معاملات کی نگرانی میں خود کرتا ہوں کیونکہ ان کا دارومدار کاروبار کے عالمی حالات سے آگاہی اور فوری فیصلہ کرنے کی صلاحیت پر ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ڈائیوو کا عملہ بھی یقیناً میری مدد کرتا ہے اور بعد والے معاملات بھی عملہ ہی دیکھتا ہے۔
اس نوعیت کا کاروبار کرنے کے لیے آپ کو ہر ملک کی منڈی سے خوب آگاہی ہونی چاہیے۔ مثال کے طور پر ویت نام کو کیمیائی کھادوں کی اشد ضرورت ہوتی ہے اور وہ اسے انڈونیشیا جیسے ممالک سے خریدتا ہے۔ اس میں ہوتا یہ ہے کہ سپلائر نے چیز بیچ دی اور ڈیل ختم ہو گئی۔ ایسا کاروبار کوئی بھی کر سکتا ہے مگر میں ایسا نہیں کرتا۔ میں روس کے ساتھ رابطہ کرتا ہوں، انہیں کہتا ہوں کہ مجھے کھادوں کی ضرورت ہے جن کے بدلے میں مَیں آپ کو نقد رقم کے بجائے وہ اشیاء دوں گا جن کی آپ کو ضرورت ہے۔ اس طرح میں بارٹر سسٹم کے تحت ان کو کپڑے کی مصنوعات دیتا ہوں۔ ایک عام آدمی اجناس خریدتا ہے اور 50 فیصد منافع حاصل کر کے بیچ دیتا ہے۔ یہ درست عمل نہیں ہے۔ ہمیں اپنی خرید و فروخت کی تمام صلاحیتوں سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے 100فیصد منافع کمانا چاہیے۔
میں اپنے دفتر میں لوگوں کو اس طرح سے کاروبار کرنے کی تربیت دیتا ہوں مگر مسئلہ یہ ہے کہ اُن میں سے کسی کے پاس بھی مکمل معلومات نہیں ہوتی ہیں جبکہ میرے پاس معلومات زیادہ ہیں اور ان کو استعمال کرنے کے طریقے بھی لامحدود ہیں۔ میں جب سفر کے دوران مختلف چیزوں کے بارے میں سُنتا ہوں تو سودے کے بارے میں ذہن میں خاکہ تیار کر لیتا ہوں۔ آپ اس طرح کی معلومات ٹیلی گراف، پیغامات یا مطالعہ سے حاصل نہیں کر سکتے کیونکہ اُن کے حصول کا مؤثر ذریعہ دوسروں کے ساتھ گپ شپ، لوگوں کو جاننے اور کاروباری حالات کو سمجھنے میں ہی پوشیدہ ہے۔ ( جاری ہے)

Leave a Reply

Back to top button