تراجمسیلف ہیلپ

باب:5 کام کئے بغیر اُسے ناممکن قرار دینا حماقت ہے

میں کام کا شیدائی ہوں۔ مجھے ہمیشہ کچھ نہ کچھ کرتے رہنا اچھا لگتا ہے۔ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو زیادہ دیر تک فارغ نہیں بیٹھ سکتے۔ میرے لیے دُنیا میں مشکل ترین کام کچھ نہ کرنا ہے۔ لوگ کچھ دیر سستانے کی بات کرتے ہیں مگر میں نہیں کرتا۔ سستانا مجھے اذیت کی حدوں تک لے جاتا ہے، لہٰذا میں ہمیشہ مصروفِ عمل رہتا ہوں۔ اسی لیے میرے پاس کرنے کے لیے ہمیشہ کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے۔
میرے نزدیک ایسی چیز کی کوئی اہمیت نہیں جسے شروع کر کے بھلا دیا جائے۔ مجھے ایسے نوجوان اچھے لگتے ہیں جو ہمیشہ مصروف رہیں اور جو کام شروع کر دیں اُسے اپنی ذات کا حصہ بنا لیں۔ ایسے لوگوں کی ناکامی کے امکانات ان لوگوں کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں جو کچھ نہیں کرتے۔ محنت کر کے ناکام ہونے والے لوگ ایک یا دو ناکامیوں کو اپنے تجربے کا حصہ سمجھتے ہوئے کبھی بھی ہمت نہیں ہارتے۔ اگر آپ ناکامی کو اس زاویہ نظر سے دیکھنے کی ہمت رکھتے ہیں تو سمجھ لیں کہ آپ کامیابی کے حتمی راستے پر چل پڑے ہیں۔ ایسا انسان جو چیلنج قبول کرنے اور ناکامی سے ڈرنے لگے وہ کبھی حقیقی کامیابی کا مزہ نہیں چکھ سکتا۔
کرنے کے لیے بے شمار کام اپنے دامن میں سمیٹے وسیع وعریض دُنیا آپ کی منتظر ہے۔ آپ نے وہ جگہیں تلاش کرنی ہیں جو لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں اور وہ کام سرانجام دینے ہیں جو ابھی تک دوسروں کی توجہ حاصل نہیں کر سکے۔ تاریخ ایسے ہی کارنامے سرانجام دینے والوں سے مزین ہے اور یہی لوگ حقیقی پہل کار ہیں۔
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ پہل کاری میں خطرہ ہوتا ہے مگر کامیابی کے لیے یہ خطرہ مول لینا ناگزیر ہے۔ پہل کار وہ راستہ اختیار کرتے ہیں جس پر پہلے چلا نہیں گیا ہوتا۔ اس کے لیے انہیں آفات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کوسنے سننا پڑتے ہیں۔ یہ تنقید، دشنام طرازی اور خطرات ان کو پریشان نہیں کرتے، وہ تو بس نئی راہیں بنانے میں محو رہتے ہیں اور آخرکار ایسے کارنامے سرانجام دے جاتے ہیں کہ ہر کوئی ان کی تعریف میں رطب اللسان نظر آتا ہے۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قوموں کی طاقت اور خوش حالی اسی پہل کاری کے جذبے کی مرہونِ منت ہے جبکہ تباہی اطمینان اور ذمہ داری سے پہلو تہی کا نتیجہ ہے۔ اگر پہل کاری کا جذبہ نہ ہوتا تو کیا امریکہ آج اتنا طاقتور اور خوشحال ہو سکتا تھا۔ امریکہ آج جو کچھ ہے اس کے پیچھے موجود پہل کاری کے جذبے کی اہمیت سے کسی صورت انکار ممکن نہیں۔
گو کہ کوریا کی تاریخ طویل ہے مگر اس میں پہل کاری کے جذبے کی کمی رہی ہے۔ تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں کوریا نے ترقی پر آرام اور چیلنج پر لیت ولعل کو ترجیح دی ہے۔ ہمارے ہاں حالات کے سامنے جلد ہتھیار ڈال دینے کا مضبوط رُجحان پیدا ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ شاید ہمارے ہاں شائستگی اور خوشحالی کی قدیم کانگ فوزی (کنفیوشسی) روایات ہیں۔ ان روایات کی وجہ سے ہماری قوم ”آداب کی مشرقی سرزمین“ اور ”وقتِ سحری کے سکون کی اقلیم“ جیسے لقب تو حاصل کر چکی ہے مگر یہ بات بھی واضح ہے کہ اس تاریخی جمود کے باعث ہم قومی طاقت کے حوالے سے بین الاقوامی طاقتوں سے بہت پیچھے رہ چکے ہیں۔
ڈائیوو کی بنیاد رکھنے کے بعد فوری طور پر ہم نے بین الاقوامی مارکیٹ پر توجہ دینا شروع کر دی۔ یہ وہ وقت تھا جب مصنوعات برآمد کرنے کو ایک بے فائدہ مہم سمجھا جاتا تھا۔ اس وقت کی تمام بڑی کمپنیاں درآمدات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھیں۔ ہم نے برآمدات پر ایک پہل کار کمپنی کے طور پر توجہ دی اور لوگوں کی مایوس کر دینے والی باتوں کے باوجود اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے۔ اس طرح ہم نے ثابت کردیا کہ کسی کام کو کرنے کی کوشش کیے بغیر اُسے ناممکن قرار دینا حماقت کی انتہا ہے۔
پہل کاری کے اسی جذبے کے تحت ڈائیوو نے نہ صرف امریکی اور یورپی منڈیوں تک رسائی حاصل کی بلکہ سوڈان، نائیجیریا، لیبیا، انگولیہ، الجیریا، چین، ویت نام، ہنگری، چیک سلواکیہ اور سویت یونین جیسے ایسے ممالک تک بھی پہنچ گئیں جن کے ساتھ کوریا کے سفارتی تعلقات تک موجود نہ تھے۔ ڈائیوو کی اس اولوالعزمی سے نہ صرف ان ممالک کی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوئی بلکہ اس کے نتیجہ میں سوڈان، لیبیا، الجیریا، نائیجیریا، ہنگری اور سویت یونین کے ساتھ سفارتی تعلقات کا آغاز بھی ہو گیا۔
کچھ کر گزرنے والوں کے لیے یہ دُنیا لامحدود ممکنات سے بھری پڑی ہے مگر یہ مواقع ان لوگوں کو نظر نہیں آتے جو واقف راہوں پر گامزن ہو کر فقط معمول کے کام ہی سرانجام دینا چاہتے ہوں، محدود نقطہئ نظر رکھنے والے لوگوں کے لیے دُنیا ان کی راہوں جیسی محدود اور ہر کام ان کی عادتوں کی طرح چھوٹا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس نئی راہوں کے متلاشی پہل کاروں کے لیے دُنیا ایک ایسی وسیع وعریض جگہ ہے جو لامحدود کام کے ذخائر سے مزین ہے۔ میں نے زندگی اس طرح گزاری ہے اور اسی طرح گزارتا رہوں گا۔ میں ہمیشہ نئی راہیں تلاش کر کے ان میں اپنے اور دوسروں کے لیے مواقع پیدا کرتا رہوں گا۔

Leave a Reply

Back to top button