تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

باجرہ: ناقابل یقین طبی فوائد کا خزانہ

باجرہ کے دانوں میں ایتھر، ایکسٹریکٹ 0.4 فیصدجس میں نائیٹروجن 0.21فیصد فیصد،جلد ہضم ہونے والی کاربوہائیڈریٹس 20فیصد، پروٹین، کیلشیم، فاسفورس اور فولاد کے علاوہ سٹارچ اور دیگر مرکبات پائے جاتے ہیں۔

ہمارے ہاں پرندوں کو ایک خوراک ڈالی جاتی ہے۔ جسے پرندے بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔اس خوراک کو باجرہ کہتے ہیں۔ باجرہ نہ صرف پرندوں کی خوراک ہے، بلکہ دراصل یہ انسانوں کی بھی خوراک ہے۔ باجرہ کے متعدد طبی فوائد ہیں جنہیں لوگ فراموش کر بیٹھے ہیں اور صرف گندم پر ہی انحصار کیا جاتا ہے۔ حالانکہ گندم کے علاوہ بھی دیگر اجناس ہیں، کہ جنہیں اگر ہم اپنی خوراک کا حصہ بنا لیں تو کئی بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔

ہمارے ملک کے اکثر علاقوں میں باجرہ کاشت کیا جاتا ہے۔ہمارے دیہاتوں میں اب بھی اسے بطور خوراک استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی روٹی اور چوری بڑے ہ شوق سے کھائی جاتی ہے۔ اس کے ہرے، تازہ بھٹوں کو بھون کردانے نکال کر بھی کھائے جاتے ہیں۔

اس کا پودا جوار کے پودے جیسا مگر ایک دم سیدھابڑھتا ہے۔ ڈنڈیاں پتلی ہوتی ہیں۔ اس میں ایک لمبا بھٹہ لگتا ہے۔جس کے چاروں طرف چھوٹے چھوٹے گول دانے لگتے ہیں۔ ان دانوں کو ہی باجرا کہتے ہیں۔ پکنے پر ان دانوں کو بھٹوں سے الگ کر لیا جاتا ہے۔

باجرے کو عربی میں جادرس،فارسی میں گادرس،گجراتی میں باجرو، سندھی میں باجھری،سنسکرت میں بجرری، بنگالی میں باجرہ،دھاریا، انگریزی میں پرل ملیٹ(Peral Millet یا Spiked Millet) کہتے ہیں۔

باجرہ میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
باجرہ کے دانوں میں ایتھر، ایکسٹریکٹ 0.4 فیصدجس میں نائیٹروجن 0.21فیصد فیصد،جلد ہضم ہونے والی کاربوہائیڈریٹس 20فیصد، پروٹین، کیلشیم، فاسفورس اور فولاد کے علاوہ سٹارچ اور دیگر مرکبات پائے جاتے ہیں۔

باجرے کے طبی فوائد:

بواسیر کا علاج:
حال ہی میں ہونے والی ایک طبی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بواسیر کے مسوں سے خون آنے پر، مرگی، بے خوابی، نامردی، بائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور تپ دق ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے اور اس کی روک تھام کے لیے باجرا ایک نہایت مفید خوراک ہے۔جسے روٹی بنا کر بھی کھایا جا سکتا ہے اور اس کی چوری بنا کر بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔

ضعف باہ کا علاج:
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مختلف وجوہات کی بنا کر ضعف باہ کے مریضوں کی تعداد بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس مرض میں مبتلا ہونے والے افراد بالواسطہ طور پر ذیابیطس اور اعصابی پستی کا شکار ہوجاتے ہیں۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ باجرا اتنا زیادہ مہنگا نہیں ہے اور اس میں بڑی مقدار میں پروٹین شامل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کیلشیم، فاسفورس اور فولاد بھی مناسب مقدار میں پائے جاتے ہیں۔جو اس بیماری کو ایک قدرتی علاج ہے۔
باجرے کو کھانے کے لیے کوئی خاص اہتمام نہیں کرنا پڑتا۔ اس کی روٹی بنا کر یا ملیدے کی شکل میں کھایا جا سکتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جن لوگوں کو پروٹین سے الرجی ہوتی ہے وہ بھی اسے بلاخوف و خطر کھا سکتے ہیں۔باجرہ ا ٓسانی سے ہضم ہوجاتا ہے اور اس سے الرجی ہونے کے امکانا ت بہت کم ہوتے ہیں۔ چنانچہ اسے غذا میں شامل کرلینے میں کوئی حرج نہیں۔

پیٹ کی بیماریاں:
باجرہ ان لوگوں کے لیے نہایت مفید ہے جو زیادہ ترپیٹ کی مختلف بیماریوں میں مبتلا رہتے ہوں یا جنہیں پیٹ کا السر ہو۔ ان افراد کو چاہیے کہ وہ باجرے کو خوراک کا لازمی حصہ بنائیں۔

ذیابیطس کے مریضوں کیلئے مفید:
باجرے میں شامل فائٹک ایسڈ سے کولیسٹرول کی سطح نیچی رہتی ہے، اس لیے یہ ان لوگوں کے لئے بھی فائدے مند جو ذیابیطس میں مبتلا ہوں۔ اس سے گلوکوز کی سطح نارمل رہتی ہے۔

وزن کم کرے:
باجرے میں ریشہ ہوتا ہے، لہذا ان لوگوں کو بھی باجرا کھانا چاہیے جو اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں۔ا سے کم مقدار میں کھانے سے بھی پیٹ بھرنے کا احساس ہوجاتا ہے۔ اس لیے جو افراد باجرا کھاتے ہیں، ان کا وزن کم رہتا ہے۔یہ تیزابیت کو دور کرتا اور دل کی بیماریوں کو ختم کرتا ہے۔

فولاد کی کمی دور کرے:
ایسے افراد جو فولاد کی کمی کا شکار رہتے ہیں۔ انہیں باجرا مختلف شکلوں میں کھانا چاہیے۔ انہیں فولاد کے سپلیمنٹ کھانے کے بجائے باجرے کو اپنی خوراک کا حصہ بنانا چاہیے۔ 160گرام مقدار میں باجرہ انسانی جسم کو درکار میں سے 70فیصد فولاد مہیا کرسکتا ہے۔

باجرے کے دیگر استعمال:
باجرے کو عام طور پر غریبوں کا اناج کہا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی بے پناہ نعمتوں میں سے باجرہ ایک بہت ہی اہم نعمت ہیں۔ اناج کی شکل میں ایک سستی غذا سے انسان کو طاقت کا ایک بڑا خزانہ مل جاتا ہے۔باجرہ ایک ایسا اناج ہے جو بدن کو بھرپور غذائیت دینے کے ساتھ ساتھ نزلہ‘ زکام بھی دور کردیتا ہے۔ اطباء کی تحقیق کے مطابق اس میں جسم کی چربی کم کرنے اور اعصاب کو طاقت پہنچانے کا اہم ذریعہ ہے۔جو لوگ بھوک کی کمی‘ گیس‘ ضعف معدہ جیسے امراض میں مبتلا ہوتے ہیں وہ کم لیسدار اجزا والے اس اناج کو استعمال کریں تو بدہضمی اور گیس جیسے امراض سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔ باجرے کو مستقل استعمال میں رکھنے سے بدن ہلکا پھلکا رہتا ہے۔برس ہا برس سے حکیم صاحبان یہ بتاتے رہے ہیں کہ باجرہ کو گڑ‘ شکر‘ گھی یا دیگر کھانے کے تیلوں میں ملا کر کھانے سے کمر مضبوط اور خون عمدہ و ہاضمہ درست رہتا ہے اور پیٹ کی چربی میں کمی کے ساتھ گیس بھی نہیں بنتی۔باجرہ کا حریرہ بنا کر پلانے سے قے کو آرام آجاتا ہے۔اس کی کھچڑی یا روٹی گھی میں بنا کر کھانے سے کمر دردکو آرام آجاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button