تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

بادیان کا تیل جوڑوں اور گھٹنوں کے درد کا نہایت موثر علاج

بادیان میں اینٹی اوکسی ڈنٹ، اینٹی فنگل اور اینٹی بیکٹیریل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔تجربات سے پتہ چلا ہے کہ تیل بادیان میں 80۔90 فیصدی ایک ایسا جزو پایا جاتا ہے جس کو اینی تھول کہتے ہیں۔ اسی جزو پر تیل بادیان کی خوشبوکا انحصار ہے۔جبکہ اس میں وٹامن اے، سی اوربی ہوتی ہے۔ اس میں کیلشیم اور فاسفورس موجود ہے۔ اس کے علاوہ سب سے اہم مرکب شکمک ایسڈ ہوتاہے۔

ہمارے ہاں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں بادیان کے پھول کا استعمال کھانوں میں نہ ہوتا ہو۔یہ قدرت کا ایک ایسا عظیم تحفہ ہے جو نہ صرف کھانوں میں بلکہ مختلف بیماریوں کے علاج میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

بادیان کو انیسوں بھی کہتے ہیں جبکہ بادیان فارسی زبان کا لفظ ہے، ہندی سونف رومی اور عربی میں رازیانج اورانگریزی میں اینی سیڈ(Aniseed)اور لاطینی میں پمپی نیلا انیسم لنن(PiminellaAnisam Linn)کہتے ہیں۔

بادیان نہایت قیمتی دوا ہے۔پرانے زمانہ میں بھی ویدا سے استعمال کرتے رہے ہیں۔ بادیان کی کاشت ہندوستان میں ہر جگہ خاص طور پر پنجاب،ہریانہ، ہماچل، یوپی اور اُڑیسہ میں کی جاتی ہے۔اس کا چھوٹا سا پودا ہوتا ہے جو لگ بھگ ایک میٹر تک اونچا ہوتا ہے۔اس کے پودے کے بیج ایک غلاف میں بند ہوتے ہیں۔یہی ”بیج بادیان“ہے اوراسی نام سے بازار میں ملتے ہیں۔جن میں خوشبو سونف جیسی ہوتی ہے۔بادیان سے ایک تیل بھی کشید کیا جاتاہے جو کہ ”تیل بادیان“کے نام سے ملتا ہے۔

بادیان کے پودے کی ٹہنیاں مربع شکل کی پتلی پتلی ہوتی ہیں۔پتے الائچی کے پتوں سے ملتے جلتے ہیں لیکن قدرے باریک و خوشبودار اور ہر شاخ کے سرے پر سفید رنگ کے پھول لگتے ہیں۔ان میں غلاف کے اندر لپٹے ہوئے زیرہ سے ملتے جلتے بیج ہوتے ہیں۔ یہ بیج سونف سے قدر ے چھوٹے اور زیرے سے بڑے ہوتے ہیں۔ان میں خوشبو بھی ہوتی ہے،ذائقہ تیزی لئے ہوئے اور خوشبودار بیجوں کی خشک کرکے پھٹکنے سے اوپر کا غلاف (چھلکا)گند م کی طرح علیحدہ ہو جاتا ہے۔ بیج سائز میں بڑے اور خوشبودار بہترین خیال کئے جاتے ہیں۔

بادیان میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
بادیان میں اینٹی اوکسی ڈنٹ، اینٹی فنگل اور اینٹی بیکٹیریل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔تجربات سے پتہ چلا ہے کہ تیل بادیان میں 80۔90 فیصدی ایک ایسا جزو پایا جاتا ہے جس کو اینی تھول کہتے ہیں۔ اسی جزو پر تیل بادیان کی خوشبوکا انحصار ہے۔جبکہ اس میں وٹامن اے، سی اوربی ہوتی ہے۔ اس میں کیلشیم اور فاسفورس موجود ہے۔ اس کے علاوہ سب سے اہم مرکب شکمک ایسڈ ہوتاہے۔

بادیان کے حیرت انگیز فوائد:
یوں تو بادیان کے پھول کے بے شمار فوائد ہیں لیکن ان میں سے چند درج ذیل ہیں۔

اینٹی اوکسی ڈنٹ خصوصیات:
ہمارے جسم کو بہت سے اینٹی اوکسی ڈنٹ کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ بادیان اینٹی اوکسی ڈنٹ حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔اینٹی اوکسی ڈنٹ جسم میں خلیات کی ٹوٹ پھوٹ سے حفاظت کرتے ہیں۔ خلیات کی ٹوٹ پھوٹ فری ریڈیکل اور فضا میں موجود ٹوکسن کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ ریڈیکل افزائش پا کر کینسر یا دل کی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔

اینٹی فنگل:
بادیان کے پھول میں فنگل انفکشن کو ختم کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ خاص طور پر منہ، گلے، آنتوں کے فنگس کے لیے مفید ہے۔

1 2 3اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button