ادب

بارھویں عالمی اُردو کانفرنس کا احوال…… راجا نیئر

آج 72 سال بیت جانے کے باوجود پاکستان کے دفتری نظام میں اردو کی بجائے انگریزی زبان ہی راج کر رہی ہے۔ اس صورتحال میں کچھ ایسے ادارے موجود ہیں جو اپنی قومی زبان کی بقاء اور ادب و ثقافت کی ترویج کے لیے سرگرم ہیں۔ پاکستان آرٹس کونسل کراچی اس حوالے سے نہایت خوش قسمت ہے کہ اُسے محمد احمد شاہ جیسے محنتی اور اپنی قومی زبان کے سچے عاشق ملے ہیں۔ وہ گزشتہ کئی برسوں سے اردو عالمی کانفرنس کا انعقاد کر رہے ہیں۔ اس بار بارہویں عالمی کانفرنس کے موقع پر پوری دنیا سے مندوبین، ادیب، دانشور، شاعر، صحافی اور آرٹسٹ اس کانفرنس میں شریک تھے۔ آئیے اس کانفرنس کا مختصر جائزہ لیں۔
آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں تسلسل کے ساتھ ہر سال جاری رہنے والی عالمی اُردو کانفرنس کی بارہویں تقریب کا انعقاد 5 دسمبر جمعرات کی شام پُروقار انداز میں آرٹس کونسل کے آڈیٹوریم میں کیاگیا جس میں بھارت سمیت دُنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے شعراء، ادیبوں اور اسکالروں نے شرکت کی۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت معروف ادبی شخصیات زہرا نگاہ، اسد محمد خاں، کشور ناہید، رضا علی عابدی، افتخار عارف، امجد اسلام امجد، پیرزادہ قاسم رضا صدیقی، مسعود اشعر، حسینہ معین، چین سے آئے ہوئے ٹینگ مینگ شنگ، جاپان سے تعلق رکھنے والے ہیروجی کتاوکا، زاہدہ حنا، نورالہدیٰ شاہ اور عارف نقوی نے کی جبکہ بھارت سے آئے ہوئے ممتاز نقاد، ادیب اور دانشور پروفیسر شمیم حنفی اور ہیومن رائٹس آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری حارث خلیق نے ادب اور سماج کے حوالے سے اپنے اپنے مقالے پیش کیے۔
کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کے سیاست دان، ادیبوں اور دانشوروں سے سیکھیں۔ آج ملک کو ترقی کی ضرورت ہے، وہ اتفاق اور تدبر سے ہی ہو سکتی ہے۔ 12ویں عالمی اُردو کانفرنس کے مندوبین آرٹس کونسل کے نہیں حکومت سندھ کے مہمان ہیں۔ مجھے اس کانفرنس میں شرکت کر کے خوشی ہوئی ہے۔ کانفرنس میں پاکستان سمیت دنیا کے 24 ممالک سے دو سو سے زائد مندوبین شریک ہوئے ہیں۔ اس کانفرنس نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان مختلف ثقافتوں کا ملک ہے اور ہر ثقافت پاکستان کی ثقافت ہے، ہر صوبے میں ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ برس جب کا نفرنس شروع ہوئی تو فہمیدہ ریاض ہم سے بچھڑ گئی تھی اور آج جوش ملیح آبادی کی سالگرہ ہے۔ آرٹس کونسل نے مختلف ادب اور زبانوں کے ادیبوں کو یہاں جمع کر کے اچھا اقدام کیا۔ سندھ کے لوگ سب کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کرتے ہیں۔ آج کی کانفرنس سے یہی پیغام دیا گیا ہے کہ اردو کے ساتھ پاکستان کی مختلف زبانیں پورے ملک کی ثقافت ہے۔ آرٹس کونسل جو خدمات انجام دے رہی ہے اس کی ہر ممکن مدد اور تعاون کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں
وزیر ثقافت سندھ سردار علی شاہ نے کہا کہ ہم نے دانشوروں سے لکھنا پڑھنا اور چلنا سیکھا۔ آج کی اردو کانفرنس کلچرل ہارمنی قائم کرنے کی طرف اہم قدم ہے۔ جتنے لکھنے والے کانفرنس میں شریک ہیں ان سب کی پاکستان کو ضرورت ہے۔ پنجابی، سندھی، پشتو اور بلوچی شعراء نے پاکستان کی خدمت کی ہے۔ ان سب نے امن اور برداشت کا درس دیا۔ ہم نے ہر لہجے میں اردو دیکھی ہے۔ جس طرح سندھ ندی نے اپنے دونوں کناروں پر کشمیر سے کشمور تک لوگوں کو جوڑا ہوا ہے اسی طرح اردو نے پورے برصغیر کو جوڑا ہوا ہے۔ ہمیں کسی بھی زبان سے نفرت نہیں بلکہ سب سے پیار ہے۔ پنجاب، سندھ، کے پی کے اور بلوچستان کے شاعروں نے انسانیت کی خدمت اور محبت کے فروغ کا درس دیا ہے۔ آج اس کو فروغ دینے کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔
آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ نے کہا کہ یہ کانفرنس ایسی کہکشاں ہے جس میں ادب کے چمکتے ستارے شامل ہیں۔ اردو کی ذمہ داری ہے کہ ہزاروں سال پرانی زبانوں کے لیے اپنا سینہ کشادہ کرے اسی لیے ہم نے اس مرتبہ ملک کی دوسری زبانوں کو بھی شامل کیا اور یہ اردو کانفرنس قومی ثقافتی کانفرنس میں تبدیل ہو گئی ہے۔ ہمیں ساری زبانوں کو سراہنا چاہیے، ہمارے شہر میں ہزاروں لوگ قتل ہوئے ہم کب تک آپس میں لڑتے رہیں گے۔ پُرامن معاشرے کے علاوہ ترقی کا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ پنجاب نے اردو کو بہت سپورٹ کیا، سندھ میں بڑے بڑے سندھی شاعروں نے اردو میں شاعری کی۔
بھارت کے نامورادیب پروفیسر شمیم حنفی اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں، ساتھ پروفیسر ہیروجی کتاوکا ، ڈاکٹر نعمان الحق اور دیگر بھی موجودہ ہیں
عالمی اردو کانفرنس میں غالب کی ڈیڑھ سو سالہ برسی کی مناسبت سے خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔ جس کا عنوان”غالب ہمہ رنگ شاعر“ تھا۔ اجلاس کی صدارت بھارت سے آئے ہوئے نامور ادیب شمیم حنفی نے کی جبکہ اجلاس میں ڈاکٹر نعمان الحق نے”یگانہ اور مثال زمانہ گونہ گوں“، تحسین فراقی نے ”حیات اور تصورِحیات“ اور ہیروجی کتاوکا نے اپنا مقالہ پیش کیا، نظامت کے فرائض ناصرہ زبیری نے انجام دئیے۔ اس موقع پر شرکا نے مقالہ پیش کرنے والوں کی زبردست پذیرائی کی۔
اپنے صدارتی خطبہ میں شمیم حنفی نے کہا کہ غالب ایسے شاعر ہیں جنہیں عالمی سطح پر قبول کیا گیا، ہم مشرق مغرب کو دیکھتے ہوئے بہت سی باتوں کو درگزر کر دیتے ہیں، ہندستان میں ان کے پائے کا کوئی شاعر نہیں ہے۔ غالب میری زندگی کا بہت بڑا سہارا تھے۔ شمیم حنفی نے کہا کہ غالب کی شاعری میں مذہب اور عقیدہ یا کوئی اور دیوار بن کر کھڑی نہیں ہو سکی۔ غالب ایسے شاعر تھے جنہوں نے بہت دکھ اٹھائے۔ ڈاکٹر نعمان الحق نے غالب پر اپنا مقالہ ”یگانہ اور مثال زمانہ گوناگوں“ پیش کیا اور کہا کہ غالب ایک عظیم شاعر ہیں جو ہمارے ہاں اور کوئی بھی نہیں ہے۔ غالب کا محبوب جو ایک استعارہ ہے اس لئے وہ اس کو کبھی دیکھ نہیں پائے۔ غالب نے آسمان اور زمین کی جو بات کی ہے وہ بھی بہت کمال ہے۔ انہوں نے کہا کہ غالب کے ہاں کائنات کی تخلیق دیگر ہے جس میں رشتہ ہے اور دیگر زندگی کے معاملات ہیں۔
ڈاکٹر تحسین فراقی نے اپنا مقالہ ”حیات اور تصورِحیات پیش کیا“ اور کہا کہ اگر غالب نہ ہوتے تو ہم انیسویں صدی میں دستاویز سے محروم ہوتے۔ غالب ایک ایسے شاعر ہیں جو زندگی کے تصورات پیش کرتے ہیں۔ غالب کے ہاں انسان کے ساتھ تعلق اٹوٹ ہے۔ غالب کی شاعری میں زمانے کی مشکلوں کا سامنا کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ اس میں سینکڑوں قباحتیں ہیں۔ ہیرو جی کتاؤ کا نے کہا کہ ہمیں پتہ نہیں چل سکا کہ غالب اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں کس طرح سوچتا ہے۔ دیوان غالب کی غزلوں اور نظموں کو دیکھ کر نتیجہ نکالا ہے اور اسے تاریخی طور پر مرتب کرنے کی کوشش کی تھی۔ غالب نے تیس سال کی عمر سے پہلے بہت کچھ لکھا، تیس سال تک دو ہزار سات سو چھیالیس اشعار لکھے اور تیس سال کے بعد انہوں نے پہلے کے مقابلے میں کم لکھا۔ بعد ازاں نامور صداکار ضیا محی الدین نے دیوان غالب سے مرزا اسدا اللہ خان غالب کی غزلیں پڑھیں جبکہ نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ (ناپا) کے میوزک ہیڈاور معروف ستار نواز استاد نفیس خان نے اپنے شاگردوں کے ہمراہ غالب کی شاعر ی کوستار کی خوبصورت دھنوں کے ساتھ پیش کیا۔ اس موقع پر ضیا محی الدین کو سننے کے لئے شرکاء کی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے انہیں خوب سراہا۔
ضیا محی الدین کلام غالب پیش کرتے ہوئے
اسی روز جشن فہمیدہ ریاض کا انعقاد کیا گیا، جس میں معروف ترقی پسند ادیبہ شاعرہ سماجی کارکن اور حقوقِ نسواں کی علمبردار فہمیدہ ریاض کو خراجِ تحسین پیش کیا جبکہ تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر آصف فرخی نے انجام دیئے۔ ڈاکٹر فاطمہ حسن، یاسمین حمید، مجاہد بریلوی، نور الہدیٰ شاہ نے اظہار خیال کیا۔
دوسرے دن پہلے اجلاس میں ”شعروسخن کا عصری تناظر“ کے موضوع پر اہل علم و دانش نے مختلف عنوانات پر اپنے اپنے مقالے پیش کیے، اجلاس کی صدارت معروف ادباء و شعراء امجد اسلام امجد، افتخار عارف، کشور ناہید، امداد حسینی، عذرا عباس، منظر ایوبی اور افضال احمد سید نے کی جبکہ نظامت کے فرائض شکیل خان نے انجام دیئے۔ یاسمین حمید نے ”جدید نظم میں طرزِ احساس کی تبدیلیاں“ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جدیدیت کا لفظ نظم اور غزل کے لیے بارہا استعمال ہوا ہے اور یہ وہ وقت تھا جب 1939ء کے جدیدیت پسند حلقے نے اسے استعمال کیا۔ انہوں نے کہاکہ عمومی سطح پر جدیدیت پسندی تخلیق پر حاوی ہوتی گئی، اُردو میں آزاد نظم کی پہلی اشاعت 1932ء میں ہوئی، نظم کے اظہار میں پھیلاؤ ہے۔ نظمیں عموماً ایک جگہ پر جامد اور ساکت رہتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ترقی پسند کا راستہ بھی اجتماعی فکرو عمل کا راستہ تھا، طرزِ احساس ایک ردِ عمل ہے، انسان کی زندگی اور خود انسان جتنا سادہ ہو گا یہ ردِعمل بھی اُتنا ہی سادہ ہو گا۔
تیسرے روز ”اْردو فکشن: معاصر منظر نامہ“ کے موضوع پر منعقد سیشن کی مجلس صدارت اسد محمد خاں، حسن منظر اور مسعود اشعر نے کی۔ اس موقع پر برطانیہ سے آئی ہوئی نجمہ عثمان نے”اْردو فکشن انگریزی فکشن کے تناظر میں“ کے عنوان پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ عرفان جاوید نے ”فکشن کیوں پڑھا جائے“کے عنوان پر اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ روسی دانشور انتون چیخوف سے کسی نے پوچھا کہ تم کہانی کیوں لکھتے ہو ناول کیوں نہیں لکھتے تو اس نے جواب دیاکہ میں اپنی چھوٹی سی زندگی میں وہ سب کہانیاں سنا دینا چاہتا ہوں جو میں سنانا چاہتا ہوں۔ چیخوف 44 سال کی عمر میں ہی انتقال کر گیا تھا۔ اسلام آباد سے آئے ہوئے اختر رضا سلیمی نے ”اْردو میں ناول کی کمی: ایک بحث“ پر اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہم یہ کوشش کر رہے ہیں کہ شائع ہونے والے ناولوں کی فہرست مرتب کریں۔ 1869ء سے آج تک انگریزی کے ناول کی عمر 150سال ہو چکی ہے جبکہ اْردو ناول کی عمر اس سے آدھی ہے۔ انگریزی ہر جگہ بولی جاتی ہے، اْردو دْنیا کی 5 بڑی زبانوں میں سے ایک ہے مگر ہم اس کو اپنے ہی ملک میں قومی زبان نہیں بنا سکے۔ اْردو اپنے ہی ملک میں دربدر ہے۔
بارہویں عالمی اُردو کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آرٹس کونسل احمد شاہ کا کہنا تھا کہ صدر آرٹس کونسل احمد شاہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ 12برس سے عالمی اُردو کانفرنس کے انعقاد کا سلسلہ کامیابی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ 12برس میں جتنے ادیب، شاعر اور ادبی شخصیات کانفرنس کا حصہ تھے جو اب ہم میں نہیں رہے، ان سب کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ان تمام شخصیات کی کمی عالمی اُردو کانفرنس میں ہمیشہ محسوس ہوتی رہے گی۔ محمد احمد شاہ کا مزید کہنا تھا کہ صرف پاکستان بھر سے نہیں بلکہ پوری دُنیا سے جتنے ادیب، شاعر اور مصنف عالمی اُردو کانفرنس میں شریک ہوئے ہیں ان سب کو کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

Leave a Reply

Back to top button