تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

بالچھڑ: نیند، سکون اور ذہنی امراض کیلئے موثر پودا

بالچھڑ میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا میں بورنائل ایسی ٹیٹ، آئسو یورنائل، ویلیریانیٹ، بورنیول، پاچولی الکوحل، ٹرپی ٹائل، ٹرپی نیول، یوجینول اور دیگر مرکبات کے علاوہ اینٹی سیپٹک، اینٹی بیکٹریل خصوصیات شامل ہیں۔

بالچھڑ یا سنبل ہندی ( Spikenard) ایک بہت نازک اور خوشبودار پودا ہے۔ اس کی جڑیں گٹھیلی اور نوکدار ہوتی ہیں۔ قدیم یونان میں بقراط نے اسے نیند لانے والی دوا قرار دیا ہے۔ قرون وسطی کے سوئیڈن میں دلہا کے لباس پر اس کی خوشبو لگائی جاتی تھی تا کہ وہ بھوت چڑیل کی نظر سے محفوظ رہ سکے۔

جنس سنبل ان ابتدائی اور قدیم خوشبودار اشیاء میں شمار ہوتا ہے، جس کو قدیم مصری استعمال کیا کرتے تھے۔ اس کا ذکر بائبل میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے نغمات میں بھی ہے۔ یہ وہی ہرب ہے جس کو مریم بی بی نے آخری عشائیہ سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بتپسمہ کرنے کیلئے استعمال کیا تھا۔

سنبل کے تیل کو رومن عطارانتہائی مہنگے اور خوشبودار تیل کی تیاری کیلئے استعمال کرتے تھے۔نورجہاں ملکہ ہندوستان بھی اپنے حسن افزا مرکبات میں اس تیل کو شامل کیا کرتی تھیں۔

اس کا پودا پانچ انچ سے دو ڈھائی فٹ تک بلند ہوتا ہے۔جس پر کھردرے روئیں ہوتے ہیں۔اس کے پتے چھوٹے چھ یا سات انچ لمبے، ڈیڑھ انچ چوڑے لیکن سروں پر نوکدار اور چکنے ہوتے ہیں۔اس کے پھول گلابی یا نیلے رنگ کے لیکن گچھوں میں ہوتے ہیں۔اس کی جڑانگلی کے برابر موٹی، سرخی مائل بھوری، جس پر روئیں ہوتے ہیں۔لیکن خوشبو دار ہوتی ہیں۔ یہی جڑدواؤں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔

اس پودے کا تعلق شمالی ہندوستان کے پہاڑی علاقے سے ہے۔ علاوہ ازیں کشمیر، برما، سری لنکا، یورپ، چین اور جاپان میں بھی پایا جاتا ہے۔ اس کا نباتی تیل زیادہ تر یورپ اور امریکہ میں کشید کیا جاتا ہے۔

بالچھڑ میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
بالچھڑ میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا میں بورنائل ایسی ٹیٹ، آئسو یورنائل، ویلیریانیٹ، بورنیول، پاچولی الکوحل، ٹرپی ٹائل، ٹرپی نیول، یوجینول اور دیگر مرکبات کے علاوہ اینٹی سیپٹک، اینٹی بیکٹریل خصوصیات شامل ہیں۔

بالچھڑ کے طبی فوائد:

پیٹ کے کیڑے:
قدیم زمانہ سے بالچھڑ پیٹ کے کیڑوں کو مارنے کیلئے استعمال ہوتی آ رہی ہے۔ بعض اطباء اس مقصد کیلئے اس کو منہ میں چبانے اور پان وغیرہ میں ڈال کر کھانے کا کہتے ہیں۔

مسکن دماغ:
مسکن ومقوی دماغ ہونے کی وجہ سے ہسٹریا، مرگی، عورتوں کے ایام حیض،احتلاج القلب،دردسر میں آرام ملتا ہے۔درد شقیقہ میں نہایت مفید ہے۔

خون کی روانی:
بالچھر جسم کی بال سے باریک نسوں جنہیں انگریزی مین کیپلریز کہا جاتا ہے، کو کھولتی ہے، جس سے خون کی روانی جاری رہتی ہے۔ ان ہی خاصیتوں کی وجہ سے یہ دماغی امراض بیخوابی، بلڈ پریشر، ڈپریشن،،تشنج، مرگی، رعشہ، مینو پازوغیرہ میں اکیلی یا پھر دوسری ادویات کے ساتھ ملا کر دی جاتی ہے۔

جلد کی حفاظت:
اس کے سفوف سے بنایا گیا مرہم یا کریم چہرے اور بدن کے داغ دھبے دور کرکے چہرے کو بارونق بناتاہے۔اسے ابٹن میں بھی شامل کیا جاتا ہے۔ یہ پسینہ وبغل کی بدبو کو دور کرتی ہے۔

ذہنی سکون:
بالچھڑ میں راحت اور تسکین کا سامان کرنے کی بڑی صلاحیت ہوتی ہے۔ چنانچہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران گولیوں اور بم کے دھماکوں سے بدحواس اور اعصابی خلل کے شکار فوجیوں کو اس کا ٹنکچر پلانے سے وہ ٹھیک اور پرسکون ہوجاتے تھے۔

بے خوابی کا علاج:
بالچھڑ اچھی نیند کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ یہ کیپسولز کی شکل میں کسی بھی ہربل شاپ پہ باآسانی دستیاب ہے۔ نیند کی گولیوں کے بجائے اس کے استعمال سے اٹھنے کے بعد سستی نہیں بلکہ تر وتازگی محسوس ہوتی ہے۔
اس کا جوشاندہ بنانے کے لئے یا قہوہ بنانے کے لئے پنساری سے اس کی صاف ستھری جڑ خرید کر قہوہ بنا سکتے ہیں۔ یا اس کا پاوڈر بنا کر کیپسولز بھرے جا سکتے ہیں۔جن لوگوں کو رات نیند نہ آتی ہو، بے چینی و بے سکونی رہتی ہو، اضطرابی کیفیت میں مبتلا ہوں، ان کے لئے انتہاء مفید ہے۔ جرمن حکومت نیند سے متعلقہ امراض میں اس کے استعمال کی حمایت کرتی ہے۔

بالچھڑ کے دیگر استعمال:
بالچھڑکا تیل ادویہ سازی اور کاسمیٹکس میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ مہنگے پرفیومز میں بطور خوشبودار جز کے شامل کیا جاتا ہے۔ اروما تھراپی میں اس کا تیل استعمال کیا جاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button