تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

بانس: چیچک کے داغ مٹانے کا قدرتی حل

کیمیاوی تجزیہ سے پتہ چلا ہے کہ بانس سے نکلنے والی طباشیر میں سلیکا، پرآکسائڈ، آئرن، پوٹاش، چونا، المونیم اور بعض نباتی مواد پائے جاتے ہیں۔

بانس ایک پودے کا نام ہے۔ جس کے تنے کو بھی بانس کہتے ہیں اور تقریباً ہر شخص اس سے واقف ہے۔ بانس نہ صرف تعمیرات اور دیگر انڈسٹری میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے بلکہ فرنیچر سازی کا بھی بنیادی جزو ہے۔اس کے علاوہ ادویہ سازی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور قدیم دور سے ہی اس کی جڑیں اور دیگر اجزامختلف امراض کے علاج کیلئے استعمال ہوتے آ رہے ہیں۔

دنیا بھر میں بانس کی تقریباً 92 انواع اور 5000 اقسام ہیں۔ تاہم بنیادی طور بانس دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک قسم کھوکھلے اور دوسرے ٹھوس تنے والے۔ کھوکھلے تنوں والے بانس اکثر پائے جاتے ہیں جبکہ ٹھوس تنے والے کمیاب ہوتے ہیں۔ چینیوں نے دو ہزار سال قبل کاغذی صنعت میں بانس کو استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔

بانس کی یوروپ اور انٹارکٹیکا کے علاوہ تمام براعظموں میں پیداوار ہوتی ہے۔بانس دنیا کے تیز ترین اُگنے والے پودوں میں سے ایک ہے۔

بانس جنگلوں اور پہاڑوں میں بکثرت پیدا ہوتے ہیں۔ پتے تین چار انگل لمبے اور ایک انگل چوڑے ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی بانس میں پھل بھی آیاکرتے ہیں۔ پہلے چھوٹے چھوٹے سفید پھول لگتے ہیں، ان سے چاول نکلتے ہیں جنہیں بانس کے جَو کہتے ہیں۔ غریب لوگ انہیں کھانے کے کام میں لاتے ہیں۔ کھوکھلے بانسوں کو پھوڑنے سے درمیان میں سے بنسلوچن(طباشیر) نکلتی ہے۔ یہی بنسلوچن ہی اصلی طباشیر ہے۔

تازہ بانس کا رنگ سبز، اور خشک کا سرخی سفیدی مائل بھورا ہوتا ہے۔ ذائقہ پھیکا اور قدرے کڑواہٹ لئے ہوتا ہے۔اردو میں بولے جانے والے لفظ بانس کو ہندی میں بھی بانس کہا جاتا ہے،بنگالی میں وانس، سنسکرت میں ونش،مرہٹی میں ویلو، گجراتی میں وانس، فارسی میں نے، عربی میں قصب اور انگریزی بمبو کین(Bamboo Cane) کہتے ہیں۔

بانس زیادہ تر پانی کے کنارے آب دار زمین میں یعنی نمناک جگہ پر پیدا ہوتا ہے۔یہ سخت اور سیدھا ہوتا ہے۔ جو ٹیڑھا ہو اس کو بعد میں سیدھا کیا جاتا ہے۔

بانس میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
کیمیاوی تجزیہ سے پتہ چلا ہے کہ بانس سے نکلنے والی طباشیر میں سلیکا، پرآکسائڈ، آئرن، پوٹاش، چونا، المونیم اور بعض نباتی مواد پائے جاتے ہیں۔

طبا شیر کیا ہے؟
طبا شیر عربی زبان کا لفظ ہے، جسے فارسی میں تبا شیر، ہندی میں بنسلوچن اور انگریزی میں Silicious Concretion کہتے ہیں۔
تباشیر ایک قسم کے بانس کا اندرونی جما ہوا رس ہے جسے نزلہ بانس یا مادہ بانس بھی کہتے ہیں جو نل سے موٹا اور بانس سے پتلا مگر لمبا ہوتا ہے۔ یہ اس کی ہر گانٹھ میں ہوتا ہے۔ جب وہ پک جاتا ہے تب یہ ناریل کے دودھ کا سا رس جم جاتا ہے۔ پھر اس بانس کو کاٹ کاٹ کر سکھا لیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی وہ رس بھی سوکھ جاتا ہے۔ جب اس بانس کو پھاڑا جاتا ہے تو اس کی ہر ایک گانٹھ میں سے وہ سوکھا ہوا سفید رس نکلتا ہے۔ اور یہی تباشیر ہے۔

بانس کی وہ قسم جس میں سے تباشیر برآمد ہو تی ہے۔ یہ اقسام وسطی ہندوستان اور بنگال و برما میں زیادہ تر پائی جاتی ہے۔یونانی و آیورویدک ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک سفید چیز ہے جو ابتدا رقیق رطوبت کی شکل میں بانس کے جوف میں جمع ہوتی اور اس کے بعد منجمد و خشک ہو جاتی ہے جب بانس کو پھاڑتے ہیں تو اس سے باہر نکلتی ہے بہترین طباشیر وہ ہے جو وزن میں سبک اور رنگت میں سفید شفاف مائل بکبودی صدف کے مشابہ ہو اس کو طباشیر صفی یا طباشیر کبود بھی کہتے ہیں۔

ماہرین اور اطبا نے تباشیر کبودی کو افضل بتایا ہے۔کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ تادیر پڑی رہے تو اس کی کبودیت خود بخود دور ہو کر اس میں سفیدی آجاتی ہے۔ جبکہ تباشیر سفید ہو کر بھربھری ہونے لگے تب وہ اور بھی ناقص ہو جاتی ہے۔

طبی فوائد:

منہ میں چھالے پڑنا:
منہ میں اور زبان پر چھالے پڑ جانے کی صورت میں تباشیر اور الائچی خورد کا سفوف چھڑکنا نہایت مفید ثابت ہوا ہے۔ خصوصاً بچوں کی حالت میں تو بہت ہی نافع ہے، تباشیر کا سفوف شہد ملا کر لگانے سے منہ پک جانے کی شکایت دور ہو جاتی ہے۔

دانت مضبوط بنائے:
تباشیر کے منجن سے دانت صاف اور مضبوط ہو جاتے ہیں، جبکہ مسوڑوں کے متعدد مسائل بھی دور ہو جاتے ہیں۔

مٹی کھانے کی عادت:
طبا شیر یا تبا شیر مٹی کھانے کے عادی بچوں سے مٹی کھانے کی عادت چھڑا دیتی ہے اور ان خرابیوں سے بھی محفوظ رکھتی ہے جو مٹی کھانے سے پیدا ہوسکتے ہیں۔

کھانسی کا علاج:
بخار کی صورت میں لگنے والی پیاس مٹانے کے لیے طبا شیر کو شہد ملا کر چٹانا چاہیے،اس سے پیاس کی شدت ختم ہو جاتی ہے جبکہ سوا ماشہ سے اڑھائی ماشے تک طباشیر کھلاتے رہنے سے سوکھی کھانسی دور ہو جاتی ہے۔

بانس کے دیگر طبی فوائد
بانس کی کونپلیں یا جڑ کا جوشاندہ بندایام کو کھول دیتا ہے۔یعنی شاندہ قلت حیض و نفاس میں فائدہ مند ہے۔ ایسی چھپاکی جو رات کے وقت اٹھتی ہو، اس صورت میں بانس کی کونپلوں یا جڑ کے شاندے کو پلانے سے اور متاثرہ شخص کو نہلانے سے چند دن میں آرام آجاتا ہے۔

چیچک کے داغ مٹائے:
بانس کی جڑ کسی قدرمخرش ہے اس لئے اس کی جڑ کا سفوف چیچک کے داغوں کو دور کرنے کے لئے بہترین چیز ہے۔داد پر لگانے سے آرام آتا ہے۔ بانس کی جڑ سے بنائی گئی کریم چہرے کی رنگت کو نکھارنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button