تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

ببول: غریب کا حکیم درخت، دے طاقت اور صحت

ببول کی چھال دانتوں سے خون آنے کے مرض کا بھی علاج ہے۔ کیکر کی چھال 20گرام، پانی ایک پاؤ، چھ گھنٹے پانی میں بھگو رکھیں، پھر آگ پر جوش دے کر پانی چھان لیں، اور دو گرام پھٹکری سفید ملا کر کلیاں کریں، دن میں دو بار کافی ہے، مسوڑھوں سے پیپ آنا (پائیوریا) و دانتوں کا ہلنا سب عوارضات دو ر ہوجاتے ہیں۔

ببول یعنی کیکر برصغیر کا ایک مشہور درخت ہے۔یہ 5 سے 20 میٹر لمبا ہوتا ہے۔ببول برصغیر کے علاوہ افریقہ، اور مشرق وسطیٰ میں بھی ہوتا ہے۔ اس کی کئی اقسام ہیں۔ جس میں کانٹے کم اور شاخیں زیادہ ہوتی ہیں اس کا تنا سیاہ موٹا اور بڑا ہوتا ہے۔ دوسری قسم بھوری ہوتی ہے جس میں کانٹے زیادہ ہوتے ہیں۔اس کے پتے املی کے پتوں کی طرح سینک پر لگتے ہیں اس کے پھول پیلے رنگ کے گول ہوتے ہیں پھول عموماً ساون میں لگتے ہیں، پھاگن میں کیکر پر پھلیاں آنے لگتی ہیں ہر پھلی چار پانچ انچ لمبی، چپٹی اور خانہ دار ہوتی ہے، اس کے ہر ایک خانہ میں ایک بیج ہوتا ہے، ہر پھول میں 9 سے لے کر12 دانے ہوتے ہیں، ان دانوں کے درمیان اور ارد گرد ایک سفید پردہ ہوتا ہے، ہر دانہ چپٹا، چھوٹا اور کچھ چوڑا ہوتا ہے، پھلی کے اندر زرد رنگ کی لیسدار رطوبت ہوتی ہے۔

ببول کے پتے، پھول، پھلیاں، چھال، لکڑی سبھی دواءً استعمال کئے جاتے ہیں، بعض نسخوں میں ایک وقت میں یہ پانچوں اجزاء شامل ہوتے ہیں۔یہ صدیوں سے مختلف امراض کے علاج کیلئے استعمال ہو رہے ہیں۔ چونکہ یہ دور دراز علاقوں میں بسنے والے افراد کی پہنچ میں ہے، چنانچہ اسے غریب کا حکیم درخت بھی کہتے ہیں۔

ببول کواردو میں کیکر یاببول،پنجابی میں ککر، بنگالی میں بابلہ،ببول،عربی میں ام مغیلاں، فارسی میں مغیلاں انگریزی میں Acacia اور Babool Tree کہتے ہیں۔

ببول کے طبی فوائد:
ببول کے پتے، چھال، پھلی اور گوند سبھی میں طبی افادیت پائی جاتی ہے۔ پتے اور چھال رطوبتوں کو خشک کرنے اور رستے ہوئے خون کو روکنے میں مفید ہیں۔ پھلی سانس کی نالیوں سے بلغمی مواد اور ریشہ خارج کرنے میں معاون ہے۔ گوند جلد کی حدت اور سوزش دور کرنے میں سود مند ہے۔ ببول کی گوند کا لعاب دیگر ادویات کے ساتھ ملا کر سینے کے امراض، نزلہ، اسہال اور پیچش کے علاوہ سوزاک کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس گوند کا گاڑھا لعاب تیز اور خارش پیدا کرنے والے زہروں کے لیے اعلیٰ تریاق ہے۔

منہ کے چھالے:
ببول کی چھال کا ماؤتھ واش منہ کے چھالوں میں بہت مفیدہے۔ اس کے استعمال سے جلد افاقہ ہو جاتا ہے۔ کیکر کی 20گرام چھا ل کو ایک پاؤ گرم پانی میں بھگوکر جوش دیں، چھان کر کلیاں کرائیں، منہ کے چھالے ٹھیک ہوجاتے ہیں۔

زہریلے زخم:
زہریلے زخموں کے علاج کیلئے ببول کی چھال اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔ کیکر کی چھال سکھا کر باریک سفوف کرلیں، گندے زہریلے زخموں پر چھڑکنے سے زخم بھر جاتے ہیں۔

دانتوں کا پائیوریا:
ببول کی چھال دانتوں سے خون آنے کے مرض کا بھی علاج ہے۔ کیکر کی چھال 20گرام، پانی ایک پاؤ، چھ گھنٹے پانی میں بھگو رکھیں، پھر آگ پر جوش دے کر پانی چھان لیں، اور دو گرام پھٹکری سفید ملا کر کلیاں کریں، دن میں دو بار کافی ہے، مسوڑھوں سے پیپ آنا (پائیوریا) و دانتوں کا ہلنا سب عوارضات دو ر ہوجاتے ہیں۔

دل کی دھڑکن:
اگر ببول کے پھولوں کی ڈوڈیاں چھ گرام سے 10گرام پانی میں گھوٹ کر مصری ملا کر پینے سے خفقان دل اور دل کی دھڑکن کی شکایت دور ہوجاتی ہے۔

ہچکی لگنا:
ببول کے کانٹے 10گرام پانی 25 گرام میں جوش دیں، چھان کر شہد ملا کر پلانے سے ہچکی رک جاتی ہے۔

دست وپیچش:
ببول کاگوند کا سفوف چھ گرام، لعاب بار تنگ سات گرام استعمال کرنے سے ہر قسم کے دست و پیچش کو فوراً آرام آجاتاہے۔

یرقان:
کیکر کی پھلیاں 9گرام، پانی ساڑھے تین گرام، رات کو بھگو رکھیں، صبح اس کا نتھار قدرے مصری ملا کر پلائیں۔ اس سے یرقان کی شکایت دور ہوجاتی ہے۔

پیشاب کی نالی کی سوجن:
کیکر کے پتے 5گرام، پانی 50 گرام میں بھگو کر اس کا نتھار پی لیں، پیشاب کی نالی کی سوجن اورسوزش بول میں مفید ہے۔

جریان کا مرض:
کیکر کی کچی پھلیاں خشک کر کے سفوف کرلیں، اور برابر چینی ملالیں، خوراک 5گرام سے 10گرام ہمراہ دودھ دیں، انشاء اللہ جلد فائدہ ہوگا۔

سیلان کا علاج:
کیکر کی پھلیاں 10 گرام کو ایک پاؤ پانی میں بھگو دیں پھر ابال کر چھان لیں، اور دو گرام پھٹکڑی سفید ملا کر اعضائے مخصوصہ زنانہ کو دھوئیں، سیلان کے لئے مفید ہے، بازاری دواؤں سے بڑھ کر فائدہ مند ہے۔

کان درد:
کیکر کے پھول 20 گرام، تیل سرسوں 100گرام تیل کو گرم کرلیں، گرم ہونے پر اس میں کیکر کے پھول ڈال دیں، جب پھول جل جائیں تو اتار کر چھان لیں، یہ تیل ایک دو بوند نیم گرم کا ن میں ڈالنے سے کان کا درد اور پیپ آنی بند ہوجاتی ہے۔

کھانسی کا علاج:
معمولی کھانسی اور حلق میں خراش کے لیے منہ میں ببول کی گوند رکھ کر اس کا لعاب چوسنے سے تھوڑی دیر بعد تکلیف رفع ہو جاتی ہے۔

دانتوں کی مسواک:
ببول کی ملائم شاخوں سے دانتوں کی صفائی کے لئے مسواک کرتے ہیں۔جس سے دانتوں کے متعدد امراض ختم ہو جاتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button