Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it   Click to listen highlighted text! Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it
Uncategorized

بربادی کا نام تبدیلی ہوگیا ، انتقام کا نام احتساب ہوگیا اور دھاندلی کا نام ای وی ایم مشین ہوگیا ۔ شہباز شریف

اپوزیشن رہنما شہبازشریف نے کہا ہے حکومت کا اپوزیشن سے مشاورت کا کبھی کوئی ارادہ نظر نہیں آیا ۔پاکستان میں اس وقت جو حالات ہیں وہ پاکستان کی چوہتر سالہ تاریخ کا سیاہ ترین دور ہے اس سے زیادہ برے حالات کبھی نہیں دیکھے گئے ۔ ان کی حکومت آنے کے بعدتین کام ہوئے ہیں ۔بربادی کا نام تبدیلی ہوگیا ، انتقام کا نام احتساب ہوگیا اور دھاندلی کا نام ای وی ایم مشین ہوگیا ۔
مشترکہ پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حزب اختلاف کے قائد شہباز شریف نے کہا کہ آج پاکستان کی تاریخ کا اہم دن ہے ۔ اراکین پارلیمنٹ حکومت کی جلدبازی کے دباؤ میں نہیں آئے حکومت جو فائدہ اٹھانا چاہتی ہے ان کو کوئی فائدہ نہیں ملے گا ۔
شہبازشریف نے کہا کہ حکومت کی طرف سےپیش کئے بلز کو بلڈوز کردیں گے ، مشین کے ذریعے سلیکٹیڈ گورنمنٹ کو مزید طول نہیں دینے دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت اب ووٹ کے لئے عوام کے پاس نہیں جاسکتی اسی لئے انہوں نے ای وی ایم مشین کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔اپوزیشن متحد ہوکر سیسہ پلائی دیوار بن جائے گی لیکن یکطرفہ قانون سازی نہیں ہونے دیں گے ۔
اجلاس کے دوران جب سپیکر نے کہا کہ میں کوئی کام قانون سے باہر ہوکر نہیں کروں گا تو اس موقع پر شہبازشریف نے سپیکر سے کہا کہ آپ اپنی پارٹی کی ممبر شپ سے استعفیٰ دے دیں ہم آپ کو کندھوں پر اٹھائیں گے ۔
شہبازشریف نے کہا کہ آج مہنگائی ہےاشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں ۔شہباز شریف نے سپیکر سے کہا کہ آج آپ کا کڑا امتحان ہے اگر یہ بل منظور ہوگئے تو پھر پاکستان کے عوام آپ کو کبھی معاف نہیں کریں گے ۔
شہباز شریف نے کہا کہ الیکشن کمشن آف پاکستان کے اعتراض کے باوجود حکومت کالے قوانین کو منظور کرانا چاہتی ہے ۔حکومت چاہتی ہے کہ عوام کے پاس نہ جانا پڑے اور ای وی ایم ان کی مشکلات دور کردے ۔حکومت چاہتی ہے کہ کچھ ایسا ہوجائے کہ ان کو این آر او مل جائے ۔ یہ کیسی جمہوریت اور انتخاب ہوگا کہ جہاں قانون کی دھجیاں اڑئی جائیں اور یہ کہیں کہ ہم جمہوریت پسند ہیں ۔ پاکستان کی تاریخ میں اس طرح کی فسطائی حکومت کبھی نہیں آئی ۔
شہبازشریف نے کہا کہ یہ کیسی حکومت ہے کہ ملک کا وزیرخزانہ کہتا ہے کہ مجھے ڈالر کی قیمت کا پتہ نہیں مجھے تو ٹی وی سے پتہ چلا کہ ڈالر مہنگا ہوگیا ہے ۔
یہ کیسی حکومت ہے کہ جہاں پر چیزیں اتنی مہنگی ہوچکی ہیں اور یہ ریاست مدینہ کا نام لیتے ہیں کہاں ریاست مدینہ اور کہاں یہ فسطائی حکومت ۔ان کا ریاست مدینہ کہنا ان کو سوٹ نہیں کرتا۔ پارلیمنٹ کے اس اجلاس کو موخر کیا جائے اور مکمل مشاورت کریں ۔
انہوں نے کہا کہ حکومت الٹی ہوجائے یا سیدھی پاکستان کے عوام اور یہ قوم ان کالے قوانین کو نہیں مانیں گے ۔ اگر کالے قوانین منظور ہوئے تو پاکستان کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے جس کی ذمہ دار سپیکر صاحب آپ ہوں گے ۔
شہبازشریف نے کہا کہ حکومتی وزرا ء پتہ نہیں کیا کیا باتیں کرتے ہیں لیکن ہم نے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا ہے ہم نے ان کی گالی گلوچ کا کبھی جواب نہیں دیا ۔
اب تک 9 ملک ای وی ایم مشین کے سسٹم کو رد کرچکے ہیں ان میں جرمنی بھی شامل ہے حالانکہ ان کی ٹیکنالوجی ہم سے کہیں زیادہ ہے ۔ان کا کہنا تھا حکومت کو مہنگائی غربت بیروزگاری بیماری سے کوئی غرض نہیں ہے ان کو صرف اس بات سے غرض ہے کہ کس طریقے سے عوام کے پاس جائے بغیر ہم حکومت میں آجائیں ۔
شہبازشریف نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ہمارے سر کا تاج ہیں ان کا جتنا بھی شکریہ ادا کریں کم ہیں ۔ ہم ان کے ووٹ کے حق کا احترام کرتے ہیں مگر ہم ان کے ووٹ کے حق کے طریقہ کار پر بات کرتے ہیں ۔ حکومت اوورسیز پاکستانیوں کے نام پر اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتی ہے ۔
اس حکومت نے ملک کے اندر رہنے والوں سے دن رات غلط بیانی کی اسی طرح یہ بیرون ملک بسنے والے پاکستانیوں سے دروغ گوئی کریں گے ۔ یہ باہر مقیم پاکستانیوں کو سبز باغ دکھا رہے ہیں جیسے ڈیم فنڈ کا سبز باغ دکھایا گیا تھا ۔
انہوں نے کہا کہ کڑوا سچ یہ ہے کہ الیکٹرک ریفارم کی بات نہیں ہے ہم الیکشن کو چوری ہونے سے بچانا چاہتے ہیں ۔ ابھی ڈسکہ میں ہونے والے الیکشن کی رپورٹ سامنے آگئی ہے جس میں بیگ چوری ہوئے ، ووٹ چوری کئے گئے ، اور یہ الیکشن ریفارمز کی بات کرتے ہیں ۔

Leave a Reply

Back to top button
Click to listen highlighted text!