تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

بسنتی گلاب: آپ کی صحت و تندرستی اور محبت کا انمول خزانہ

عرق گلاب کا استعمال صدیوں سے چلتا آیا ہے اور آج بھی کئی کاسمیٹک مصنوعات میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔چونکہ اس میں اینٹی سیپٹک (انفیکشن سے بچانے والا)، اینٹی بیکٹیریئل (بیکٹیریا سے بچانے والا) اور اینٹی آکسیڈنٹ کی خصوصیات ہیں لہٰذا یہ ہر اقسام کی جلد کے لیے کارآمد ہے۔گلاب میں وٹامن سی، وٹامن پی، وٹامن بی، وٹامن کے کا خزانہ پایا جاتا ہے۔اس میں لائکوپین، بیٹا کیروٹین کے علاوہ دیگرفینولک مرکبات پائے جاتے ہیں۔

گلاب کو پھولوں کا بادشاہ سمجھا جاتا ہے۔یہ ایک جھاڑی دار پودے پر لگتا ہے۔گلاب سے عرق، تیل اور گل قند بنتی ہے۔گلاب برطانیہ اور امریکہ کا قومی پھول ہے۔ جبکہ پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد کا یہ علاقائی پھول بھی ہے۔

دنیا میں گلاب کی تقریباً دس ہزار سے زائداقسام پائی جاتی ہیں۔ تاہم گلاب کی وہ بنیادی اقسام جنہیں گلاب کے آباؤاجداد میں شمار کیا جاتا ہے ان کی تعداد160 ہے۔ اس تعداد میں سے12 اقسام قدرتی طور پر پاکستان میں پائی جاتی ہیں۔

جنگلی گلاب جسے بسنتی گلاب بھی کہتے ہیں، کا پھول عام طور پر پانچ پنکھڑیوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ ایک ٹہنی پر پتوں کی تعداد پانچ یا سات ہوتی ہے۔ چین میں پائی جانے والی ایک جنگلی قسم کی پنکھڑیوں کی تعداد چار ہوتی ہے۔

گلاب میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
عرق گلاب کا استعمال صدیوں سے چلتا آیا ہے اور آج بھی کئی کاسمیٹک مصنوعات میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔چونکہ اس میں اینٹی سیپٹک (انفیکشن سے بچانے والا)، اینٹی بیکٹیریئل (بیکٹیریا سے بچانے والا) اور اینٹی آکسیڈنٹ کی خصوصیات ہیں لہٰذا یہ ہر اقسام کی جلد کے لیے کارآمد ہے۔گلاب میں وٹامن سی، وٹامن پی، وٹامن بی، وٹامن کے کا خزانہ پایا جاتا ہے۔اس میں لائکوپین، بیٹا کیروٹین کے علاوہ دیگرفینولک مرکبات پائے جاتے ہیں۔

گلاب کے فوائد:

گلاب کے پھول سے نکلنے والا عرق گلاب جلد کو صحتمند اور دلکش بنانے کا ایک سستا ترین طریقہ بھی ہے۔ یہ ہمارے جسم میں نمی کی مناسب مقدار برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے جس سے جلد نرم اور چمکدار رہتی ہے۔ یہ ہماری جلد کی خشکی ختم کر دیتا ہے اور تمام موسموں کے لیے ایک قدرتی موئسچرائیزر ہے۔

جلد کو نرم و ملائم رکھتا ہے:
عرق گلاب کا استعمال ایک قدرتی اور سستے کلینزر کے طور پر ہوتا ہے۔ روئی کو عرقِ گلاب میں ڈبوئیے اور اپنی جلد پر جمی گرد کو صاف کرنے کے لیے نفاست سے ملیے۔ بہتر ہے کہ یہ عمل رات کے اوقات میں کیا جائے۔ اس طرح چہرے پر موجود دن بھر کے جمع میل کے نشان صاف ہو جائیں گے۔
حساس جلد کا خیال کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اور کبھی کبھار ان پر کوئی بھی اسکن کیئر مصنوعات کارآمد ثابت نہیں ہوتیں۔ ایسی صورتحال میں عرق گلاب ایک بہتر ٹونر کا کام دیتا ہے۔ صرف جلد پر روئی کی مدد سے عرق گلاب لگائیں؛ اس طرح یہ جلد کی خراش کی کوفت کو کم کر دے گا۔
دو چمچ صندل کا پاؤڈر اور ایک چمچ عرق گلاب کو ملا کر ایک گاڑھا پیسٹ بنا کر اپنے چہرے پر لگا دیں اور خشک ہونے کے بعد اپنا چہرہ دھو لیں۔ دونوں کا امتزاج جلد کو کافی نرم اور چمکدار کر دیتا ہے۔

1 2 3 4 5اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button