HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » ادب » بسیرا ………… نوشاد عادل

بسیرا ………… نوشاد عادل

پڑھنے کا وقت: 29 منٹ

شہر خموشاں کے رہنے والے ابدی نیند سو رہے تھے اور رات کے وقت قبرستان کا منظر کیسا ہوتا ہے یہ تو وہی جانتے ہیں جنہیں رات کے وقت قبرستان میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، اور وہ بھی اکیلے۔ یہ قبرستان بہت پرانا معلوم دیتا تھا۔ اس کی چار دیواری جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ گئی تھی۔ قبرستان کے پھاٹک کا دروازہ کب کا اپنی میعاد پوری کر چکا تھا۔ اب وہ ٹیڑھا میڑھا ہو گیا تھا۔ اس کا نچلا حصہ زمین میں دھنسا ہوا تھا۔ اس وقت ہوا قدرے تیز چل رہی تھی۔ ہوا کے شوریدہ سر اور گستاخ جھونکے مرنے والوں کی روحوں کی طرح وہاں چکراتے پھر رہے تھے۔ پودوں اور درختوں سے لڑتی جھگڑتی ہوائیں جب سنسناتی ہوئی ان کے درمیان میں سے نکلتی تھیں تو یوں لگتا تھا کہ جیسی بھوت پریت ہلکی آواز میں سیٹیاں بجا رہے ہوں۔ وہاں زیادہ تر کچی اور پرانی قبریں تھیں۔ بعض قبریں کھلی ہوئی تھیں۔ ان کے تختے چوری کے لیے گئے تھے۔ ایسی کھلی ہوئی قبروں میں مردے کی باقیات چند بے ترتیب ہڈیوں کی شکل میں پڑی ہوئی تھیں۔ دور کسی گوشے سے ایک کتے کی دل دہلا دینے والی ہوک ابھر رہی تھی۔ شاید وہ اپنے مالک کی قبر پر بین کر رہا تھا۔ کتے کی رہ رہ کر ابھرنے والی ہوک سکوت شب کا دامن تار تار کر رہی تھی۔ ایسے ہول ناک ماحول میں وہاں کون جا سکتا تھا۔ خلق خدا اپنے اپنے گھروں میں سو رہی تھی۔

دفعتاً دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا ہوا کوئی انسان قبرستان میں داخل ہوا۔ وہ اطمینان سے قبروں کے درمیان چلتا ہوا ایک طرف بڑھ رہا تھا۔ اس آدمی کے پتھریلے چہرے پر شیطانیت اور درشتی رقصاں تھی۔ وہ کوئی کفن چور تھا، نہ گور کن۔ اس آدمی کا نام رشید تھا گندے علم کا ماہر تھا۔ در اصل اسے بہت پہلے سے پراسرار علوم سیکھنے کا شوق تھا۔ وہ اپنے اس شوق کی خاطر بہت بھٹکا تھا۔ آخر اسے ایک بوڑھا شخص مل گیا تھا، جو کالے جادو کا ماہر تھا۔ رشید کے استاد نے اس کی شاگردی اختیار کر لی تھی۔ رشید کے استاد نے اسے بہت گندے علم سکھا دئیے تھے۔ ابھی کچھ دن پہلے رشید کے استاد نے اسے بتایا تھا کہ اس شہر میں ایک جگہ ایک مکان میں ایک خزانہ دفن ہے، جو عرصہ دراز پہلے ایک ہندو آدمی نے وہاں دفن کیا تھا۔

یہ قصہ پاکستان بننے سے پہلے کا ہے۔ اس ہندو آدمی کے کئی دشمن تھے جو اسے جان سے مارنا چاہتے تھے، چناں چہ ایک رات اس نے تمام دولت ایک بڑے برتن میں بند کر کے اسے زمین میں دبا دیا اور دیگ پر گندھے ہوئے آٹے کے دو سانپ بنا کر رکھ دئیے۔ اس ہندو نے عہد کیا کہ وہ پانچ سال کے بعد آ کر یہ خزانہ واپس نکال لے گا۔ ہندو اپنے بیوی بچوں کو لے کر را توں رات اپنے ہی گھر سے فرار ہو گیا، مگر وہ اپنا عہد پورا نہ کر سکا اور ایک بیماری سے مر گیا۔ یوں پانچ سال سے زائد عرصہ گزر گیا۔ پانچ سال کا عرصہ مکمل ہوتے ہی ان آٹے کے بنے ہوئے سانپوں میں جان پڑ گئی۔ آج تک خزانہ اسی جگہ جوں کا توں دفن ہے۔ اس جگہ نیا مکان بن گیا۔ اب خزانہ اس نئے مکان کے تہہ خانے میں دفن ہے۔ سب سے پہلے مکان مالک کے لڑکے کو خزانے کا علم ہوا اس نے تہہ خانے میں برتن کے ہلنے کی آوازیں سن لی تھیں۔ زمین میں موجود خزانہ کھڑک رہا تھا۔ خزانہ محفوظ رہا۔ رشید کے استاد نے اسے مزید بتاتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے بھی خزانہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، مگر کامیاب نہ ہو سکا تھا۔ رشید نے استاد سے کہا کہ وہ اس خزانے کو نکالنے کی بھر پور کوشش کرے گا۔

لیکن وہ جانتا تھا کہ خزانہ حاصل کرنے کے لیے انتہائی کٹھن عمل کرنا ہو گا۔ اگر معمولی سی بھی گڑ بڑ ہو گی تو عمل اس پر الٹ سکتا ہے۔ استاد نے بتایا کہ زمین میں موجود خزانہ بھینٹ لے گا، تبھی باہر نکلے گا اور بھینٹ انسانی دینا ہو گی۔ رشید کو اپنا عمل شروع کرنے کے لیے ایک انسانی مخصوص ہڈی درکار تھی۔ وہ قبرستان میں ہڈی حاصل کرنے ہی آیا تھا۔ آخر وہ ایک قبر کے نزدیک پہنچ کر رک گیا۔

اگلے ہی لمحے وہ قبر کے بچے کچے بوسیدہ تختے ہٹا رہا تھا۔ اس قبر کے ابھار کی مٹی تقریباً غائب ہو چکی تھی۔ اس لیے آسانی سے تختے ہٹ گئے۔ رشید نے اندر جھانکا۔ چاند کی دھیمی روشنی میں چند ہڈیاں چمکتی ہوئی نظر آ رہی تھیں اور انسانی بھیانک کھوپڑی بھی نظر آ رہی تھی۔ رشید رشید اپنی مطلوبہ ہڈی کو دیکھ چکا تھا۔ اس کے بھدے ہونٹوں پر ایک مکروہ مسکراہٹ کھلنے لگی۔ اس کا یہ کام ختم ہو چکا تھا۔ اس نے تیزی سے وہ ہڈی اور کھوپڑی نکال لی اور واپس پلٹ گیا۔

ہوا میں یکلخت تیزی آ گئی تھی۔ وہاں عجیب عجیب آوازیں ابھرنے لگیں، جیسے روحیں آپس میں چہ میگوئیاں کر رہی ہوں۔ رشید وہاں سے سیدھا اس بڑے ویران مکان میں پہنچا، جہاں اب کوئی نہیں رہتا تھا۔ وہاں جو بھی کرائے دار رہنے آتا تھا۔ کچھ ہی دنوں میں مکان خالی کر جاتا تھا، کیوں کہ وہاں ڈراؤنی آوازیں گونجتی تھیں۔

مکان کا مالک اسے اونے پونے میں بیچنے کی کوششیں کر رہا تھا۔ پورا مکان بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔ وہاں کے بھاری گرد آلود ماحول میں حشرات الارض کی بہتات تھی۔ جھینگر تسلسل اور تواتر کے ساتھ جھر جھرا رہے تھے۔ جگہ جگہ مٹی دھول کی تہیں جمی ہوئی تھیں۔ مکڑیوں کے جالے بھی ہر جگہ موجود تھے۔ چھتوں اور دیواروں کے پلستر اُکھڑے ہوئے تھے، مگر رشید ان سب با توں سے بے نیاز تہہ خانے کی طرف چلا جا رہا تھا۔ تہہ خانے میں قبر ایسی خاموشی تھی۔

رشید نے اندر داخل ہونے کے بعد تہہ خانے کا دروازہ بند کرنے کی زحمت گوارا نہ کی۔ بھلا یہاں کون آئے گا۔ اندر اس نے ایک جگہ پہلے ہی کچھ سامان رکھا ہوا تھا۔ ایک چادر تھی، صراحی تھی۔ ایک کانٹے دار پودے کی ڈنڈی تھی۔ نیم کے چند پتے تھے۔ کسی پرندے کی کھوپڑی کا ڈھانچا تھا۔ اور بھی بہت سا الم غلم سامان وہاں پڑا ہوا تھا۔ معاً رشید نے کھڑکھڑاہٹ کی آواز سنی، جو زمین میں سے ابھر رہی تھی۔ رشید کریہہ انداز میں ہنسنے لگا۔

جواب دیجئے