مختصر تحریریں

بغداد کا پُل، شہزادہ الپ ارسلان اور صوفی منش بزرگ

”شہزادہ الپ ارسلان کو سپاہیانہ جوہر تو وراثت ہی میں ملے تھے لیکن اس کی ذاتی عظمت اس کے علم و فضل کی بدولت تھی۔ وہ بغداد کے قریب تمام نامی علماء و فقراء کا صحبت یافتہ تھا۔ وہ علم کے ساتھ عمل بھی رکھتا تھا۔
خلیفہ قائم مامراللہ نے اسے عضدالدولہ عضدوالدین کا خطاب بھی دیا تھا۔ ایک رات شہزادہ مغربی بغداد کے پُل پر تنہا ٹہل رہا تھا کہ ایک صوفی منش بزرگ اسے ملا اور اس نے کہا:
شہزداے اور بادشاہ اس طرح اور ایسے وقت سیر کو نہیں نکلا کرتے
شہزادہ: اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے ہمیشہ ڈرتے رہتے ہیں کہ مبادا انہیں تنہائی میں کوئی نقصان پہنچائے، الحمداللہ کہ میں ایسا نہیں ہوں۔
بزرگ: اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ رعب میں فرق آتا ہے۔
شہزادہ: یہ بھی صحیح ہے لیکن میں ہر شخص کو بہ حیثیت انسان اپنے برابر خیال کرتا ہوں، بہ لحاظ مسلمان اس کی عزت کرتا ہوں اور آپ جیسے بزرگوں کی خدنت میں رہنا اپنی سعادت سمجھتا ہوں۔ یا شیخ میرے دل میں بار بار یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مجھے کیا کرنا چاہئے۔ آپ ہی بتائیں کہ میری زندگی کا دستورالعمل کیا ہونا چاہئے۔
شیخ تھوڑی دیر خاموش رہا۔ پھر ایک سرد آہ بھری اور مشرقی بغداد کی طرف ہاتھ بڑھا کر کہا۔ اس قصر کی طرف دیکھو جو دریا کے کنارے سنگِ مرمر کی عالی شان محرابوں پر کھڑا ہے۔ اس کے اندرآرام و آسائش کا ہر ایک سامان جو تمدّن فراہم کر سکتا ہے مہیا ہے لیکن کیا تم سمجھتے ہو کہ ان محلات میں خلفاء اس محنتی مزدور سے زیادہ میٹھی نیند سوتے ہیں جو تمام دن محنت اور مشقت کرتا ہے اور رات کو اپنی جھونپڑی میں لمبی تان کر سو جاتا ہے۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ جس طرح یہ سنگین عمارتیں مضبوط ہیں اس طرح قصر سلطنت کی بنیاد بھی پختہ ہے۔ عیاش امراء اور خود غرض وزراء کے محل دجلہ کی متبسّم آمیز اٹکھیلیوں نے خس وخاشاک کی طرح بہا دیئے۔ مبارک ہیں وہ جو ان واقعات سے نتائج اخذ کرتے ہیں۔
شہزادے یاد رکھو محلات کی رفعت سے عروج سلطنت کا اظہار نہیں ہوتا، سنگ خارا اور مرمر کی عمارتوں سے بنیاد حکومت پر قیاس نہیں ہو سکتا۔ عیش و عشرت کا یہ ظاہری سامان اطمینانِ قلب کے لئے کافی نہیں ہے۔ ملک میں امن اور رعیّت کی خوشحالی کے لئے ضروری ہے کہ ان اولوالعزم اور نیک دل بزرگوں کی تقلید کی جائے جن کا نام تاریخ اسلام اور صفحاتِ روزگار پر یادگارِ زمانہ ہے۔ میری یہ نصیحت ہے کہ ہر کام کا آغاز کوشش وحزم و احتیاط سے کرو اور انجام خداوندکریم پر چھوڑو اور کبھی اپنے زورِبازو پر ناز و غرور نہ کرو“۔
محمدالدین فوق کی کتاب”ناقابلِ فراموش واقعات“ سے اقتباس

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button