HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » سیاسیات » بلوچستان ترقی کی راہ پر گامزن!

بلوچستان ترقی کی راہ پر گامزن!

پڑھنے کا وقت: 4 منٹ

محمد کاظم

وزیر اعظم بننے کے بعد عمران خان گزشتہ ہفتے دوسری مرتبہ بلوچستان کے دورے پر پہنچے ۔یہ دورہ چند گھنٹوں پر مشتمل تھا جس کے دوران کوئٹہ کے علاوہ وہ گوادر بھی گئے۔ پہلے وہ کوئٹہ پہنچے۔ ان کا دورہ کوئٹہ چھاﺅنی تک محدود تھاجہاں انہوں نے بلوچستان کے امراض قلب کے پہلے ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ بلوچستان میں دل کے امراض کے لیے کوئی بہتر ہسپتال نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے زیادہ تر لوگوں کو علاج کے لیے کراچی جانا پڑتا ہے۔ بلوچستان میں امراض قلب کے ایک الگ ہسپتال کا اعلان پنجاب حکومت کی جانب سے ایک ارب روپے کی لاگت سے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کیا تھا۔ سابق وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کے دور حکومت میں بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال کے ساتھ اس کے لیے اراضی بھی مختص کی گئی تھی جہاں شہباز شریف نے اس کا باقاعدہ سنگ بنیاد بھی رکھ دیا تھا۔ لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔

تاہم بعد میں فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ نے اپنی ذاتی کوششوں سے متحدہ عرب امارات سے اس کے لیئے فنڈنگ کا انتظام کیا تھا۔ جس پر وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے آرمی چیف کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔

واضح رہے کہ سخت سیکورٹی کے باعث لوگوں کی آمد ورفت میں مشکلات کی وجہ سے حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے چھاو¿نی میں اس ہسپتال کے قیام کی مخالفت کی گئی تھی اور ان کی یہ رائے تھی کہ اس ہسپتال کو شہر کے کسی ایسے علاقے میں تعمیر کیا جائے جہاں لوگوں کی آسانی کے ساتھ رسائی ہو لیکن بظاہر ایسا دکھائی نہیں دے رہا ہے اور اس ہسپتال نے چھاﺅنی کی حدود میں ہی تعمیر ہونا ہے ۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ماہی گیروں کے خواہشات کے مطابق ان کی کشتیوں کی آمد و رفت کے لیے گزرگاہیں بنائی جائیں گی۔ کوئٹہ میں خطاب کے موقع پر ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بلوچستان میں لوگوں میں پائے جانے والے تحفظات کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے لوگوں کو یہ خدشہ کہ ہے ان ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے کہیں وہ اقلیت میں تبدیل نہ ہوجائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان خدشات کو دور کرنے کے لیے یہاں کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ہنر مند بنانے کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم نے اس موقع پر کوئٹہ ژوب ڈوئل کیرج وے منصوبے کا بھی سنگ بنیاد رکھ دیا۔ اس منصوبے کو سی پیک کے مغربی روٹ کے حصے کے طور پر تعمیر کیا جارہا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کے دور حکومت میں بھی اس روڈ کا مختلف مقامات پر سنگ بنیاد رکھ دیا گیا تھا اور یہ دعویٰ کیا جاتا رہا کہ یہ منصوبہ سی پیک کا حصہ ہے لیکن بلوچستان کی موجودہ حکومت کی جانب سے یہ کہا گیا کہ سی پیک کے مغربی روٹ کا دستاویزی طور پر سرے سے کوئی وجود تھا ہی نہیں۔ بالخصوص اس منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ماضی میں الیکشن میں کامیابی اور سیاسی مقاصدکے لیے بلوچستان کی ترقی کی بات کی جاتی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہوگا بلکہ سیاسی مفاد سے بالاتر ہوکر بلوچستان سمیت پاکستان کی ہمہ گیر ترقی کے لیے اقدامات جائیں گے۔

جہاں بعض ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے وزیر اعظم عمران کا دورہ کوئٹہ اہمیت کا حامل تھا وہاں ان کا دورہ گوادر بھی اس حوالے سے اہم تھا۔ وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد عمران خان کا یہ پہلا دورہ گوادر تھا۔گوادر میں جہاں انہوں نے دو روزہ بین الاقوامی ایکسپو میں شرکت کی وہاں بین الاقوامی ایئرپورٹ کا بھی سنگ بنیاد رکھ دیا۔ اس منصوبے کااعلان ملک کے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز نے 19 اگست 2005 کو کیا تھا تاہم 14سال بعد عمران خان نے اس ایئرپورٹ کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ سنگ بنیاد کی تقریب میں وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان ، پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ اورپاکستان میں چین کے سفیر زیاو¿ جنگ بھی موجود تھے۔اس منصوبے کی تکمیل سے گوادر میں اے۔380جیسے بڑے طیارے اتر سکیں گے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں چین کے سفیر اور چین کی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چینی حکومت نے گرانٹ دی ہے جس سے یہ بین الاقوامی ایئر پورٹ بن جائے گا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ گوادر پاکستان کی ترقی کا انجن ثابت ہوگا۔

گوادر کے مشرقی ساحل پر ایسٹ بے ایکسپریس وے کے منصوبے پر تحفظات کے باعث ماہی گیر احتجاج پر ہیں۔ ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ گوادر شہر کا مشرقی ساحل ان کے ماہی گیری کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسٹ بے ایکسپریس وے سے ان کی کشتیوں کے لیے جو گزرگاہیں تعمیر کی جارہی ہیں ان کی چھوڑائی کم ہے ۔ ان کا مطالبہ ہے کی کشتیوں کے لیے دو دو سو فٹ کی تین گزرگاہیں بنائی جائیں اور ایک گودی تعمیر کی جائے تاکہ سمندر میں طوفان کی صورت میں کشتیوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ماہی گیروں کے خواہشات کے مطابق ان کی کشتیوں کی آمد و رفت کے لیے گزرگاہیں بنائی جائیں گی۔ عمران خان نے کوئٹہ میں اپنے خطاب کے موقع پر ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بلوچستان میں لوگوں میں پائے جانے والے تحفظات کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے لوگوں کو یہ خدشہ کہ ہے ان ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے کہیں وہ اقلیت میں تبدیل نہ ہوجائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان خدشات کو دور کرنے کے لیے یہاں کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ہنر مند بنانے کی ضرورت ہے۔

مصنف کے بارے میں

محمد کاظم سینئر صحافی ہے اور میڈیا کے معروف اداروں سے ایک عرصہ سے منسلک چلے آ رہے ہیں

جواب دیجئے