تازہ ترینسپورٹسسپیشلشخصیاتٹیکنالوجی

بچپن میں پولیو کا مریض دنیا کا تیز ترین باؤلر کیسے بنا؟

محمد صفدر ٹھٹوی

محمد صفدر ٹھٹوی
اُس کے پاؤں چپٹے ہوئے تھے، پولیو کا مرض بھی لاحق ہوا، ڈاکٹروں نے یہاں تک کہہ دیا کہ یہ بچہ شائد کبھی چل نہ سکے، لیکن اُس نے چار سال کی عمر میں چلنا شروع کردیا، اور چلا بھی ایسا کہ کرکٹ کی دنیا کا منفرد کھلاڑی بن گیا۔ جی ہاں! شعیب اختر جسے دنیا تیز رفتار باؤلنگ کی وجہ سے جانتی ہے۔ تیز رفتارباؤلنگ کی بات ہو، دوران میچ مخالف ٹیم سے الجھنے کا معاملہ ہو یا پھر کھری کھری بات کرنے حوصلہ، شعیب اختر ہر جگہ چھائے رہے، اور اب بھی بے لاگ تبصروں کے باعث نمایاں ہیں۔ انہوں نے کرکٹ کے میدان میں مخالف کھلاڑیوں کو باؤنسر مارے، اور اپنی کتاب میں لفظوں کے باؤنسرز سے کئی اہم شخصیات کو ’کلین بولڈ‘کیا۔

شعیب اختر راولپنڈی کے قریب واقع چھوٹے سے شہر مورگہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد اٹک آئل ریفائنری میں کام کرتے تھے۔ شعیب نے چپٹے پاؤں کی وجہ سے چار سال کی عمر میں چلنا شروع کیا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ایلیٹ ہائی سکول، مورگہ سے حاصل کی اور بعد میں اصغر مال کالج، راولپنڈی میں داخلہ ہوئے۔ شعیب نے کرکٹ کھیلنے کی ابتدا 19 سال کی عمرمیں کی۔ بچپن میں انہیں پولیو کا مرض لاحق ہوگیا تھا جس کی وجہ سے ڈاکٹروں نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ شائد بچہ یہ اپنے پاؤں پر کبھی کھڑا نہ ہو سکے لیکن قدرت نے ان کو نہ صرف چلنے کا موقع دیا بلکہ دنیا کا تیز رفتار باؤلر بنا دیا۔ ابتدا میں انہیں باڈی بلڈنگ کا بھی شوق تھا۔ کرکٹ میں بھی ان کی آمد ڈرامائی انداز میں ہوئی۔ایک دن کالج کرکٹ ٹیم کا ایک کھلاڑی اچانک کم پڑ گیا چونکہ شعیب اختر وہاں موجود تھے، لہٰذا انہیں ٹیم میں شامل کر لیا گیا۔ یوں شعیب اختر کرکٹ کی دنیا میں داخل ہو گئے۔

شعیب اختر نے فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز1994ء کے سیزن میں ایگریکلچر ڈویلپمنٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے کھیل کر کیا۔ انٹرنیشنل کرکٹ میں متعارف ہونے سے پہلے انہیں 1996ء میں انگلینڈ کا دورہ کرنے والی پاکستان کی اے کرکٹ ٹیم میں شامل کیا گیا، انہوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور 25 وکٹیں حاصل کیں۔ ڈسپلن کے حوالے سے منفی رپورٹ کی بدولت انہیں 1996ء میں شارجہ کپ میں سلیکٹ کرنے کے باوجود ٹیم میں شامل نہ کیا گیا۔

شعیب اختر نے بین الاقوامی کرکٹ کا آغاز ویسٹ انڈیز کے خلا ف1997ء میں کیا اور اپنی برق رفتاری سے سب کو دیوانہ بنا لیا۔ انہوں نے 1999ء میں کلکتہ میں بھارت کے خلاف دو گیندوں پر راہول ڈریوڈ اور سچن ٹنڈولکر کی وکٹ لے کر تہلکہ مچا دیا۔ شعیب نے اس میچ میں کل آٹھ وکٹیں لیں ، یہاں سے ان کی شہرت کا آغاز ہوا۔

نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے خلاف کامیابی میں شعیب نے اہم کردار ادا کیا۔ لیکن 2003ء کا عالمی کپ ان کے لیے ناکام ثابت ہوا جس کی بنا پر ان کو ٹیم سے باہر نکال دیا گیا۔ دوبارہ ٹیم میں شمولیت پر2004ء میں انہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا مگر2004ء میں بھارت کا دووہ ان کیلئے مشکلات لے کر آیا۔ اس سیریز میں میچ کے دوران چوٹ کی وجہ سے نہ کھیلنے کا فیصلہ کپتان انضمام الحق اور کوچ باب وولمر کے ساتھ جھگڑے کا باعث بنا۔ شعیب اختر کیلئے2005ء میں برطانیہ کا دورہ اہم ثابت ہوا جب انہوں نے بہترین گیند بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیریز میں سترہ وکٹیں حاصل کیں۔

شعیب اختر دنیا کے واحد کھلاڑی ہیں جو سومیل فی گھنٹہ سے زائد کی رفتار سے گیند پھینک چکے ہیں، انہوں نے یہ کارنامہ برطانیہ کے خلاف 2003ء کے عالمی کپ کے دوران انجام دیا۔

شعیب اختر کا کہنا ہے 2006ء میں فیصل آباد گراونڈ پر ایک ٹیسٹ میچ کے دوران سچن ٹنڈولکر کو ایک عام سی بال کرائی تھی جسے وہ ٹچ بھی نہ کر سکے اور وکٹ چھوڑ کر چلے گئے۔ یہ پہلا موقع تھا جب میں نے سچن کو خود سے خوفزدہ ہوتے دیکھا تھا۔ شعیب اختر سچن کو بڑا کھلاڑی نہیں مانتے۔ ان کے بقول وہ میچ فنیشر نہیں تھے۔ جب سچن سے شعیب کے ریمارکس کے بارے میں پوچھا گیا تو سچن نے اس کا جواب دینا مناسب نہ سمجھا۔

شعیب اختر نے اپنی کتاب میں ایک تانگے والے سے متعلق دلچسپ قصہ بیان کیا ہے جس نے کرکٹ کیریئر کے آغاز سے قبل ان کی مدد کی تھی۔ وہ لکھتے ہیں کہ انھوں نے ایک رات خالی جیب لاہور کی سڑک پر گزاری تھی ، ایک تانگے والے نے انہیں سونے کو جگہ دی اور کھانا بھی کھلایا تھا۔ تانگے والے نے اگلے روز انہیں ماڈل ٹاؤن پہنچنے میں بھی مدد کی، جہاں پی آئی اے کی ٹیم کے ٹرائلز ہو رہے تھے۔ شعیب نے تانگے والے سے وعدہ کیا کہ جب وہ کرکٹر بن گئے تو اس سے ملنے ضرور آئیں گے۔ شعیب لکھتے ہیں ’’جب میں قومی ٹیم میں شامل ہوا تو اس سے ملاقات کی، وہ بہت خوش ہوا، اسے میری کامیابی کا یقین نہیں ہو رہا تھا‘‘۔

شعیب اختر نے اپنی کتاب میں کرکٹ کے حوالے سے جو باتیں لکھیں وہ کرکٹرز کے لئے قابلِ قبول نہ تھیں۔ انہوں نے کتاب میں دعویٰ کیا ہے کہ ٹنڈولکر اور راہول ڈراوڈ میچ جتوانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ آئی پی ایل ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ میں ان کے ساتھ دھوکہ ہوا تھا۔ شعیب اختر نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ ’وسیم اکرام نے مجھے ٹیم میں شامل کیے جانے کی صورت میں آدھی ٹیم سمیت واک آؤٹ کرنے کی دھمکی دی تھی، اس وقت کرکٹ بورڈ کے چیئرمین جنرل توقیر ضیاء نے میرا ساتھ دیا۔‘

280صفحات پر مشتمل ’’کنٹرو ورشلی یورز‘‘ نامی یہ کتاب شعیب اختر نے کرکٹ کو خیرباد کہنے کے بعد 2011ء میں شائع کی تھی، اس کتاب کی وجہ سے سے ہندوستان سمیت بہت سے لوگ ان سے ناراض ہوئے۔ شعیب کو شدید تنقید کا سامنا تو کرنا پڑا لیکن اس کتاب نے کئی لوگوں کو ’کلین بولڈ‘ کر کے رکھ دیا۔
شعیب اختر کا پروفیشنل کیریئر تیرا سالوں پر محیط رہا۔ انہوں نے کل 46 ٹیسٹ میچوں میں 178 وکٹیں حاصل کیں، آخری ٹیسٹ میچ 2007ء میں بنگلور میں کھیلا۔ ایک روزہ میچوں میں ان کی وکٹوں کی تعداد247 ہے۔

Leave a Reply

Back to top button