Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it   Click to listen highlighted text! Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it
تازہ ترینخبریںصحت

بچے کو دودھ پلانا ماں کے دل کی صحت کیلئے بھی مفید

درحقیقت بریسٹ فیڈنگ سے خواتین میں امراض قلب یا فالج سے متاثر ہونے یا دل کی شریانوں سے جڑے امراض سے موت کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہوجاتا ہے۔

بچوں کے لیے ماں کا دودھ صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے مگر ایسا کرنا خواتین کی صحت کے لیے بھی مفید ہوتا ہے۔

درحقیقت بریسٹ فیڈنگ سے خواتین میں امراض قلب یا فالج سے متاثر ہونے یا دل کی شریانوں سے جڑے امراض سے موت کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہوجاتا ہے۔

یہ بات آسٹریا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

اس سے قبل بچوں کے لیے ماں کے دودھ کے متعدد فوائد عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بیان کیے جاچکے ہیں جیسے نظام تنفس کے امراض کی شرح کم ہوتی ہے مگر اسسے ماؤں کو بھی فائدہ ہوتا ہے جیسے ذیابیطس ٹائپ ٹو، بریسٹ اور ovarian کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے اور ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے۔

میڈیکل یونیورسٹی آف انسبروک کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ماں کے دودھ پلانے اور دل کی شریانوں کے امراض کے درمیان تعلق پر پہلے بھی کام ہوا ہے مگر وہ نتائج ٹحوس نہیں تھے۔

اس تحقیق میں 1986 سے 2009 کے دوران مختلف ممالک میں ہونے والی 8 تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جو لگ بھگ 12 لاکھ خواتین کا تھا۔

تحقیق میں دیکھا گیا کہ بچوں کو دودھ ہلانے سے خواتین میں دل کی شریانوں سے جڑے امراض کے خطرے میں کیا فرق آیا۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بچوں کو دودھ نہ پلانے والی خواتین کے مقابلے بریسٹ فیڈنگ کرانے والی خواتین میں دل کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ 11 فیصد تک کم ہوا۔

اسی طرح زندگی میں کسی وقت بریسٹ فیڈنگ کرانے والی خواتین میں فالج کا خطرہ 12 فیصد اور امراض قلب کا خطرہ 14 فیصد تک کم ہوگیا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ 12 ماہ یا اس سے زائد عرصے تک بچے کو دودھ پلانے والی خواتین میں دل کی شریانوں کے امراض کا خطرہ دیگر خواتین سے نمایاں حد تک کم دریافت ہوا۔

محققین نے بتایا کہ یہ بہت اہم ہے کہ خواتین کو بچوں کے ساتھ ساتھ اپنی صحت کے لیے بریسٹ فیڈنگ کے فوائد کا علم ہو۔

انہوں نے کہا کہ نتائج سے ماں کے دودھ پلانے کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے اور اس حوالے سے خواتین کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں شائع ہوئے۔

Leave a Reply

Back to top button
Click to listen highlighted text!