منتخب کالم

بگرام ایئر فیلڈ: ’’دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو‘‘…… چوہدری فرخ شہزاد

تین اور 4 جولائی کی درمیانی شب جب رات کے اندھیرے میں امریکی فوجی افغانستان کے بگرام ایئر فیلڈ چھوڑ کر وہاں سے روپوش ہو گئے تو کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہونے دی گئی۔ بگرام ایئر بیس کو افغانستان کے اندر ایک منی پینٹاگون کی حیثیت حاصل تھی یہی وہ مقام ہے جہاں سے پورے ملک کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ پورے خطے کی بھی نگرانی کی جاتی تھی سارے ڈرون حملوں کا مآخذ و منبع بھی یہی تھا جسے افغانستان کے اندر امریکا کی 53 ویں ریاست کا درجہ حاصل تھا بگرام کے اندر افغان قانون لاگو نہیں ہوتا تھا۔ یہ الگ سوال ہے کہ افغان قانون کا وجود بذات خود ایک سوالیہ نشان ہے۔ کبھی کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ امریکہ کو یہاں سے چھپ کر نکلنا پڑے گا۔ صدر بائیڈن نے 9/11 کی تاریخ کو جس طرح انخلا کی ڈیڈ لائن کے طور پر اعلان کیا تھا، اس سے تو یہ تاثر ملتا تھا کہ بگرام حوالگی کے لیے خصوصی تقریب ہو گی ۔ گارڈ آف آنر ہو گا اور دھوم دھام سے امریکیوں کو رخصت کیا جائے گا مگر یہ تو بالکل برعکس ہوا ۔ امریکی تو یہاں سے ایسے نکلے جیسے میدان جنگ سے جانیں بچا کر بھاگے ہوں۔ بگرام کے اندر ایک بہت بڑی جیل تھی جس میں 5000 طالبان قیدی تھے۔ افغان سکیورٹی فورسز کے جنرل کوہستانی کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے ہم نے طالبان کے پہنچنے سے پہلے وہاں پہنچ کر بگرام کا کنٹرول سنبھال لیا ورنہ یہ سارا کچھ طالبان کے ہاتھ آجانا تھا جبکہ طالبان سمجھتے ہیں کہ یہ اب بھی جلدی ہی ہمارے ہاتھ آجائے گا۔

قرآن مجید کی سورۃ روم میں رومیوں کی شکست کا حوالہ ہے جس میں ارشاد ہے کہ رومی اپنے ہاتھوں سے اپنے مضبوط قلعوں کو اور اپنے گھروں کو منہدم کرنے لگے کہ یہ ان کے دشمنوں کے کام نہ آئیں جس پر ارشاد ربانی ہے کہ فاعتبرو یا اولی الابصارo پس اے دیکھنے والو اس سے عبرت حاصل کرو۔ بگرام ایئر فیلڈ رومیوں کے قلعوں سے کہیں زیادہ مضبوط اور ناقابل شکست تھا مگر اس کے باوجود امریکیوں کو یہاں سے نکلنا پڑا۔ اس کے اندر کے مناظر کی مغربی میڈیا میں تفصیلات آ رہی ہیں وہاں برگر کنگ اور پیزا ہٹ کے فرنچائز تھے پر تعیش سوئمنگ پول اور SPA بنے تھے۔ شراب خانے اور ڈانس فلور خصوصی طور پر آراستہ کیے گئے تھے یہ سب کچھ اس لیے تھا کہ امریکی فوجیوں کے لیے تفریح کا سامان مہیا کیا جائے اور وہ بور نہ ہوں تاکہ امریکہ یہ جنگ جیت جائے۔ اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ صدر اوباما 8 سال تک کہتا رہا کہ وہ افغانستان سے نکل جائیں گے مگر نکلے نہیں۔ ٹرمپ نے اپنے 4 سال اسی اعلان میں گزار دیئے مگر انخلا کی نوبت نہ آئی مگر بائیڈن نے وہ کام کر دیا جو کسی امریکی صدر سے توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔

دوسری طرف طالبان کی فتوحات کا سلسلہ جاری ہے اس وقت وہ 50 فیصد شہروں پر قبضہ کر چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم لڑائی میں پلہ بھاری ہونے کے باوجود صلح اور مذاکرات اور امن کی بات کرتے ہیں۔ تاجکستان کے بارڈر پر واقع اربوں روپے کی امریکی لاگت سے انڈیا نے جو افغانستان کا سب سے بڑا ڈیم تعمیر کیا تھا وہ بھی طالبان کے قبضے میں آ گیا ہے۔ آج کے طالبان بہت سیاسی ہو گئے ہیں اب وہ ڈیم اور کاریڈورز کو تباہ نہیں کرتے بلکہ قبضہ کر کے وہاں سے استفادہ کرنے والوں سے ٹیکس وصول کرتے ہیں اور اپنی آمدن کا ذریعہ بناتے ہیں۔ طالبان کی سفارتکاری کی آپ کو داد دینا پڑے گی کہ

ان کے وفد نے انڈین وزیراعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کی ہے جیسا کہ میں نے پہلے لکھا ہے کہ آج کہ طالبان پرانے طالبان نہیں رہے یہ اب سیاسی ہو گئے ہیں ۔ اس ملاقات میں انہوں نے پاکستان کو پیغام دیا ہے کہ اگر پاکستان طالبان کو محض ایک آپشن سمجھے گا تو وہ بھی پاکستان کے ایسے متبادل کو مدنظر رکھے ہوئے ہیں جس سے پاکستان کی بے چینی اور ہلچل میں اضافہ ہو گا۔

پاکستانی ماضی اور حال کی ساری لیڈر شپ کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس سر زمین کی قدرتی اہمیت کی وجہ سے کوئی کھلاڑی پاکستان کو نظر انداز نہیں کر سکتا، طالبان، اشرف غنی اور نہ ہی امریکہ چین اور روس۔ پاکستان ان سب کی مجبوری ہے۔ ہمارے ہاں جو اقتدار میں ہوتا ہے وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ سارے سٹیک ہولڈر اس کی قیادت کو مان رہے ہیں حالانکہ اس کی وجہ کسی کی ذات نہیں بلکہ پاکستان ہوتا ہے۔ اگر ہمارے ملک میں کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس کی ذاتی اہمیت اس لیے ہے کہ وہ تقریر اچھی کر لیتا ہے تو یہ غلط فہمی ہے بلکہ اہمیت کی ساری وجہ یہ ہے کہ آپ کے پاس ایک ایسے ملک کی باگ ڈور ہے جس کی نیو کلیئر صلاحیت، فوج اور جغرافیائی اہمیت کو نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔

اس وقت امریکہ نے پاکستان کی طرف بے اعتنائی کی جو روش اپنائی ہوئی ہے ، یہ ایک Tactic ہے تا کہ پاکستان کو چین سے دور کیا جا سکے۔ یہ رویہ زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ پاکستان کو بڑی مہارت سے اپنا کردار ادا کرناہو گا۔ دوسری طرف چین افغانستان میں بہت زیادہ دلچسپی لے رہا ہے اور امریکی انخلا کے بعد تاجکستان کے راستے افغانستان کو اپنے ترقیاتی پراجیکٹس میں منسلک کرنا چاہتا ہے تا کہ کہیں امریکہ واپس نہ آجائے۔ کھیل بہت دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ہر کوئی اپنے اپنے مفادات کا دفاع کر رہا ہے۔ لگتا ہے کہ اگر چین نے اپنی دلچسپی کا دائرہ کار دباؤ کی حد تک رکھا تو اسے افغانستان میں کامیابی ملے گی ۔ اس سے امریکہ کی افغانستان میں واپسی کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ روس کی افغانستان میں دلچسپی برقرار ہے لیکن روس کے پاس اس وقت Capacity نہیں ہے کہ وہ یہاں دفاع اور ترقیاتی اخراجات برداشت کر سکے۔

اس وقت دنیا بھر میں امریکہ اور چین زیادہ سے زیادہ ممالک کو اپنے اپنے کیمپ میں شامل کرنے کے لیے تگ و د و میں مصروف ہیں جس کی وجہ سے افغانستان اور پاکستان بہت زیادہ اہمیت حاصل کر چکے ہیں کیونکہ اگر یہاں سے امریکی کردار ماند پڑے گا تو اس کا قدرتی فائدہ چین کو ہو گا۔

ان حالات میں خطے میں دیر پا امن و استحکام کے لیے اگر افغانستان اور پاکستان دونوں ممالک امریکہ اور چین میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں گے تو یہ علاقائی طور پر خوشگوار فیصلہ ہو گا ورنہ کشمکش جاری رہے گی۔
بشکریہ: روزنامہ نئی بات

Leave a Reply

Back to top button