HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » سیاسیات » بھارت انتخابات سے قبل پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے ؟

بھارت انتخابات سے قبل پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے ؟

پڑھنے کا وقت: 5 منٹ

سردار شیراز خان …..
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کو خفیہ ذرائع سے ایسی معلومات ملی ہیں جن کے مطابق بھارتی حکومت عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے پاکستان پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے ، یہ حملہ 16 سے 20 اپریل کے درمیان ہو سکتا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ’میں پوری ذمے داری کے ساتھ یہ بات کر رہا ہوں، ہمارے پاس جو اطلاعات ہیں وہ معتبر اور مصدقہ ہیں، ہم نے ان اطلاعات سے جڑی تفصیلات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ممبران کو فراہم کر دی ہیں ، سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے اسلام آباد میں متعین مستقل ممبران کے سفیروں کو دفتر خارجہ بلا کر بھارت کے ممکنہ حملے کی تفصیلات سے آگاہ کیا ہے ۔

سیکریٹری خارجہ نے سیکیورٹی کونسل کے مستقل اراکین کو پاکستان کی تشویش سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ عالمی برادری اس غیر ذمے دارانہ رویے کا نوٹس لے کر بھارت کوتنبیہ کرے کہ وہ تبائی کے راستے پر چلنے سے اجتناب کرے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ جیسا ایک نیا ناٹک رچا سکتا ہے جس کو پاکستان پر حملے کے جواز کے طور پر پیش کیا جائے گا ۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت ایک انتہائی خطرناک کھیل کھیلا جا رہا ہے، اگر خدانخواستہ ایسا ہوتا ہے تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ خطے پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے لیے یہ بات بھی باعث تشویش ہے کہ بھارت نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جب 26فروری 2019کو پاکستان کے خلاف جارحیت کی تھی تو اس وقت بہت ہی ذمہ دار ممالک نے بھارتی اقدام کی مذمت کرنے کی بجائے خاموشی اختیار کی تھی جو بہت ہی خطرناک امر ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عالمی برادری کو اس خطے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے خاموش نہیں رہنا چاہیے تھا، اگر وہ خطے میں امن و استحکام چاہتے ہیں تو انھیں خاموش تماشائی کی بجائے انہیں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کے پاس ایسی اطلاعات ہیں کہ بھارت نے ایک بڑے ملک کی ایما پر دوبارہ حملے کی تیاری کر رکھی ہے، ادھر پاکستان نے بھی مذکورہ عالمی طاقت پر واضح کر دیا ہے کہ اگر پاکستان پر کسی بھی قسم کی مہم جوئی کی گئی تو اس کا بھر پور جواب دیا جائے گا ،

وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس اور سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کو بھارت کے ممکنہ حملے پر بریفنگ سے سفارتی حلقوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے ۔ان حلقوں کا خیال ہے کہ دینا کی آدھی آبادی جنوب ایشیائی خطہ میں آباد ہے ، اس خطہ میں دینا بھر کے ممالک اور سرمایہ کاروں کے مفادات وابستہ ہیںجبکہ پاکستان اور بھارت سیمت اس خطہ میں چین ،روس ، یوکرائن سمیت کئی ایک ایٹمی طاقتیں موجود ہیں، اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ہوتی ہے تویہ ایٹمی جنگ میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے ،جو اس خطہ کو ہی نہیں بلکہ پوری دینا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے جو آج کی اس ترقی یافتہ تہذیب کو نابود کر سکتی ہے ۔

اسی تناظر میں ایک دوسرا نکتہ نظر یہ ہے کہ بھارت میں ہونے والے عام انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لیے بھارت کے اسلام اور پاکستان مخالف ووٹ کو موبلائز کرنا چاہتی ہے جس کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک محدود جنگ یا پھر پاکستان پر ایک ایسا حملہ جس میں بھارت کا پلڑا بھاری ہو اہم کر دار ادا کر سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق ایک عالمی طاقت اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے پاکستان پر یہ دباﺅ ہے کہ وہ بھارت کی موجودہ حکمران جماعت کی کامیابی کے لیے اپنا کر دار ادا کرے، جس کا اس کے سوا کوئی مطلب نہیں ہے کہ اگر بھارت ۔۔ پاکستان پر حملہ کرتا ہے تو پاکستان جوابی کارروائی نہ کرے ،فروی 2019 میں پاکستان کے خلاف جو حملہ کیا گیا تھا وہ بھی اسی تناظر میں تھا، تاہم فوج نے بھر پور رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی جیت کا تاثر دوسرے ہی دن ختم کر دیا تھا، جس سے بی جے پی کی انتخابی مہم اور بھارت کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے ،جس کے ازالے کے لیے اب ایک دفعہ پھر حکومت پاکستان پر دباو بڑھایا جا رہا ہے کہ وہ بی جے پی کی کامیابی کے لیے راہ ہموار کرے۔

ان حلقوں کا خیال ہے کہ حکومت پاکستان کی تعاون کے بغیر بی جے پی کی انتخابات میں کامیابی کے امکانات بہت ہی کم ہیں ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنی پریس کانفرنس میں بھارتی حکومت کی پرشانیوں اور ان کی ضرورتوں کی نشاندہی ان الفاظ میں کی ہے ” بھارتی وزیر اعظم پلوامہ ناٹک اور اس کو بنیاد بنا کر پاکستان پر حملے سے اپنی مقبولیت میں جو اضافہ چاہتے تھے وہ نہ ہوا بلکہ ان کی ساری تدبیریں الٹ پڑ گئی،اب وہ نئی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جو کہ ایک خطرناک امر ہے ، ہمیں ایک نئی جارحیت کا خدشہ ہے“۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کے پاس ایسی اطلاعات ہیں کہ بھارت نے ایک بڑے ملک کی ایما پر دوبارہ حملے کی تیاری کر رکھی ہے، ادھر پاکستان نے بھی مذکورہ عالمی طاقت پر واضح کر دیا ہے کہ اگر پاکستان پر کسی بھی قسم کی مہم جوئی کی گئی تو اس کا بھر پور جواب دیا جائے گا ، پاکستان کسی بھی سطح پر بی جے پی کی مدد کا متعحمل نہیں ہو سکتا ہے ، وہ اگر ایسا کرتا ہے تو اس سے خود پاکستان اور پی ٹی آئی کی نو منتخب حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی کی پریس کانفرنس سے بھی اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ پاکستان نے بی جے پی کی مدد لیے محدودجنگ کی تجویز قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

جواب دیجئے