HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » اقتباسات » بیدار لوگ، گھنٹی اور صور اسرافیل

بیدار لوگ، گھنٹی اور صور اسرافیل

پڑھنے کا وقت: 2 منٹ

دنیاوی کاموں میں انتہائی مصروف رہنے والوں کے بعض بڑے علمی کارناموں کا ذکر آیا تو وہ ( ٹائن بی) کلیرنڈن، ابن خلدون، پولی بس، میکاولی، کنفوشش، سینٹ گریگری، تھیوسیڈائی دس، زینوفان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، سولون، والٹر لیف، انتھونی ترولپ، گبن، جے ایس مل، گروتے اور رشیدالدین الہمدانی کی مثالیں انگلیوں پر گنوا دیتے ہیں۔ ان میں سے میرے لئے کئی نام آج بھی اجنبی ہیں اور میں اس کے علاوہ ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتا کہ وہ بھر پور عملی زندگی گزارنے کے باوجود بھاری بھرکم علمی کام بھی کر گئے۔ کم فرصتی کا رونا رونے والوں کے لئے اس فہرست سے بڑھ کرکوئی تازیانہ کیا ہوگا۔

رشیدالدین ہمدانی نے وقت کے استعمال اورکام کی تیز رفتاری کے اصول بنا رکھے تھے۔ وہ کم سے کم فراغت میںبڑے سے بڑا کام کر سکتے تھے۔ "جوامع التواریخ” انہوں نے وزیراعظم کی حیثیت سے لکھی تھی اور یہ علمی کام ایسے نہیں ہوا جیسے آج کل کے بڑے لوگ ہم زاد کے لکھے پر دستخط ثبت کر کے مصنف بن بیٹھتے ہیں۔ وہ طریقہ جو بچوں کی پیدائش کے لئے حرام ہے وہ کتابوں کی تصینف کے لئے کیوں حلال ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ دور روشن خیالی کا دور شمار ہوتا ہے، بعض لوگ اب اولاد کی پیدائش کو بھی محض اشاعت کے کاروبار کا درجہ دیتے ہیں۔

ہمدانی نے فجر اور صبح کے وقت تاریخ کا لکھنا جاری رکھا اور اس کے علاوہ اس کا تمام وقت فرائض منصبی کی نذر ہوتا۔ انتھونی ترولپ اس ملازم کو پانچ پاونڈ سالانہ انعام دیتے تھے جو صبح کے ساڑھے پانچ بجے انہیں گرم کافی لا کر دیتا تھا۔ کیونکہ ترولپ صبح ناشتہ تک اپنے علمی مشاغل میں مصروف رہنا چاہتا تھا۔ صبح ہوتے ہی اس پر فرائض منصبی کی یلغار ہو جاتی۔ گبن کہتا ہے کہ میں صبح اس لئے کام کرتا تھا کہ بھرے گھر میں کوئی ناشتے پر، کوئی عصر کے وقت اور کوئی رات کو مجھ سے گفتگو کا خواہش مند ہوتا۔ بیکار ہمسائے وقت بے وقت آنکلتے۔ جب چاند چڑھتا تو میری جان نکل جاتی کیونکہ گھر والے ان دنوں مجھے آوارہ گردی پر اپنے ساتھ لے جاتے اور میرے قیمتی وقت کا خون ہو جاتا۔ گروتے نے اپنے بیڈ روم میں ایک گھنٹی لگائی ہوئی تھی جس کی رسی ایک چوکیدار باہر سے ہلا دیتا اور بنک کا یہ مصروف ملازم اٹھ کر تاریخ نویسی میں مصروف ہو جاتا۔ بیدار لوگ راتوں کو بھی بیدار رہتے ہیں اور گھنٹی کی آواز ان کے لئے صور اسرافیل سے کم نہیں ہوتی“۔

( مختار مسعود کی کتاب "آواز دوست” سے اقتباس)

جواب دیجئے