تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

بیدمشک: جسکی خوشبو دے دل و دماغ کو راحت

بید مشک کی چھال میں ٹینن4.10فیصدکے علاوہ ٹے نک ایسڈ بھی پایا جاتا ہے۔۔ گلو کوسائیڈ سیلی سینم(Slicinem) 2.7 فیصدپایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ گوند بھی پایا جاتا ہے۔اس کے پتیوں پر ایک میٹھی سی پرت جم کر خشک ہو جاتی ہے جسے بیدہ انگبین کہتے ہیں۔

مختلف امراض کے علاج میں صدیوں سے استعمال ہونے والا بیدمشک کا درخت آج بھی انسان کے کام آ رہا ہے۔ یہ بیس سے تیس فٹ بلند ہوتا ہے۔جس کے پتے موسم خزاں میں گر جاتے ہیں اور موسم بہار میں نئے پیدا ہوتے ہیں۔پتے دو انچ سے چارانچ تک لمبے اوپر کی طرف خاکستری ہوتے ہیں۔ اس کے تنے کی گولائی تین سے چار فٹ تک،چھال سیاہی مائل نیلگوں یا زردی مائل سرخ ہوتی ہے۔اس کے لکڑی گلابی اور نرم ہوتی ہے۔ رنگ ہلکا سبزی مائل ہوتا ہے۔

موسم بہار میں ہی پھول پتوں سے پہلے نکل آتے ہیں۔ان پھولوں کوبید مشک کہتے ہیں۔ ان سے خوشبودارعرق وعطرنکالاجاتا ہے۔

بید مشک کے پھول انتہائی خوشبودار ہوتے ہیں۔ اس کے پھول لمبے سیدھے اور بلی کی دم کی طرح ملائم ہوتے ہیں۔ پھولوں کی لمبائی دو تین انچ کے لگ بھگ ہوتی ہے۔بید مشک کا اصل وطن ایران ہے۔ لیکن اب یہ کشمیر، بھارت،یورپ اور دیگر علاقوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ اب اسے باغوں میں بھی لگایا جاتا ہے۔

بیدمشک کو عربی میں حندف بلغمی، فارسی میں گربہ بید، ہندی میں بید مشک، لاطینی میں Salix Caprea اور انگریزی میں (Sallow)
کہتے ہیں۔

بید مشک میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
بید مشک کی چھال میں ٹینن4.10فیصدکے علاوہ ٹے نک ایسڈ بھی پایا جاتا ہے۔۔ گلو کوسائیڈ سیلی سینم(Slicinem) 2.7 فیصدپایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ گوند بھی پایا جاتا ہے۔اس کے پتیوں پر ایک میٹھی سی پرت جم کر خشک ہو جاتی ہے جسے بیدہ انگبین کہتے ہیں۔

بید مشک کے طبی فوائد:
بید مشک مقوی دل و دماغ ہے، جگر کا بھی محافظ ہے،پیاس،قے،میعادی بخار وخفقان میں مفید ہے۔اس کا عرق کشید کر کے مذکورہ امراض میں پلایا جاتا ہے۔ موسم گرما میں مفید ہے اورگرمی کے درد سر میں بھی فائدہ دیتا ہے۔

اروماتھراپی:
تازہ پھولوں کے سونگھنے سے دماغ کو فرحت حاصل ہوتی ہے اور دردسرزائل ہوجاتا ہے۔

زخموں کا علاج:
بید مشک کی چھال کے جوشاندے سے زخموں کو دھونے سے زخم جلدی ٹھیک ہوجاتے ہیں۔

پتوں پر سونا:
بید مشک کے پتوں کے فرش پر سونا گرم مزاج اشخاص کیلئے جگر اور قلب کی حرارت اور بخار کو دور کرنے کیلئے مفید ہے۔اس کے تازہ پتوں کا پانی خونی دستوں کو بندکرنے کیلئے پلایاجاتا ہے۔

کان میں درد:
نیز تازہ پتوں کا نچوڑا ہوا پانی درد گوش کو تسکین دینے کیلئے کان میں قطرہ ڈالتے ہیں۔

بخار و بدہضمی:
عام بخار و بدہضمی میں اس کے پھلوں کا عرق دینے سے بدہضمی دور ہوکر بھوک زیادہ لگتی ہے۔اس کے عرق کے استعمال سے دل کی کمزوری دور ہوتی ہے،آشوب چشم سر درد میں بھی مفید ہے۔اس کی لکڑی کی راکھ پھیپھڑوں سے آنیوالے خون میں بانسہ کے پتوں کے رس یا شہد میں ملا کر دی جاتی ہے جس سے خون رک جاتا ہے۔اس کی چھال کا جوشاندہ موسمی صفراوی بخاروں میں مفید ہے۔

خونی بواسیر:
خونی بواسیر میں بھی مندرجہ بالا جوشاندہ فائدہ دیتا ہے۔ بیدمشک کی راکھ کو جریان خون کے مقام پر بیرونی طور پر لگانے سے بھی خون بند ہوجاتا ہے۔اس درخت کی شاخیں و پتے خشک و قابض ہوتے ہیں۔

مردانہ امراض:
اس کا عرق احتلام کی خاص دوا ہے۔ رات کے وقت سونے سے آدھا گھنٹہ پہلے اس کی 20بوندیں 25 گرام پانی میں ملا کر لینے سے خاص فائدہ ہوتا ہے۔ احتلام رک جاتا ہے۔

دل کی دھڑکن:
کشمش سبز بڑی 40 عدد لیں۔ ان کو صاف کرکے عرق بیدمشک و عرق گلاب 30 -30 گرام لے کر رات کو قلعی والے چھوٹے کنورے میں بھگودیں اورباہرصحن میں حفاظت کے ساتھ رکھ دیں۔صبح ہاتھ منہ دھو کر ایک ایک کشمش سوئی کی نوک سے اٹھا کرکھلا ئیں، اوپر سے عرق پی لیں۔اس نسخہ سے ایک ہی ہفتہ میں دل کی دھڑکن دور ہوجاتی ہے۔بہت مجرب ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button