تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

بینگن: دماغی کارکردگی بہترکرنے والا قدرتی ٹانک

بینگن میں حیاتین، معدنیات، اور ریشہ زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ خام یا کچے ایک کپ (82 گرام) بینگن میں 20 حرارے، پانچ گرام کاربوہائیڈریٹ، تین گرام ریشہ، ایک گرام لحمیات، روزانہ کی ضرورت کا 10 فیصد میگنیز، پانچ فیصد فولیٹ، پانچ فیصد پوٹاشیم، چار فیصد وٹامن ”کے“ اور تین فیصد وٹامن سی ہوتے ہیں۔ بینگن میں تھوڑی مقدار میں چند دیگر اجزا بھی پائے جاتے ہیں۔ ان میں نیاسین، میگنیشیم اور تانبا شامل ہیں۔

بینگن ایک ایسی سبزی ہے جس میں کیلوری کی تعداد بہت کم ہوتی ہے اور اِس قُدرتی طور پر فائبر، وٹامنز اور معدنیات کی تعداد کثرت سے پائی جاتی ہے۔بینگن دیگر غذائی اجزاء اور اینٹی آکسیڈینٹ کی خصوصیات سے بھی مالامال ہوتا ہے۔ یہ کیفک ایسڈ، کلوروجینک ایسڈ اور نیسونین پر مشتمل ہوتا ہے جو طاقت ور اینٹی آکسیڈنٹ شمار کیے جاتے ہیں۔بینگن میں بہت سی بیماریوں سے لڑنے کی خصوصیات موجود ہیں یہ کینسر جیسے جان لیوا مرض سے بچاؤ کے ساتھ ساتھ دیگر بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے

بینگن کا حیاتیاتی نام Solanum melongena ہے۔ اس کی کئی اقسام ہیں۔ جن کا رنگ بنفشی، پیلااور بعض کا سفید ہوتا ہے۔ تاہم عام اقسام میں ایک قسم کے بینگن لمبے اور پتلے ہوتے ہیں جبکہ دوسری قسم کے چھوٹے اور گول ہوتے ہیں۔اسے گھریلو باغوں میں آسانی سے اگایا جا سکتا ہے۔ اس کا پودا 40 سے 150 سنٹی میٹر لمبا ہوتا ہے۔

بینگن ایک ایسی سبزی ہے جس میں بہت سی بیماریوں سے لڑنے کی خصوصیات موجود ہیں، یہ کینسر جیسے جان لیوا مرض سے بچاؤ کے ساتھ ساتھ دیگر بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔

بینگن میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
بینگن میں حیاتین، معدنیات، اور ریشہ زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ خام یا کچے ایک کپ (82 گرام) بینگن میں 20 حرارے، پانچ گرام کاربوہائیڈریٹ، تین گرام ریشہ، ایک گرام لحمیات، روزانہ کی ضرورت کا 10 فیصد میگنیز، پانچ فیصد فولیٹ، پانچ فیصد پوٹاشیم، چار فیصد وٹامن ”کے“ اور تین فیصد وٹامن سی ہوتے ہیں۔ بینگن میں تھوڑی مقدار میں چند دیگر اجزا بھی پائے جاتے ہیں۔ ان میں نیاسین، میگنیشیم اور تانبا شامل ہیں۔

بینگن کے طبی فوائد:
انسانی صحت پر بینگن کے متعددمثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس میں موجود فائیٹو نیوٹرینٹ دماغ کی کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں۔ اس میں موجود وٹامن سی کی مقدار جسم میں بیکٹریا کے خلاف تحفظ فراہم کرتی ہے۔

جلدی کینسر سے بچاؤ:
ماہرین صحت کے مطابق وہ غذائیں جو جلد کے کینسر سے تحفظ فراہم کرنے میں بہترین ہیں ان میں سے ایک بینگن بھی ہے۔اس میں جلد کو بیماریوں سے تحفظ فراہم کرنے والی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔اس میں موجود کلوروجینک ایسڈ کینسر کے خلاف مدافعت کرتا ہے۔بینگن میں موجود اینٹی بیکٹریل اور اینٹی وائرل خصوصیات جسم میں خراب کولیسٹرول کی مقدار کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

خون میں شکر کا کنٹرول:
خوراک میں بینگن کی شمولیت خون میں شکر کی سطح کو کنٹرول میں رکھ سکتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ بینگن میں ریشے کی مقدار کا زیادہ ہونا ہے جو اپنی اصل حالت میں نظام انہضام میں سے گزر جاتا ہے۔ریشہ جسم میں شکر کے انجذاب اور انہضام کی رفتار کو کم کرتا ہے۔ اس سے شکر کی سطح مستحکم رہتی ہے اور اس میں اچانک اضافہ نہیں ہوتا۔ ٹیسٹ ٹیوب میں ہونے والی ایک تحقیق میں بینگن کے پولی فینول سے بھرپور مواد کی جانچ کی گئی۔اس سے ظاہر ہوا کہ یہ شکر کے انجذاب پر اثر انداز ہونے والے خامروں کی سطح کو کم کرتا ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کو تجویز کردہ غذا میں بینگن شامل ہوتے ہیں۔ اسی طرح ریشے سے بھرپور دیگر سبزیوں اور اناجوں کو شامل کیا جاتا ہے۔

وزن میں کمی:
بینگن میں ریشہ زیادہ اور حرارے کم ہوتے ہیں، اس لیے یہ وزن کم کرنے کے لیے شاندار غذا ہے۔ ریشے کے باعث غذا نظام انہضام کے راستے سے آہستہ گزرتی ہے اور اس سے پیٹ بھرا بھرا سا رہتا ہے، اس لیے جسم میں حرارے کم جذب ہوتے ہیں۔ زیادہ حراروں والے کھانے میں توازن قائم کرنے کے لیے بینگن کو شامل کیا جا سکتا ہے۔

بالوں کی افزائش میں معاون:
بینگن میں صحت مند انزائمز کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے جو ہیئر فولیسلز (بال پٹک)کے لیے بہترین ہے۔موجودہ دور میں جب بالوں کا گرنا بیماری کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے،ایسے میں بینگن کے استعمال سے بالوں کی صحت اور نشو و نما کوبہتر کی جا سکتی ہے۔بینگن میں شامل پانی کی مقدار بھی بالوں کی جڑوں کو مضبوط بنا کر انہیں گھنا کرتی ہے۔

جلد میں قدرتی نرمی لائے:
بینگن میں 92 فیصد پانی شامل ہوتا ہے۔جو جلد کو نرم و ملائم بنانے اور اس کی تازگی برقرار رکھتا ہے۔ چنانچہ جلدی صحت کیلئے پانی کی زیادہ مقدار رکھنے والی سبزیوں کو اپنی خوراک میں شامل کر نا چاہیے۔ اگر آپ بھی بے داغ اور جھریو ں سے پاک جلد کی خواہش مند ہیں تو بینگن کو اپنی خوراک میں لازمی شامل کریں۔

جلد کو چمکدار بنائے:
چہرہ تازہ اور چمکدار بھی اسی صورت نظر آتا ہے جب اسے مناسب نمی فراہم کی جائے۔ خشکی دور ہو گی تو جلد میں چمک بھی پیدا ہو گی اور یہ لچکدار بھی نظر آئے گی۔اپنے کھانوں میں بینگن کو شامل کرکے چہرے کی چمک میں اضافہ کریں۔

بڑھتی عمر کے اثرات کم کرے:
ماہرین حسن کے مطابق چہرے پر بڑھتی عمر کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بینگن کا استعمال بے حد مفید ہے۔اس کے چھلکے میں اینتھو سیاننز نامی اجزاء پائے جاتے ہیں جو بڑھتی عمر کے اثرات گھٹانے کے لیے بہترین مانے جاتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بینگن کے چھلکے میں وہ بہترین اجزاء شامل ہیں جو جلد کی جھریاں دور کرنے کے ساتھ ساتھ جلد سے متعلق کئی بیماریوں سے بھی نجات دلاتے ہیں۔

کولیسٹرول کے خاتمے میں مفید:
بینگن میں وافر مقدار میں فائبر موجود ہوتا ہے جو ہمارے کولیسٹرول کی سطح کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے، ایک تحقیق کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ بینگن میں موجود اینٹی آکسیڈینٹ اور کلورجینک ایسڈ ہمارے کولیسٹرل کی سطح کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے اور اِس کے علاوہ جگر کے مرض کے خطرے کو بھی کم کرتا ہے۔ اگر آپ کو کولیسٹرول کی بیماری ہے تو اِس کے لیے ضروری ہے آپ اپنی غذا میں بینگن کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔

امراض قلب سے بچائے:
بینگن امراضِ قلب سے بچنے کے لیے بھی بہت مفید ہوتا ہے، بینگن میں پائے جانے والے فائبر، وٹامن سی، وٹامن بی، پوٹاشیم اور دیگر اینٹی آکسیڈینٹ دِل کی بیماریوں کے خطرے سے بچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق بینگن دِل کے فعال کو بہتر بناتا ہے اور اِس کے علاوہ کولیسٹرول کی بڑھتی ہوئی سطح کو بھی کم کرتا ہے، لہٰذا اگر آپ دِل کی بیماریوں سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو آپ اپنی غذا میں بینگن کو لازمی شامل کرلیں۔

شوگر کنٹرول کرتا ہے:
بینگن میں فائبر اور پولیفینول کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں اور یہ دونوں بلڈ شوگر کی سطح کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، بینگن کو شوگر کے مریضوں کے لیے ایک صحت مند غذا سمجھا جاتا ہے لہٰذا گر آپ شوگر کے مریض ہیں تو آپ اپنی غذا میں بینگن کا استعمال ضرور کریں لیکن ایک بار اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کرلیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button