شخصیات

بے جی! بانو آپا…… آکاش

ہماری مائیں محنت کا منبع اور محبت کا سرچشمہ ہوتی ہیں جنہیں کبھی بھی ڈپریشن نام کی چیز نہیں ہوتی۔ جب فرصت ہی نہیں تو کلفت کیسی جس کی زندہ اور پائندہ مثال بے جی تھیں۔ یہ کیا؟ ابھی تو میں نے بسمہ اللہ ہی کی ہے میری امی جان مٹی کی چادر اوڑھ کر گپت شکوہ کناں ہیں۔گیارہ مہینے پہلے تین تاریخ کو میں بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئی تھی۔ میں بھی اٹھاسی برس کی تھی اور تو ہنس ہنس نہال تھا، اُداس سےّاں۔ آج کون سے دُکھ نے تجھے لکھنے پر مجبور کر دیا ہے جس پر نادم سا سر جھکا کر کہتا ”میری جانگلی زبان کی انسائیکلوپیڈیا ماں تُو تو ساجے ماجے اور گامے کی ماں تھی۔ تیرا مرنا تو بس مرنا تھا۔ ایک عالم کا مرنا کل عالم کی موت ہوتی ہے اور عالم بھی ایسا جس کا علم بالشفاء ہو۔ جس میں اشفاق کی شفق بھی تھی اور بانو کی ماممتا بھی۔ جن کے سامنے حرف بھی سجدہ ریز تھے اور نقطے بھی متکلم۔ وہ علم بالخیر کے قائل تھے علم بالقلم کے نہیں ”ماں بن کر لکھنا قاتل کی بھی اور مقتول کی بھی“۔
وہ تو باادب اور بے ادب سب کی ماں تھیں جو کار کے پیچھے لکھی اس تحریر سے سخت نفرت کرتیں ”یہ سب میری ماں کی دُعا ہے“۔ اس عبارت کو بے ادبی سمجھتیں ”یہ میرے ماں باپ کی دُعا ہے“ وہ تو اس دُعا کی قائل تھیں۔ ”یہ میرے والدین کی دُعا ہے“ اور پوری زندگی اس کی اسمِ با مسمٰی تصویر تھیں۔ یہ مائیں بھی کیسی ہستی ہوتی ہیں، ان کے پاؤں دبانے لگیں تو کہتی ہیں ”تیرا والد تھک کر آیا ہے اُس کے کندھے دبا دے“جیسے میری بے جی!کہہ رہی ہیں اپنے بابے (اشفاق احمد) کا قرض بھی چکا دے۔ اُسے بھی رخصت ہوئے تیرہ برس بیت گئے اور تو چپ کر اور چُھپ کر بیٹھ گیا۔کہانیاں لکھتا ہے اُس پر لکھ کر دکھا تو مانیں“۔
ماں کا حکم ہے سر آنکھوں پر۔ ادُاس سےّاں دوراہے چوراہے پر پریشان بدحال سا کھڑا، ہر آنے جانے والے سے پوچھتا ہے ”نی میں جھوک رانجھن دی جاناں نال میرے کوئی چلے“۔ اے بھائی! ویر جی! بزرگو! ہم کو داستاں سرائے کی راہ سجھا دیں۔ بابا جی سے ملنا ہے۔ کالے کوسوں کا سفر”ننگے پاؤں“ کر کے یہاں تک پہنچا ہوں“۔ سلیم شاہی کھسہ بغل میں دبائے، چھالے دکھاتا ہوا جن سے دوگام چلنا بھی دوبھر تھا ”یہ پکی رسید ہے میرے پاس“۔ پانچ روپے کا نوٹ دکھاتے ہوئے ”یہ بھی کسی بابے نے کاٹ کر دی ہے انگوٹھا لگا کر“جس پر سبھی نفی میں سر ہلا کر کہتے ”پتا نہیں“ جس پر وہ کہتا ”حیرانگی کی بات ہے۔ آپ کو بھی پتا نہیں؟بابے کہاں رہتے ہیں اور کیوں رہتے ہیں اور کتنی دیر تک رہتے ہیں“، جس پر کسی کی آوازگونجتی ہے ”او باولے یہی داستاں سرائے ہے۔ بابا جی تیرا انتظار کر رہے ہیں“۔
”ہائیں“ کھُسہ بانکے جوان گبھروگارڈکے ہاتھ میں تھماتے ہوئے (جہاں بھی ہو خوش رہے، خوش حال رہے)۔ اس نے بھی یوں پکڑا جیسے جوتا نا ہو گلدستہ ہو۔ دھڑکتے دل کو قابو کرتے ہوئے ”سچ مچ چلا جاؤں“وہ ہنستے ہوئے ”جا چلا بھی جا۔کچھ نہیں کہتے“۔ ملونگڑے کی طرح پاؤں رکھتا ہوا جب چوکھٹ پر پہنچا تو جھکائی لے کر پھر واپس بھاگ آیا ”یار اِن کو تو نیچے پھینک۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے“۔ جال میں پھاہی لگنے والے پرندوں کی مانند ڈرتے ہوئے جو چوگا بھی چگنا چاہتے ہیں اور بچنا بھی ان کا مقصود ہوتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے جو جال ”گڈریا“، ”من چلے کا سودا“ اور ”زاویہ“ کے نادرو نایاب رزقِ خطیر سے بھرا ہوا ہو اس کی طرف تو کل خدائی کشاں کشاں چلی آتی ہے۔ جس کے ماننے والوں نے کبھی بھی اُن کو جاننے کی کوشش ہی نہیں کی۔
ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو ادھڑے ہوئے صوفوں کو دیکھ کر لگا جیسے اس مسافر خانے میں ہزاروں کا آنا جانا ہے۔ میلے کا سا سماں پاؤں رکھنے کو جگہ نا تھی۔ اوّل الہٰی موہر صف میں بیٹھے نورالحسن نے شوخی سے اُسے آڑے ہاتھوں لیا ”جا چلا جا یہ میرے مائی باپ کا گھر ہے“ جس پر اُداس سیّاں ٹھنڈی آہ بھر کر ”نہیں جی یہ تو میرے بھی ہیں۔ سن ستر سے ہمارے گھر آ رہے ہیں۔ قدیمی قد آور میاں جی کے بوسٹر کی وجہ سے سگنل بھی صاف آتے تھے“ جس پر وہ چھیڑ کر کہتا ”وہ تیرے گھرآ ہی نہیں سکتے بس میرے ہیں“ جس پر وہ ہنستے ہوئے ”اب تو دنیا کے ہرگھر میں ہر ایک کے پاس آتے ہیں، وٹس ایپ اور ایف بی کے ذریعے۔ جتنے اقوال ِ زریں بابا جی کے وائرل ہوتے ہیں اور لوگ ڈسکس کرتے ہیں شائد ہی کسی پاکستانی کو یہ عزت نصیب ہوئی ہو“ ان کی اس پنجہ آزمائی سے تنگ پڑ کر بابا جی نے ڈانٹ کر کہا ”حسنی! اِسے دیکھو“ جس پر اس نے چیل کی طرح جھپٹا مار کر اُس کی مُنڈی پکڑ لی۔ آنکھوں میں تِیر ہوتے ہوئے ”بابا جی طمع، لالچ، لوبھ کی نانک چندی‘ نانک شاہی اور نانک پُتلی پھیل کر زمین کا ڈھیلا بن چکی ہے“۔
حکم ہوا”اسے سوئی کی نوک کے نقطے پر لا“ پر وہ اُداس سیّاں ہی کیا جو سوئی کو چھوڑ سلائی (تکلے) پر تند ڈال کر بیٹھ ناں جائے، بابا جی کے چرخے پر جس کے ساتھ شیلف پر گوتم بدھ کی پینٹنگ رکھی تھی۔ بابا جی خود بھی تو کوئی گیانی چندرما ہی تھے جو حقوق العباد کے شیدائی جس سے حقو ق اللہ بھی پورے ہوتے ہیں۔ چرخہ کرتے ہوئے آکاش کو ایک دم جھٹکا سا لگا۔ یہ سب کچھ تو پہلے سے دیکھا بھالا ہے۔ جسے Deja vu کہتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس نے خواب میں دیکھا تھا۔ خواب کی حقیقت اور حقیقت کا خواب سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ابھی اسی وہم وسوسے میں الجھا ہوا تھا جب بابا جی! نے کندھے پر تھپکی دی اور ساتھ میں جلیبی کا آدھ کھایا ٹکڑا ”یہ کھا کر دیکھ بڑی کرُکری ہے“ جس پر حسنی بھاگ کر پاس آتے ہوئے ”اُداس سیّاں بابے کا جھوٹا ہے۔ سوچ لو۔ شوگر‘ ہائی بلڈ پریشر اور کینسر بھی ہو سکتا ہے“۔ اس سے پہلے کہ وہ چھین لیتا اُس نے الحمد اللہ پڑھ لی پھر تو کیا کھل جا سِم سِم۔ الجھی ہوئی کتھا کہانیاں، جگر جگر جگ بیتیاں اور ہڈ ورتیاں بننے لگیں۔ اتنے میں مغرب کا وقت ولیوں والا بنیرے پر آ کر بیٹھ گیا۔ حسنی جلدی سے پینترا بدلتے ہوئے ”اوئے کالی بوتھی‘ کالے کرم مغرب کا وقت ہے نماز ہی پڑھ لے“۔ مسلسل سفر کا مارا ہوا اُداس چیخ پڑا”نہیں‘ میں نے نہیں پڑھنی“جس پر ڈرائنگ روم سے ڈائنگ روم میں قدم بڑھاتے ہوئے بابا جی نے مڑ کر کہا ”تو نے اس کی نماز کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔ تو اپنی پڑھ۔ یہ تو ویسے بھی اُداس مسافر ہے اور سیّاں بھی“ایک سال بعد زاویہ کے ذریعے بلاوا آیا تو بلھے شاہ کا بردہ حاضر تھا جس کے پاؤں میں گھنگھرو تو نہیں تھے پر کچھ تھا جس کی چھن چھن نے سب حاضرین ِ محفل کو مبہوت و حنوط کر دیا تھا۔ ازلی خاموشی میں چھنکتی پازیب جیسی کھنک نے اُداس سیّاں کو بھی حیران کر دیا۔ یہ جینز پر چھنکتی کرُتی کس کی ہے اور اُس نے یہ کفنی کیوں پہن رکھی ہے جس کا غور سے معائنہ کرتی ہوئیں چند چنچل لڑکیوں نے بھی ”واؤ“کہا تھا ”کنجر ی بنیاں میری عزت ناں گھٹدی مینوں نچ کے یار مناون دے“گھنگھرو لکھنا آسان ہیں پہننا اُس سے مشکل اور انہیں سجا کر سُر‘لے اور تال سے بجانا کلا کا سنجام ہے۔ وہ ماہ و سال اور حال و قال کی نا ختم ہونے والی دھمال میں پگ بھرتا نرت دے رہا تھا جب بابا جی نے پوچھا ”ماسیا کیا کرتے ہو؟“
”جی“۔۔۔۔۔۔۔”جی کہانی لکھتا ہوں“
مسکراتے ہوئے ”لاؤ دکھاؤ، کیا لائے ہو۔ واہ واہ جیسے اٹھان دی تھی انجام بھی ویسا ہی کرتے“۔
”آپ لکھ دیں“۔
”ہم اس مقام سے بہت دور جا چکے ہیں کچھ لوگ ملیں گے جو چھپرکا انجام لکھ دیں گے“ یہ سن کر اُداس سےّاں سہم سا گیا ”سب کچھ (پاکستان) بنا بنایا مل گیا ہے آپ لوگوں کو۔ زیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی“ جس کے بارے میں بابا جی نور والے فرمایا کرتے تھے”خدا سے کسی نے پوچھا اے رب العالمین کوئی ایسی چیز جو آپ کے پاس بھی نہ ہو تو خدا نے کہا میرے پاس عجز اور آنسو نہیں ہیں۔ یہ دونوں خوبیاں میں نے بنی آدم کو عطا کی ہیں جو شخص بھی انہیں میرے در پر لے کر آئے گا میں اُس پر دنیا جہاں کی نعمتیں نچھاور کر دوں گا۔ شائد یہی دونوں نعمتیں اس گھر اور در کا خاصا تھیں تبھی تو کھانے والے بھی تھے اور کھلانے والے بھی۔ لانے والے بھی تھے اور لے جانے وا لے بھی۔ اس راجدھانی میں کوئی فرق تفریق نہیں تھی، نا کوئی بادشاہ تھا اور نا ہی کوئی گدا۔ سب برابر تھے۔ چھوٹے بڑے کا کوئی پیمانہ نہیں تھا، سبھی فرش نشیں اور وہ شہہ نشیں غیب کے اسرارو رموز سے پردے اٹھاتے ہوئے جنہیں بچے بالک اور بڑے دل سے سنتے اور سر دھنتے۔ وہ گھر بڑے کمال کے ہوتے ہیں جہاں کوئی بھی اپنا حق سمجھ کر گدڑی ڈال مالک بن بیٹھے۔ داستاں سرائے اس معاملے میں تا حد نگاہ وسیع وعریض تھا۔
اسی اثنا میں قہوے کا کپ تھا جس میں ہری بھری تازہ پتیاں بے جی کی دانش مندی کا ثبوت تھیں۔ایسا بے مثل کہوہ نا پیا ہے اور نا ہی پینے کی تمنا ہے جس کے عوض معاوضے میں اُداس سےّاں نے اُن کے قدموں میں کھدر کی چندیاں ر کھ دیں ”بے جی! اسے سوئیکار کر لیں۔ انت جی نے تو تین دن بعد ہی واپس کر دیا تھا، ہاتھ جوڑتے ہوئے ”مہاراج ساڈے کس کم دا“ جس پر ازلی ابدی اصلی نسلی حسنی راستے میں حائل و مائل جھٹ بول پڑا”ماں جی! یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ یہ تو کھری کھوٹی سی کچی پکی تندیں ہیں جنہیں کھدر سمجھ بیٹھا ہے“ جس پر بے جی گہری سوچ میں پڑ کر فرمانے لگے ”بابا جی! نور والے فرمایا کرتے تھے جس نے کھدر نہیں ہنڈایا اور بیٹی کی پرورش نہیں کی اس نے حیاتی میں کچھ نہیں پایا“۔ بات بنتی دیکھ کر اُداس سیہاں نے کہنے میں دیر نہیں کی ”ماں جی! بابا جی سے کہیں۔اس کھدر کو رنگ دیں۔ پیلے کو نیلا رنگ دیں“۔ شائد اسی رنگ کی تلاش میں وہ کبھی کبھار داستاں سرائے سر تا پاؤں حاضر ہوتا۔ کوئی خوبصورت عصر تھی جب اثیر خاں نے بے جی کے پاس بیٹھے ہوئے دیکھ لیا ”دنیا آئی اور اس در سے جھولیاں بھر بھر لے گئی۔ تو کیسا بدبخت ہے جیسا آیا تھا ویسا ہی ہے۔ چل بھاگ جا اور کبھی مت آنا“ جس پر بے جی دلار سے انہیں ڈانٹتے ہوئے ”ناں۔ میرے بچے کو تنگ ناں کر“ ماں تو پھر ماں ہوتی ہے جو پاس بیٹھی بہو بیٹی سے کہہ رہی تھیں جو گھر کے بنے پھولوں کا گلدستہ لائی تھیں ”بلے بلے بڑا پیارا بنایا ہے۔ بٹیا دُرود شریف کے ساتھ ساتھ یا حیی یا قیوم کا ذکر فکر بھی جاری رکھیں۔ اللہ کریم اور آسانیاں فرما دیں گا۔ خدا نے آپ کے ہاتھ پر ہزاروں کا رزق لکھ دیا ہے، بانٹتے رہنا، پھولوں اور خوشبو کی طرح“۔
انہی گل رنگ گلزار راستوں پر آتے جاتے سترہ سال کیسے بیت گئے پتا ہی نہیں چلا۔ داستاں سرائے کے سامنے رُک کر ”اسلام و علیکم اے اہل ِ علم وہنر“ کا ذکرِ خیر فرض میں شامل تھا، دُعا کی طرح۔ دُعا جس کے لیے عربی فارسی سے بے نیاز کچھ کہنا سننا لازم ہے۔ ایسے ہی یکم فروری کا دن ہو گا جب اُداس سےّاں نے دُعا کے لیے در کھولا تو حسب عادت مفتی صاحب سب سے پہلے قاسہ لیے کھڑے تھے۔ پتا نہیں اُس دن اُسے کیا ہوا مفتی جی کو دھکا دے دیا جس پر پاس کھڑے باباجی نے تھپڑ مار کر کہا ”اوئے بدبختا‘ اوئے بدنصیبا‘ تو نے مفتی کو دھکا دیا ہے۔کیا کرے گا اپنی اس الحمد شریف‘ قُل شریف‘ درود شریف اور غریب نواز‘ میاں نواز شریف کا“، جس پر اُداس سےّاں پاؤں میں گر کر گڑ گڑاتے ہوئے ”بابا جان! مفتی صاحب نے الحمرا میں بلا کر کچھ کہنے سننے کو پانچ منٹ نہیں دیے تھے۔ جان کی امان پاؤں تو آج یہ کلام نبیؐ کے وسیلے سے میں اپنی امی جان کے سپرد کرتا ہوں جس کے مہین بازوؤں کا مفلر گلے میں ڈال کر میں دنیا جہاں سے بے خبر نچنت سا ہو جاتا تھا۔آکاش کے نام کرتا ہوں جو اٹھارہ کروڑ کی طرح زندہ ہو کر بھی مردوں میں شمار ہوتا ہے۔ اپنی بے جی! کے سپرد کرتا ہوں جن کا در آج بھی میرے جیسے نکموں کے لیے کھلا ہوا ہے بلکہ اُس جیسی کتنی ہی ماؤں کے نام کرتا ہوں جن کے مزار پر ”پیا نام کا دیا“ نہیں جلتا۔
اس خیال نے جیسے اُداس سےّاں کے اندر ایک دھماکہ سا کر دیا۔ اب تو روزمرہ کا معمول ہیں اور کہیں بہت گہری دیوار گری۔ باخدا یہ کیا ماجرا ہے میری بے جی! تو ابھی زندہ ہیں۔ دھڑکتے دل سے اثیر خاں سے پوچھا ”ماں جی!“ ”تین دن تک گھر شفٹ ہو جائیں گے“ جی بالکل تین دن بعد عصر کے وقت جو نیک لوگوں کے لیے وقت کی گواہی ہے ”والعصر“ قیام باقی بلا میں مقیم ہو گئے ”نی میں جھوک رانجھن دی جاناں“ جن کے دل کی بند مٹھی کو کسی نے کھول کر دیکھا ہی نہیں جس پر بہت سندر اور بڑے ارمان سے لکھا تھا ”اشفاق تیری زندگی میری بندگی ہے“۔
صد افسوس ایسی شبانہ روز ہستیوں کے لیے کسی بھی یونیورسٹی میں ان کا grave stone ہونا، اس درس گاہ کی علمی قدر و قامت میں بڑھاوا دینے کے سوا کیا ہو گا یا کسی باغ میں برگد کا گھنا سایہ ہی ہو سکتے ہیں۔ ہم تو ان جیسی کتنی ہی معتبر ہستیوں کو زندگی میں ہی فراموش کر دیتے ہیں۔ وہ فقیر درویش ہی کیا جو دنیا سے دور ہو جائے، اسی لیے تو ماڈل ٹاؤں کے شہر خاموشاں کے میلے میں گُم گشتہ راز بن چکے ہیں۔
آج یہ عوامی ڈیرہ، یہ منو رنجن، یہ داستاں سرائے، یہ بیٹھک، یہ سودو زیاں سے بے خبر غریبوں کی مسجد…… امیروں کا مندر…… بیماروں کا مطب…… اور میرے جیسے کوروں کا مکتب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا جن کا فیض جاری رہے گا۔ بابے بہت ہوں گے مگر تہذیب اور روایات کا یہ اترا ہوا سمندر کبھی واپس نہیں آ ئے گا جو بر لبِ ساحل اپنی امر تحریروں کے موتی مرجان چھوڑ گئے ہیں۔
اللہ بخشے بابے سیاہ پوش نے کوئی لفظ الفاظ‘ کوئی بندش‘ کوئی تشبیح، استعارہ چھوڑا ہی نہیں بندہ حسن تحریر اور شوخیئ تقریر کے لیے لکھ ہی سکے۔ دُعا دینی چاہیے جو نیکی تو اپنی ہوتی ہے لیکن صدقہ جاریہ کی طرح اوروں کے ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہے۔ صاحبزادہ ڈاکٹر علی محمد نور والوں کی فرمائش پر۔

Leave a Reply

Back to top button