HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » ادب » تابوت، حصّہ دوم …….. ڈاکٹر سلیم خان

تابوت، حصّہ دوم …….. ڈاکٹر سلیم خان

پڑھنے کا وقت: 139 منٹ

کیلگیری میں نادرہ کا چہیتا گھوڑا پہنچ چکا تھا۔ یاسر اس انعامی مقابلے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا جس سے اس کو مقبولیت حاصل کرنی تھی۔ اخبار میں دیا جانے والا اشتہار تیار کر کے اس نے کیلگیری کے دو بڑے اخبارات کیلگیری پوسٹ اور کناڈا ایج کو ای میل سے روانہ کیا۔ اس کا نرخ دیکھ کر کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی کر دی۔ اس اشتہار میں نادرہ کے گھوڑے کی نہایت خوبصورت تصویر نمایاں تھی اور کیلگیری میلہ میں شریک ہونے والے شہ سواروں کو چیلنج کیا گیا تھا اگر وہ اس گھوڑے کو قابو میں کر لیتے ہیں تو یہ ان کا ہے ورنہ انہیں اپنے گھوڑے سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ مقابلے میں شریک کرنے کا اختیار یاسر نے اپنے پاس رکھا تھا اور اس کے لیے عمدہ گھوڑے کی شرط تھی یعنی اگر کوئی شہسوار مردار گھوڑا لے کر آئے تو وہ اس کی درخواست مسترد کرنے کا حق محفوظ تھا۔

اس تیاری کے دوران اس کا ذہن کسی اور جانب نکل گیا۔ اس نے اپنے بیگ میں سے نادرہ کا اور اپناپاسپورٹ نکالا اور اسے آس پاس رکھ کر سوچنے لگا۔ ایک کینیا کا پاسپورٹ تھا اور دوسرا ہندوستان کا۔ یاسر کے پاسپورٹ پر اسے غیر شادی شدہ بتلایا گیا تھا اور نادرہ کے پاسپورٹ پر ہنوز اس کے شوہر کام صغیر زیدی لکھا ہوا تھا جسے تبدیل کروانے کا موقع ان لوگوں کو اس سفر سے پہلے نہیں مل سکا تھا۔ اس نے سوچا اگر کوئی اس سے کوئی سوال کرے کہ یہ نادرہ تمہاری کون لگتی ہے؟ تو کیا جواب دے گا؟ اور اگر کوئی ثبوت مانگے تو پاسپورٹ اس کی تردید کر دیں گے۔ یاسر کے لبوں پر ایک شریر مسکراہٹ پھیل گئی۔

یاسر نے اس کے بعداس ہوٹل کو فون لگایا جس میں ان کے کمرے مختص تھے اور کہا کہ وہ اپنی بکنگ کینسل کرنا چاہتا ہے۔ یہ سن کر نادرہ کے کان کھڑے ہو گئے۔ بکنگ کلرک بولا جناب آپ یہ اطلاع بہت تاخیر سے دے رہے ہیں اس لئے آپ کی پیشگی ادائیگی میں سے ایک دن کا کرایہ کٹ جائے گا۔ یاسر بولا کوئی بات نہیں آپ ایک دن کا کرایہ میرے کریڈٹ کارڈ سے نکال لیں۔ وہ بولا جناب معاف کیجئے یہ کام آپ کو کرنا ہو گا آپ ہماری ویب سائٹ پر جا کر ایک دن کرایہ ادا کرنے کے بعد کل سے آگے کی بکنگ کینسل کر دیں حساب برابر ہو جائے گا۔ یاسر بولا ٹھیک ہے۔

نادرہ سامنے صوفے پر بیٹھی یہ سب دیکھ رہی تھی۔ اس کے لیے سمجھنا محال تھا کہ ان کا گھوڑا کیلگیری پہنچا ہوا ہے اور وہ ہوٹل کی بکنگ منسوخ کر کے واپس جا رہے ہیں۔ اس نے درمیان میں کچھ پوچھنے کی کوشش کی تو یاسر بولا اب آپ تھوڑی دیر خاموش رہیں میں فی الحال مصروف ہوں۔ نادرہ ٹی وی کھول کر فلم دیکھنے لگی۔ یاسر نے اس کے بعد اسی شام سے دو مختلف ہو ٹلوں میں دو کمرے مختص کئے۔ ان میں سے ایک اس کے اپنے نام پر تھا اور دوسرا نادرہ کے نام پر۔ دونوں کی تفصیل ہو بہو پاسپورٹ کے مطابق تھی۔

نادرہ نے جب اپنا نام نادرہ صغیر زیدی سنا تو وہ چونک پڑی اور جب اس نے اپنا نام ناصر کے بجائے یاسرالجابری لکھوایا تو اس کو لگا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ ان دونوں افراد کے درمیان بظاہر کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس کے بعد اس نے پرانی بکنگ کینسل کرائی اور نادرہ کو اپنا منصوبہ سمجھا دیا۔ نادرہ بولی چھوڑو ہم لوگ مزہ لینے کے لیے آئے ہیں اس لئے اس جھنجھٹ میں پڑنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ اس نے کہا مجھے ڈر ہے کہ اس پردیس میں ہم لوگ کسی مصیبت میں نہ پھنس جائیں اور لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔

یاسرنے کہا دیکھو نادرہ زندگی کا اصلی مزہ مہم جوئی میں ورنہ کیڑے مکوڑوں کی مانند زندگی گزارنے سے کیا فائدہ؟ نادرہ ڈرتے ڈرتے راضی ہو گئی۔ ہوائی اڈے پر پہنچنے کے بعد دونوں نے الگ الگ اپنے بورڈنگ کارڈ لئے اور مختلف سیٹوں پر بیٹھ گئے۔ بقول یاسر ان کے درمیان اب تین دنوں تک کوئی تعلق نہیں تھا اور انہیں صرف فون کے ذریعہ آپس میں رابطہ رکھنا تھا۔

کیلگیری ہوائی اڈے پر دونوں ہو ٹلوں کی گاڑیاں موجود تھیں جن میں بیٹھ کر وہ لوگ اپنے اپنے کمرے میں پہنچے۔ کیلگیری کے اندر چہار جانب جشن کا ماحول تھا۔ یہ ہفتہ کیلگیری کے لیے بہت مختلف ہوتا تھا۔ گو کہ تعطیلات نہیں تھی پھر بھی شام ہوتے ہی لوگ پکنک کے موڈ میں آ جاتے۔ قلب شہر میں جہاں ان کے ہوٹل تھے شام ہوتے ہی باہر فٹ پاتھ پر شامیانے لگ جاتے جن میں کاؤ بوائے بنے ہوئے لوگ آپس میں خوش گپیاں کر رہے ہوتے۔ اکل و شرب کا سلسلہ رہتا کام دہن کا بازار گرم ہوتا۔

اس کیف و طرب کے رومانی ماحول میں نادرہ کو تنہائی بہت کھل رہی تھی۔ ناصر کا نادرہ سے اس طرح جدا ہو جانا اس طبیعت پر گراں بار تھا لیکن وہ جانتی تھی کہ ناصر کو کسی ایسی بات پر راضی کرنا جو اس کی مرضی کے خلاف ہو تقریباً ناممکن ہے۔ نادرہ نے پہلے ہی دن ایک شاندار گھوڑا خرید لیا تھا۔ ذرائع ابلاغ میں یاسر کا چیلنج موضوعِ گفتگو بنا ہوا تھا۔ اخبارات میں اس پر خطوط بلکہ مضامین بھی لکھے جانے لگے تھے، ٹیلیویژن والے اس کا انٹرویو لینے پہنچ گئے تھے۔ میڈیا کی بدولت یاسر گویا کیلگیری میلے پر چھا گیا تھا۔

دو دن کے بعد سے لوگوں نے مسابقہ میں حصہ لینا شروع کیا اور اسی کے ساتھ یاسر کے اصطبل میں مفت کے گھوڑوں کا اضافہ شروع ہو گیا۔ یاسر اتنے گھوڑے جیت چکا تھا کہ اگر اب کوئی اس کا گھوڑا جیت کر بھی لے جاتا تو اسے کوئی نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہی تھا لیکن اتنے سارے لوگوں کو ناکام ہوتے ہوئے دیکھ کر شرکاء کا حوصلہ پست ہونے لگا تھا اور مسابقین کا سلسلہ ٹوٹنے لگا تھا۔ تیسرے دن صرف دو شرکاء اپنے اپنے گھوڑوں کے ساتھ آئے تو ان کے ساتھ اخبار اور ٹی وی والے بھی آ گئے۔

جواب دیجئے