HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » ادب » تابوت، حصہ اول ……. ڈاکٹر سلیم خان

تابوت، حصہ اول ……. ڈاکٹر سلیم خان

پڑھنے کا وقت: 139 منٹ

پاروتی

یاسر نے ممبئی کے تاج ہوٹل کا نام سن رکھا تھا اس کا ارادہ وہاں رک کر آگے کی منصوبہ بندی کرنا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ سب کچھ اس قدر تیزی کے ساتھ ہو گیا تھا کہ اسے کچھ غور و خوض کا موقع ہی نہیں ملا۔ وہ غصے میں اس قدر باؤلا ہوا جا رہا تھا کہ چند دنوں تک کچھ بھی سوچنے سمجھنے کے موقف میں نہیں تھا لیکن ہوائی اڈے پر انتظار کرنے والوں کی بھیڑ میں جیسے ہی یاسر نے اپنے دیرینہ دوست شنکر کو دیکھا اس کی کیفیت بدل گئی۔ شنکر اس کو دیکھ کر آگے بڑھا اور اس سے لپٹ کر رونے لگا۔ یاسر کے لیے یہ ناقابلِ یقین واردات تھی۔ ان دونوں کے درمیان آپس میں کوئی گفتگو نہیں ہوئی تھی۔ شنکر نے اس کے ہاتھ سے ٹرالی لی اور اپنی گاڑی کی جانب بڑھا۔

جیسے ہی وہ لوگ سنہرے رنگ کی چمچماتی بی ایم ڈبلیو کے قریب پہنچے اندر سے پاروتی باہر آ گئی۔ اس کے ہاتھوں میں شیرخوار بچہ تھا۔ وہ بولی معاف کرنا بھائی صاحب کیلاش کو کل سے بخار ہے اس لئے مجھے گاڑی میں بیٹھنا پڑا۔ یاسر نے شنکر کی جانب دیکھا اور ہاتھ بڑھا کر کیلاش کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ ننھا کیلاش حیرت سے اجنبی آدمی کو دیکھنے لگا۔ جب یاسر نے اسے میرا بیٹا کہہ کر بوسہ لیا تو وہ ہنسنے لگا۔

یاسر بولا کون کہتا ہے یہ بیمار ہے؟

شنکر نے تائید کی جی ہاں یاسر وہ بیمار ضرور تھا لیکن شاید اپنے چاچا کے لمس نے اس کو شفا یاب کر دیا ہے۔ دیکھو پاروتی میں نہیں کہتا تھا کہ میرا دوست یاسر جادوگر ہے۔

پاروتی بولی یا سر؟ یہ یاسر کون ہے تم نے تو کہا تھا ……………

جی ہاں یاسر بولا اس نے ناصر کہا ہو گا۔ یاسر یا ناصر ایک ہی بات ہے۔

پاروتی کی سمجھ میں یہ منطق نہیں آئی پھر بھی اس نے تائید میں گردن ہلا دی اور کہا اب اسے مجھے دے دیجئے اور آپ اندر گاڑی میں بیٹھیے۔

ڈرائیور گاڑی کے اندر سامان رکھ چکا تھا۔ یاسر اس کے برابر میں بیٹھ گیا۔ شنکر اور پاروتی پیچھے والی نشست پر بیٹھ گئے۔ کیلاش ان کے درمیان اپنے کھلونوں سے کھیل رہا تھا۔ یاسر کا سارا غم پلک جھپکتے ہرن ہو چکا تھا۔ اس کو ایسا محسوس ہی نہیں ہو رہا تھا کہ وہ کسی اجنبی ملک میں ہے۔ وہ تو گویا وہ اپنے خاندان میں لوٹ آیا تھا۔ بہت عرصے بعد کوئی اس قدر اپنائیت سے اسے ملا تھا۔ تقریباً ایک گھنٹے تک مختلف باتیں کرنے کے بعد یاسر کو ہوٹل تاج محل یاد آیا۔ اس نے پوچھا ہم لوگ کہاں جا رہے ہیں؟

پاروتی نے چونک کر پوچھا کہاں کیا مطلب؟ ظاہر ہے ہم لوگ اپنے گھر جا رہے ہیں اور کہاں؟

یاسر نے گھبرا کر کہا وہ تو ٹھیک ہے مگر……

ہاں ہاں میں سمجھ گئی آپ پہلی مرتبہ آ رہے ہیں نا پاروتی بولی۔ در اصل ہمارا گھر ممبئی سے ۱۵. سو میل کے فاصلے پر پونے شہر میں ہے۔

شنکر یاسر کے حیرت کی وجہ سمجھ گیا وہ بولا تاج کا مسئلہ میں نے حل کر دیا ہے۔

پاروتی پھر چونک کر بولی تاج؟ ؟ ؟

شنکر نے بات بدلتے ہوئے کہا تم تاج کو چھوڑو اور یہ بتاؤ کہ دودھ کی بوتل کہاں ہے؟ میرا خیال ہے کیلاش کو بھوک لگ رہی ہے۔

پاروتی بولی دودھ کی بوتل؟ میں وہ تو جلدی میں گھر پر ہی بھول گئی۔

کوئی بات نہیں شنکر بولا۔ ناصر اب تم صرف آگے سڑک پر اپنی نظر رکھو تمہارا بھتیجا پیٹ پوجا کر رہا ہے۔

یاسر بولا ہاں بابا سمجھ گیا لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ہم لوگ بھی درمیان میں کچھ دیر کے لیے کسی ہوٹل پر رک کر چائے شائے پی لیں۔

ڈرائیور بولا جناب آپ فکر نہ کریں پانچ منٹ کے اندر ہم لوگ اس ممبئی پونے ہائی وے کے ایک شاندار موٹیل میں ہوں گے۔

شنکر نے کہا دیکھو یاسر ……..میرا مطلب ہے ناصر ویسے تو یہ ہمارا ڈرائیور ہے لیکن جب یہ اسٹیرنگ کے پیچھے ہوتا ہے تو ہم پر اس کی مرضی چلتی ہے اس پر ہمارا کوئی زور نہیں چلتا۔ یاسر کو دور سے موتی محل کا بورڈ نظر آنے لگا تھا۔

موتی محل میں میلہ لگا ہوا تھا۔ ڈرائیور اتر کر سیدھا پرچون کی دوکان میں گیا اور اس سے پہلے کہ وہ لوگ ریسٹورنٹ میں کسی مناسب میز کا انتخاب کرتے وہاں سے دودھ سمیت بوتل لے آیا۔ یاسر بولا یہ آدمی عقلمند معلوم ہوتا ہے اسے تو سرخ مثلث میں ہونا چاہئے تھا۔

پاروتی نے پوچھا سرخ مثلث؟ یہ سرخ مثلث کیا ہے؟

اب شنکر کے لیے ایک نئی مصیبت کھڑی ہو گئی۔ وہ بولا پاروتی یہ آج تمہیں کیا ہو گیا ہے جو ہر بات کو پکڑ لیتی ہو؟

یاسر سمجھ گیا کہ اس سے غلطی ہو گئی۔ وہ بولا بھابی وہ در اصل بات یہ ہے کہ نیروبی میں اس کا اور میرا پسندیدہ ہوٹل سرخ مثلث ہوا کرتا تھا۔ میں نے موتی محل کو دیکھا تو مجھے وہ یاد آ گیا۔

پاروتی بولی نیروبی؟ آپ نیروبی کیوں پہنچ گئے؟

شنکر نے سوچا عجیب مشکل ہے۔ وہ بگڑ کر بولا کیوں نیروبی کوئی آسمان میں ہے؟ کہ اگر انسان وہاں جا نہیں سکتا؟ اور ایک بار چلا گیا تو لوٹ کر آ نہیں سکتا؟

پاروتی منہ بسور کر بولی آپ میرے اس معمولی سے سوال پر اس قدر ناراض کیوں ہو رہے ہیں؟ بتانا ہے بتائیے۔ نا بتانا ہے نہ بتائیے۔ ویسے آپ ہی نے تو کہا تھا کہ ناصر بھائی دبئی سے آ رہے ہیں۔

یاسر بولا جی ہاں یہ بھی درست ہے کہ میں فی الحال دبئی سے آ رہا ہوں لیکن ہم دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ دنیا بھر کی سیر کی ہے۔ ہم لوگ جب نیروبی گئے تھے تو وہاں ڈھونڈنے سے کوئی ہندوستانی ہوٹل نہیں ملتا تھا بس ایک سرخ مثلث تھا جہاں ڈھنگ کا کھانا مل جاتا تھا اس لئے ہم لوگ صبح میں ناشتہ اور شام کا کھانا وہیں کھاتے تھے۔

پاروتی خوش ہو کر بولی میں سمجھ گئی کہ آپ کو بھی ہندوستانی پکوان بہت پسند ہیں۔

جواب دیجئے