تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

تارا میرا: صدیوں سے استعمال ہونے والا پکوان سے علاج تک نہایت مفید

کچے تارا میرا میں 92٪ پانی، 4 فیصد کاربوہائیڈریٹ، 2.5 فیصد پروٹین ہوتا ہے۔ 100 گرام تارا میرا میں 25 کیلوریز ہوتی ہیں۔ اس میں وٹامن اے، وٹامن سی، اور غذائی معدنیات کیلشیم اور میگنیشیم کی خاصی تعداد پائی جاتی ہے۔جبکہ ایروسک ایسڈ 33 سے 45 فیصد پایا جاتا ہے۔ اس کے بیجوں سے 30 سے 35 فیصد تک تیل حاصل کیا جاسکتا ہے جو جلانے اور پکوان کے علاوہ جلد پر ملنے کے کام آتا ہے۔ اس کا تیل اینٹی سوزش اور جراثیم کش ہوتا ہے۔

تارامیرا چنے یا جوکے ساتھ بویا جانے والا ایک قسم کا پودا ہے۔اسکے کئی نام ہیں۔ اسے ترمرا بھی کہتے ہیں۔ پنجابی میں جواں بولتے ہیں، جر جیر بھی کہا جاتا ہے۔جبکہ انگریزی میں اس کا نام Roquette۔ اس کا نباتاتی نام sativa Erucaاور اسکا فیملی نام Cabbageہے۔ اس کا پودا عموماً پودا 25 سے 50 سینٹی میٹر لمبا ہوتا ہے۔تارا میرا کے پھل کا سائز 2.5 سینٹی میٹر ہوتا ہے اور اس کے پتے مولی کی طرح، مگر سائز میں چھوٹے ہوتے ہیں۔ اس کے بیج سے جو تیل نکلتا ہے، وہ اپنے خواص اور فوائد کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس کا تیل اچار، سلاد اور پکانے کے تیل کے علاوہ بائیو ڈیزل کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس میں ایندھن کی اچھی خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔

تارا میرا کے کیمیائی خواص
کچے تارا میرا میں 92٪ پانی، 4 فیصد کاربوہائیڈریٹ، 2.5 فیصد پروٹین ہوتا ہے۔ 100 گرام تارا میرا میں 25 کیلوریز ہوتی ہیں۔ اس میں وٹامن اے، وٹامن سی، اور غذائی معدنیات کیلشیم اور میگنیشیم کی خاصی تعداد پائی جاتی ہے۔جبکہ ایروسک ایسڈ 33 سے 45 فیصد پایا جاتا ہے۔ اس کے بیجوں سے 30 سے 35 فیصد تک تیل حاصل کیا جاسکتا ہے جو جلانے اور پکوان کے علاوہ جلد پر ملنے کے کام آتا ہے۔ اس کا تیل اینٹی سوزش اور جراثیم کش ہوتا ہے۔

تارا میرا بطور غذا
تارامیرا کا ساگ پنجاب میں بہت شوق سے کھایا جاتا ہے۔ مولی کے چھوٹے پتوں کی طرح کے پتے سلاد میں شامل کیے جاتے ہیں۔تارا میرا کے پھول پیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔ ذائقہ اس کا تیز ہوتا ہے۔ سرسوں کے ساگ میں تارامیرا کا ساگ، پالک باتھو ڈال کر پکایا جاتا ہے، اس سے ذائقہ بہتر ہوجاتا ہے۔ جبکہ ساگ پکانے میں اس کے پھول بھی شامل کیے جاتے ہیں۔
تارا میرا کو مختلف پکوان اور اس کے بیجوں یا اس کے روغن کو مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔ جس میں لڈو یا پیڑے بنا کر کھانے، بیجوں کو کوٹ کر دودھ میں پکا کر، بیجوں کو پیس کر حاصل ہونے والا سفوف، دہی میں ملانے کے کھایا جا سکتا ہے۔ اس کے تیل میں بنا کھانا یااس میں تلے ہوئے پکوڑے کھانے سے جسم کے درد میں آرام آتا ہے۔

تارا میرا بطور دوا
اطباء حضرات بیج کوٹ کر دودھ میں پکا کر کھویا بن جانے پر چینی ملا کر پیڑے بناتے تھے۔ ایک دو پیڑے کھلا کر چائے یا لسی پینے کو کہتے ہیں، اس سے معدہ صحیح کام کرنے لگتا ہے۔
حکماء اسے کئی طریقوں سے استعمال کرتے ہیں۔ خون بڑھانے، مردانہ کمزوری دور کرنے، ریح کا درد اور قبض دور کرنے کے لیے زمانہ قدیم سے تارامیرا کے بیج استعمال کیے جا رہے ہیں۔

جسم کی نشو و نما
پہلوان تارا میرا کے تیل کی مالش بھی کرواتے ہیں تاکہ ان کا جسم سڈول اور مضبوط رہے۔ان کا کہنا ہے کہ تارا میرا کے تیل سے جسم کی مالش بہت سکون ملتا ہے اور جسم کی نشو ونما ہوتی ہے۔

تارا میرا کا تیل گرتے بالوں کا موثر علاج
ابھی حال ہی میں پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ و ماڈل اور میزبان فضا علی نے اپنے مداحوں سے گرتے بالوں کو روکنے کے لیے ایک خاص تیل کی ترکیب شیئر کی۔ اداکارہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں وہ اپنی بیٹی کے بالوں میں تیل لگا رہی ہیں جبکہ ایک خاتون فضا علی کے بالوں میں تیل لگا رہی ہیں۔

فضا علی کی جانب سے شیئر کی جانے والی ویڈیو میں اُنہوں نے تیل بنانے کے اجزا اور تیل بنانے کی ترکیب بتائی۔

1 2اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button