پاکستان سے

تحریک انصاف کا عائشہ گلالئی کو 3 کروڑ کے ہرجانے کا نوٹس

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے عائشہ گلالئی کے الزامات پر انہیں 3 کروڑ ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوا دیا۔

عائشہ گلالئی کو یہ قانونی نوٹس تحریک انصاف کے میڈیا کوآرڈینیٹر جاوید بدر نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر الزامات لگانے پر بھیجا۔

قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ عائشہ گلالئی، عمران خان پر لگائے گئے الزامات کو 10 دن کے اندر ثابت کریں، بصورت دیگر معافی مانگیں اور 3 کروڑ روپے ہرجانہ ادا کریں۔

قانونی نوٹس احسن جاوید ایڈووکیٹ کی وساطت سے عائشہ گلالئی کے مستقل پتے اور پارلیمنٹ لاجز پر بھجوایا گیا ہے۔

’گلالئی نے عمران خان پر الزام لگانے کیلئے 5 کروڑ مقرر کیے‘

— فوٹو: ڈان نیوز

قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران اپنی پارٹی کی روایتی حریف پارٹی مسلم لیگ (ن) پر الزام لگایا کہ اس نے پی ٹی آئی کے چیئرمین کی ذات کو نشانہ بنانے کے لیے عائشہ گلالئی کا استعمال کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان الزامات میں عمران خان کی ذات کو نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا، اس سے قبل بھی متعدد سیاستدانوں کی ذات کو نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ایک سینئر صحافی کے مطابق عائشہ گلالئی نے عمران خان پر الزام لگانے کے لیے 5 کروڑ روپے کی رقم مقرر کی تھی، جو ممکنہ طور پر بڑھ بھی سکتی ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ عائشہ گلالئی مستعفی نہ ہوئیں تو الیکشن کمیشن آف پاکستان سے انہیں ڈی نوٹیفائی کرنے کی درخواست کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیر ترین نے عائشہ گلالئی کو ایک نوٹس بھیجا ہے اور ان سے قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہونے کا کہا ہے، کیونکہ انہوں نے مذکورہ نشست پر پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ عائشہ گلالئی نے آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی کی، عائشہ گلالئی کو نوٹس جاری کردیا ہے کہ وہ معافی مانگیں۔

رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ عمران خان کی کردار کشی کی گئی ہے، 97-1996 میں عمران خان جب سیاست میں آئے تو ان پر بھی حملہ ہوا تھا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ نیب نے ایل این جی کا جو ریفرنس بند کیا، وہ حدیبیہ کیس سے مختلف نہیں تھا اور مطالبہ کیا کہ جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو بھی پبلک کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ 220 ارب روپے کا شفاف استعمال نہیں ہوا، ایل این جی ریفرنس کھولا جائے جس میں نیب شریک جرم ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے نوازشریف کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا نوٹس کیوں جاری نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کے اکاؤنٹ میں ایک رات میں 88 کروڑ روپے کہاں سے آئے؟ منی لانڈرنگ میں پورا خاندان شامل ہے۔

پی ٹی آئی کی رہنما عالیہ حمزہ پریس کانفرنس کررہی ہیں—فوٹو: ڈان نیوز

بعد ازاں پی ٹی آئی کی رہنما عالیہ حمزہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عائشہ گلالئی کے الزامات کا جواب وہ دیں گی، گلالئی کہتی ہیں خان صاحب مغربی اقدار لانا چاہتے ہیں، گلالئی پہلے آپ اپنا گھر دیکھ لیں پھر بات کریں۔

عالیہ حمزہ نے عائشہ گلالئی کے دعوؤں کے حوالے سے کہا کہ میں انجینیر اور کور کمیٹی کا حصہ ہوں، ہمیں پارٹی میں عزت دی جاتی ہے، انہوں نے سوال کیا کہ عائشہ گلالئی اگر آپ کو پیغام 2013 میں ملا تواس وقت پریس کانفرنس کیوں نہ کی؟

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی خواتین کو عزت دینا جانتی ہیں، کے پی میں ڈپٹی اسپیکر بھی خاتون ہی ہیں، انہوں نے دعویٰ کی کہ کروڑوں روپے عائشہ گلالئی کو دیے گئے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما نے اس عزم کا کہنا تھا کہ ہم اپنے چیئرمین عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے عائشہ گلالئی سے سوال کیا کہ اگر پیپلزپارٹی میں عزت تھی تو اسے چھوڑ کر مشرف کی پارٹی کیوں جوائن کی اور بعد میں پی ٹی آئی میں شمولیت کیوں اختیار کی۔

یاد رہے کہ کہ گذشتہ روز عائشہ گلالئی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں پہلے پیپلز پارٹی کا حصہ تھی جہاں خواتین کی عزت کی جاتی ہے، لیکن تحریک انصاف میں کچھ اور ہی ماحول دیکھا، پی ٹی آئی کے ماحول سے بہت سی خواتین پریشان ہیں جبکہ تحریک انصاف میں عزت دار خواتین کی کوئی جگہ نہیں ہے۔‘

انہوں نے پارٹی چیئرمین سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’عمران خان پر مغربی ماحول کا اثر ہے، وہ شاید پاکستان کو انگلینڈ سمجھتے ہیں اور پاکستان میں مغربی ثقافت لانا چاہتے ہیں، ان کا اپنی عادتوں پر کنٹرول نہیں اور وہ غلط ٹیکسٹ میسجز کرتے ہیں۔‘

عائشہ گلالئی نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک پر بھی الزامات لگاتے ہوئے انہیں صوبے کا ڈان قرار دیا تھا۔

Leave a Reply

Back to top button