انٹرویوز

تخلیق کار کبھی باہر کی دنیا سے نہیں ڈرتا۔۔۔۔۔ محمد عاصم بٹ

معروف ناول نگار، افسانہ نویس اور مترجم کا راجا نیئر سے مکالمہ
اردو ادب کے موجودہ عہد میں بہت کم لوگ ایسے ہے جو نثر کے ساتھ انتہائی سنجیدگی سے وابستہ ہیں، انہیں معدوے چند لوگوں میں محمد عاصم بٹ بھی شامل ہیں۔ محمد عاصم بٹ نے 90ء کی دہائی میں افسانہ نگاری شروع کی، ان کے پہلے افسانوی مجموعہ 1998ء ”اشتہار آدمی“ نے ادبی حلقوں میں خصوصی توجہ حاصل کی۔ وہ جدید انداز فکر کے لکھنے والوں میں شمار کیے جانے لگے۔ ابھی محمد عاصم بٹ کے افسانوی اسلوب اور موضوعات کی پرکھ جاری تھی کہ انہوں نے 2001ء میں ”دائرہ“ کے عنوان سے ایک خوبصورت ناول لکھ کر اپنی شناخت کو وسعت دی۔ ”دائرہ“ عام آدمی کی زندگی پر محیط ایک خوبصورت اور دلچسپ کہانی ہے جو خصوصی طوپر اندرون لاہور میں ہونے والی دن بہ دن کی ثقافتی، سماجی اور تہذیبی رنگا رنگی سے مرصع ہے۔ اس ناول میں بیک وقت تحیّر، اسرار اور فینسٹی ہویدا ہوتے ہیں۔ پھر 2009 ء میں ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ ”دستک“ شائع ہوا جس نے نئی نسل اور ادبی حلقوں کو چونکا دیا۔ پھر یکایک محمد عاصم بٹ نے اپنے لاہوری ہونے سے فائدہ اُٹھایا اور جدید انسان کے وجودیاتی مسائل کو شہری زندگی کے پس منظر میں نہایت چابکدستی کے ساتھ پیش کیا۔ اُنھوں نے 2014ء میں ناتمام ”ناول“ شائع کیا تو اس ناول نے ”یو بی ایل ایوارڈ 2015ء“ اور پروین شاکر ایوارڈ حاصل کیا۔
محمد عاصم بٹ نے ”کافکا“ اور ”بورخیس“کے منتخب افسانوں کا اُردو ترجمہ کیا۔ دونوں افسانہ نگاروں کے انگریزی تراجم سے استفادہ کرتے ہوئے عاصم بٹ نے اردو تراجم کو وسعت بخشی۔ ابھی حال ہی میں ان کا نیا ناول ”بھید‘’شائع ہوا ہے جو کہ خالصتاً تجرباتی انداز کا ناول ہے جس میں ہیئتی اور اسلوبیاتی تجربات کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔ مستنصر حسین تارڑ کے بقول ”محمد عاصم بٹ کا یہ ناول اُرد وادب میں شاید بھول بھلئیوں کی واحد مثال ہے“۔ اُردو کے ممتاز ناول نگار عبداللہ حسین پر واحد تنقیدی کتاب بھی انہوں نے لکھی جو اکادمی ادبیات نے شائع کی، علاوہ ازیں وہ تنقید و تحقیق کے حوالے سے کافی کتابیں لکھ چکے ہیں جن میں انتظار حسین، نیرّ مسعود، صدیق عالم، سجادحیدر یلدرم وغیرہ جیسے اہم لوگ شامل ہیں۔ آئیے! محمد عاصم بٹ سے کیا گیا مکالمہ آپ کی نذر کرتے ہیں۔
سوال: آپ کے خیال میں برصغیر میں اہم ناول نگار کون کون سے ہیں؟
عاصم بٹ: رتن ناتھ سرشار نے اگر چہ داستان کے انداز میں ”فسانہئ آزاد“ لکھا تاہم یہ ناول کی ایک خوبصورت طرز تھی۔ ڈپٹی نذیر احمد کے ناول بھی اس صنف کی اوّلین خام صورت تھے۔ بحر حال ”امراؤ جان ادا“ میں مرزا ہادی رسوا نے ایک کردار کی داخلی دنیا کو نہایت چابکدستی کے ساتھ دریافت کرتے ہوئے اس دور کی تہذیبی شناحت اور زندگی کو بھی متعارف کیا۔ میرے نزدیک یہ اردو ادب کا پہلا ناول ہے۔ تاہم اُردو ادب پر اثرات مرتب کرنے والا پہلا ناول نگار جس میں وسیع امکانات پائے جاتے ہیں، وہ پریم چند ہے۔ بلاشبہ ان کے ناول کو اردو کی عظیم روایت کا پہلا سنگ میل کہا جا سکتا ہے لیکن بلامبالغہ قرۃ العین اردو ادب کی سب سے بڑی ناول نگار ہیں۔
سوال: کیا وجہ ہے کہ نئی نسل قرۃ العین اور بانو قدسیہ کے ”راجہ گدھ“ کو پڑھنے سے بالعموم ناگواری کا اظہار کرتی پائی جاتی ہے؟
عاصم بٹ: اسے ہم اپنی اورنئی نسل کی بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے ان کا مزاج بہتر طریقے سے Develop کرنے کی کوشش نہیں کی۔ یہی حال کلاسیکی موسیقی کا بھی ہے۔ ہمارے ہاں ناول کا جو سفر ہے وہ خاصہ شکستہ ہے، اگر نثر لکھنے والے مسلسل ناول کی نشوونما میں بہتر کردار ادا کرتے تو ایسا ممکن نہیں تھا۔
سوال: اس کی بنیادی وجہ کیا ہے۔۔۔۔ آپ کے خیال میں ہماری سوسائٹی پر یہ کس قسم کے اثرات ظہور پذیر ہوئے؟
ؑعاصم بٹ: اس کی بنیادی وجہ تو جمہوریت کے راستے میں رکاوٹ لانے والے عناصر ہی نہیں۔ آمریت کے دوارن بے جا پابندیاں اور اظہار رائے پر قدغن شعر کی نسبت نثر پر ہمیشہ زیادہ رہی ہیں۔ یوں ہم نے ہر دس پندرہ سال کے بعد ناول میں نئے سرے سے سفر کا آغاز کیا۔ فنون لطیفہ کو آزادی اظہار اور بھرپور تخلیقی عمل کے لیے بہتر ماحول چاہئے۔ ہر قسم کی پابندیوں اور مزاحمتی افعال سے روک تھام اعلیٰ ناول کی تخلیق کے لیے ضروری ہے۔ ہمارے لکھنے والوں کو آمریت کے ادوار میں مجبوراً علامتی اور مزاحمتی انداز اختیار کرنا پڑا جس سے قاری کا مزاج گڑبڑا گیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ بلاتعطل گیارہ سال سے جمہوری دور قائم ہے، گو کہ عوام کے تحفظات موجود ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں تسلسل کے ساتھ جمہوریت اپنا سفر جاری کر چکی ہے۔
سوال: آپ نے افسانے سے ناول کی طرف بہت جلد مراجعت کر لی، اس کی کوئی خاص وجہ؟
عاصم بٹ: اگرچہ دونوں اصناف فکشن ہی کی ذیل میں آتی ہیں تاہم دونوں میں مہارت کے حوالے سے واضع فرق موجود ہے۔ جیسے ”منی ایچر“ کی مصوری اور نیچرل تصویر کشی جسے ”لینڈ اسکیپ“ کہتے ہیں، ہر دو کے دیکھنے، بنانے حتی کہ ٹولز تک میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔ کہانیاں میں اب بھی لکھ رہا ہوں اور میرے خیال میں کہانی لکھنے کے لیے زبان و بیان پر مضبوط گرفت کا ہونا بحرحال بہت ضروری ہے۔ خیال و فکر اور موضوعاتی نفاست بھی ہمارے لکھے ہوئے کو بہتر پذیرائی مہیا کرتی ہے۔ یہ لکھنے والے پر منحصر ہے کہ اس کا مزاج افسانے، کہانی یا ناول میں سے کسے چُنتا ہے۔ موضوعات بھی افسانے یا ناول میں سے کسی ایک کی طرف لکھنے والے کو بہا کر لے جاتے ہیں۔ البتہ لکھنے والا اپنے کردار اور کہانی کے منطقی انجام کو خود طے کرتا ہے۔
سوال: ہمارے ہاں اعلیٰ سطح پر دونوں اصناف میں کس پر بہتر کام ہوا ہے؟
عاصم بٹ: راجا صاحب! اُردو میں صرف دو اصناف ایسی ہیں جن میں ہم نے نہایت اعلیٰ درجے کا ادب پیدا کیا ہے، جنہیں آپ نہایت اعتماد کے ساتھ عالمی ادبی منظر نامے میں پیش کر سکتے ہیں۔ وہ ہیں: افسانہ اور غزل۔ ناول کے لیے ابھی آزاد فکری اور سماجی ماحول کی بہتری کا انتظار ہے۔ ناول لکھنے کے لیے صرف ادب ناکافی ہے۔ دیگر علوم فلسفہ، نفسیات، تاریخ، سائنس اور سماجی علوم پر دسترس ہونا یا کم از کم آگاہی بہت ضروری ہے۔
سوال: آپ کے نزدیک نئی نسل میں اہم فکشن کے نمائندہ تخلیق کار کون کون سے ہیں؟
عاصم بٹ: میں صرف ناول کی بات کروں گا کہ یہ امر باعث مسرت ہے کہ گزشتہ ربع صدی میں خصوصاً ناول کے حوالے سے قابل ذکر کام کرنے والے بہت سے نئے نام سامنے آئے ہیں۔ ان کی فہرست خاصی طویل ہے۔ چند نام جو فوری ذہن میں آرہے ہیں ان میں اختر رضا سلیمی،آزاد مہدی، علی اکبر ناطق،آمنہ مفتی، سید کاشف رضا اور رفاقت حیات کے نام قابل ذکر ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر جمہوری عمل یونہی بلاتعطل جاری رہتا ہے تو دیگرفنون اور ادبی اصناف کے ساتھ خاص کر ناول اور نظم کی اصناف بھی وسیع انداز کے ساتھ ظاہر ہوں گی۔
سوال: آپ زیادہ تر اندرون لاہور ہی کے موضوعات پر لکھتے ہیں، آخر اس کی کوئی خاص وجہ؟
عاصم بٹ: کوئی بھی لکھنے والا سبھی موضوعات پر نہیں لکھ سکتا اور نہ ہی اسے ایسی کوشش کرنی چاہئے۔ جس منظرنامے کو میں نے بسر کیا۔ عمر کا ایک بڑا حصہ اس میں گزارا اور جو میرے اندر رچا بسا ہے، میں اس کا ایک حصہ ہوں میں۔ اگر اسے لکھنے کی کوشش نہ بھی کروں تو بھی وہ میرے اندر راستہ بنا لے گا، جنم لے گا۔۔۔ فکشن نگار کے لیے ہمیشہ اس کا منظرنامہ، لوکیل بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ جس میں بیٹھ کر وہ کرداروں اور واقعات کے مختلف مناظر اور کہانی کو بناتا ہے۔ البتہ شاعری میں ایسا نہیں ہوتا۔
سوال: لیکن آپ اسی منظرنامے کے موضوعات اور کردار کسی نئی اور ان دیکھی دنیا میں بھی تو دکھا سکتے ہیں تاکہ”گلوبل عاصم بٹ“ کا تصور مضبوط ہو۔ اور آپ بھی یکسانیت کے بوجھ سے آلودہ نہ ہوں؟
عاصم بٹ: راجا صاحب میرا چوتھا ناول جو زیر تحریر ہے، وہ لاہو رکے منظر نامہ سے ہٹ کر لکھنے کی ایک کوشش ہے۔ اس میں میرا موضوع بھی سابقہ موضوعات سے مختلف ہے اور منظر نامہ اور کردارا بھی ایک ایسے شہر سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنی تہذیبی اقدار اور جغرافیائی حوالے سے قطعی مختلف ہے۔
سوال: آپ نے تراجم کے لیے کافکا کو ”چنا“ کوئی خاص وجہ؟
عاصم بٹ: کوئی خاص وجہ نہیں البتہ میں نے کافکا کی ایک کہانی پڑھی تو اس کا ترجمہ کر لیا پھر اس کا ناول ”ٹرائل“ پڑھا تو میں اس کا گرویدہ ہو گیا۔ پھر اس کے بعدکافکا کو جتنا پڑھا اسے ترجمہ کرتا چلا گیا۔ کافکا کے ہاں انسانی صورتحال بہت عجیب ہے۔ اس کا کوئی کردار بھی نارمل کردار کا حامل نہیں۔ یہ کافکا کے فن کی ایک واضع کوشش ہے جس کے لیے اس نے شعوری سطح پر عملدارآمد کیا۔ لیکن اس کے ہاں کرب اور اضطراب کی ایسی شدت موجود ہے جو اسے کردار کے باطن میں اُترنے پر مجبور کرتی ہے اور وہ قاری کو انسانی ذات کے ایسے گوشوں تک لے جاتا ہے جس تک ادب کے قاری کی قبل ازیں رسائی ناممکن تھی۔
سوال: بورخیس اور کافکا میں بنیادی فرق کیا ہے…… آخر کافکا کے بعد اسے ترجمہ کے لیے آپ نے منتخب کیا؟
عاصم بٹ: بورخیس کے ہاں بھی ہمیں انسانی صورتحال کا عجب اور نرالا انداز دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ بورخیس کے کردار عام لوگ بھی ہوتے ہیں لیکن صورتحال کی پیچیدگی انہیں منفرد اور مختلف بنا دیتی ہے۔ بورخیس کے ہاں فلسفیانہ گہرائی بہت زیادہ ہے۔ اس کی کہانیوں کے پلاٹ ریاضیاتی پیچیدگی کے حامل ہیں اور کافکا ہی کی طرح وہ بھی اسرار پسند ہے۔ یہ دونوں لکھنے والے میرے باطنی مزاح سے ہم آہنگی رکھتے ہیں اس لیے میں نے ان کو ترجمہ کیا۔ میرا ذاتی انداز اور فکشن بھی تو اسرار، تحیر اور فینسٹی کے رنگوں سے مرصع تصویریں پیش کرتا ہے۔
سوال: اپنے ہاں موجود تخلیق کار سے کوئی اختلافی مسائل کبھی کبھار جنم لیتے ہیں؟
عاصم بٹ: ہا ں ایسا اکثر ہوا ہے۔۔۔ تخلیق کار کبھی باہر کی دنیا سے نہیں ڈرتا۔۔۔ البتہ کئی مواقع ایسے آجاتے ہیں جب آپ اپنے اند رکے تخلیق کار کو اس حد تک اجازت نہیں دے سکتے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ ایسی صورت میں آپ اسے مکمل طور پر رد تو نہیں کرتے مگراسے پچکار کر اظہار کے ایسے راستے پر ڈال دیتے ہیں جہاں آپ خود کو سوسائٹی اور مملکت کی پابندیوں اور ناپسندیدگی سے کسی حد تک بچا سکیں تاہم اس میں اطمینان کا پہلو یہ بھی ہے کہ اس تخلیقی شخص کی اس مسلسل نظر انداز کیے جانے کے باوجود موت واقع نہیں ہوتی۔ کئی جگہ پر وہ اصرار کر کے اپنی بات منوا لینے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button